پی ڈی ایم کا اصل بیانیہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گوجرانوالہ اور کراچی میں حکومت مخالف سیاسی جلوسوں میں ثابت ہوا کہ ’جمہوریت میں بندوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا، حکومتی ترجمانوں کی زیادہ ترتوجہ شرکا کی تعداد گننے پر رہی، انہیں اس امر سے غرض نہیں کہ ریاست مخالف بیانیہ پر جارحانہ روش، ناتواں جمہوریت کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ حکومت کا کام اپوزیشن کے الزامات و احتجاج کا دفاع کرنا ہوتا ہے، اگرحزب اقتدار بھی جارحانہ انداز اختیار کرلے تواشتعال نگیزی اور تشدد بڑھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں میں ایک نمایاں فرق یہ رہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی میزبانی میں سینٹرل پنجاب میں ہونے والا جلسہ ان کے مضبوط سیاسی گڑھ میں منعقد ہوا، جب کہ صوبائی حکومت ان کی مخالف تھی۔ کراچی میں ہونے والا جلسہ روایتی طور پر ہر 18 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، تاہم پی ڈی ایم کی تحریک کے بعد اس کی اہمیت اس حوالے سے بھی بڑھ گئی، کیونکہ کراچی، پی پی پی کا روایتی مضبوط سیاسی گڑھ نہیں لیکن ا ن کی صوبائی حکومت ضرور ہے، اس لئے جو رکاوٹیں یا مسائل گوجرانوالہ جلسے میں ہوئے، یہاں جلسہ کامیاب کرانے میں پی پی پی کو دشواری کاسامنا نہیں کرنا پڑا۔

یہ پی ڈی ایم کے جلسوں کا ابتدائیہ ہے، تحریک کا عملی بیانیہ فی الوقت یہی سامنے آیا ہے کہ وزیراعظم کو اقتدار سے فارغ کر کے قومی حکومت کے تحت ’شفاف‘ انتخابات کرانے ہیں، حزب مخالف کے نزدیک یہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل ہے کہ مڈٹرم انتخابات کرائے جائیں۔ جب کہ حکومت کو امر کا اتنا ہی یقین ہے جتنا حزب اختلاف کو، کہ جلسے جلوس سے حکومتیں گرائیں جاتی تو عمران خان، طاہر القادری اور خادم رضوی کئی بار گرا چکے ہوتے۔

عمران خان جانتے ہیں کہ انہیں جلسے جلوسوں سے گھر نہیں بھیجا جاسکتا، لیکن خفیف سراسمیگی ضرور ہوگی کہ، عوامی رائے متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بھی اپنے احتجاجی دور میں تبدیلی کا نعرہ دے کر جتنے بھی چھوٹے بڑے جلسے کیے اور الیکٹرانک میڈیا سمیت سوشل میڈیا نے جو فضا قائم کی وہ سیاسی سوچ کی تبدیلی کا باعث بنی، یقینی طور دو جماعتی اقتدار کے تصور کا خاتمہ ہوا اور، روایتی حریفوں کے سامنے پی ٹی آئی بڑی فریق کر سامنے ابھری۔

یہ الگ بحث ہے کہ عمران خان نے زمینی حقائق کو سمجھے بغیر کئی ایسے دعوے کردیے، جو قریبا ناممکنات میں سے تھے، انہوں نے عوام میں خوشنما خواب کو بڑی تزئین کے ساتھ پیش کیا، لیکن اس کی تعبیر ان کی منشا کے مطابق نہیں ہوئی، اس کی جو بھی وجوہ ہوں لیکن سیاسی پنڈت اس امر پر متفق ہیں کہ وزیراعظم کی ٹیم میں وہ اہلیت نہیں جو کسی پھنسے ہوئے میچ کو نکالنے کے لئے میچ ونر کھلاڑی کی خاصیت ہوتی ہے۔ دوسری جانب عمران خان حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوئے اور کئی اہم معاملات میں انہیں اپنے ہی رفقا ء سے مایوسی، بدعہدی اور کرپشن جیسے سنگین امور کا سامنا ہے، ٹائیگر فورس کنویشن میں نئے عمران خان کے جارحانہ انداز پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ یہ حسب توقع ردعمل تھا۔

پی ڈی ایم کے جلسوں سے سیاسی ہل چل ضرور پیدا ہوئی، لیکن بھرپور مزاحمتی تحریک بننے کے لئے انہیں اپنے بیانئے میں میانہ روی، اعتدال پسندی اور عوامی ایشوز کو جگہ دینی ہوگی۔ مملکت کے ریاستی ادارے وطن عزیز کی حفاظت کے ضامن ہیں، ان کے سربراہان پر الزامات، دارصل اداروں کی پالیسی پر سوالیہ نشان اٹھانا ہے۔ کیونکہ آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی فرد واحد کا نام نہیں بلکہ پالیسی ساز ادارے کا نام ہے، یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہر دور کے حکمران و سیاسی جماعتیں ان سے مستفید ہوتی رہی ہیں۔

دوسرے ورچوئل خطاب میں ایک مرتبہ پھر مسلح افواج اور آئی ایس آئی سربراہان کے خلاف بیانیہ دوہرایا گیا، جو فوج مخالف حلقوں میں تو مقبول ہوا، لیکن عمومی طور پر اس قسم کی تقاریر کو تعمیری و مثبت نہیں لیا جاتا اور ان کے نتائج بھی اچھے نہیں نکلتے۔ اداروں پر تنقید اگر پاکستان میں رہتے ہوئے کی جائے تو اس پر اتنے سوالیہ نشان نہیں اٹھتے جو بیرون ملک بیٹھ کر ’انقلابی‘ بننے پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بالخصوص برطانیہ کی سرزمین سے پاکستان مخالف تقاریر و سازشوں کا پھیلا جال اس قدر گنجلگ ہے کہ ریاست کے لئے وطن فروشوں کو قانون کی گرفت میں لاناناممکن رہا ہے۔ ان حالات میں ریاستی اداروں کو متنازع بنانے کا بھرپور فائدہ صرف وطن دشمن عناصر کو پہنچ سکتا ہے۔

پی ٹی آئی اور ان کے اتحادیوں کی حکومت پارلیمنٹ میں صرف چند نشستوں پر ٹکی ہوئی ہے، حزب اختلاف اپنی صفوں میں ایسے اراکین کے خلاف کارروائیاں کرنے میں ناکام یا مجبور ہیں، جنہوں نے ان کے اپنے بیانئے کو ٹھوکر ماری، اگر ان کے اپنے اراکین و رہنما اپنے بیانیہ سے مخلص ہوتے تو انہیں سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اب جب کہ یہ آچکے اور یہ بھی واضح کر رہے ہیں کہ دسمبر یا جنوری میں موجودہ حکومت نہیں رہے گی، تو یہاں محسوس کیا جاسکتا ہے کہ وہ بھی اس ٹھوس حقیقت پر یقین رکھتے ہیں کہ فوری طور پر پی ٹی آئی کو دھچکا نہیں دیا جاسکتا، ان حالات میں اگر وفاق نے عوام کے دیرینہ مسائل حل کردیے تو ان کی ساری مشق ضائع بھی ہو سکتی ہے۔ حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے سب سے پہلے تو انہیں اپنی صفوں میں ایسے اراکین اسمبلی کو فارغ کرنا ہوگا جنہوں نے ان کے بیانئے کا کبھی ساتھ نہیں دیا۔

پنجاب اور سندھ کے بعد پی ڈی ایم بلوچستان بھی جائے گی اور توقع یہی ہے کہ کوئٹہ جلسے میں بھی کارکنان کی بڑی تعداد شرکت کرے گی، تاہم عوام اور کارکنان اس وقت تک ضرور یہ چاہیں گے کہ کیا حکومت کو گھر بھیجنا، واقعی ان کے مسائل کا حل ہے یا پھر مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس وقت اہم امرقابل توجہ ہے کہ عوام اور کارکنان ایک صفحے پر ہیں یا نہیں۔ کارکنان اپنی پارٹی قیادت کے حکم پر جیسے تیسے جلسوں میں آہی جاتے ہیں، لیکن عوام کی حقیقی شرکت کاغیر جانب داری سے تجزیہ کرنا ہوگا۔

فی الوقت حکومت عوام کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے پر توجہ دے، ا ن کے پاس اب بھی مہلت کا لمحہ ہے، جب کہ دوسری جانب پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں ایسے بیانئے کو اپنا ایجنڈابنانے سے گریز کریں جس سے ریاستی اداروں بالخصوص مسلح افواج مخالف جذبات ابھارنے کی لمحاتی غلطی کی جا رہی ہے، لمحوں کی غلطی کی سزا کسی ایک فرد یا ادارے کو نہیں بلکہ ملک و قوم کو بھگتنا پڑتی ہے۔ جو ایشو ہیں انہیں سیاسی طور پر حل کریں۔ ریاست مخالف بیانیہ کو حقیقت پسندانہ نہیں بلکہ شکست خوردہ مایوسی کے فروعی جذبات کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •