صادق و امین وزیر اعظم کو تاریخ کی گواہی دینے پر سلام۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ و سیاست کے طالبعلم خوش قسمت ہیں کہ انہیں تاریخی حقائق کی سند کے لیے صادق و امین گواہی مل رہی ہے۔ آج تک کہا جاتا رہا کہ جو اقتدار سے محروم ہو جاتا وہ سیاستدان ایسٹیبلشمنٹ پر حملے کرتا ہے اور جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت کے الزام لگاتا ہے۔ آج کل سیاسی گرما گرمی بڑھی تو ”غدار“ نواز شریف اور کرپٹ سیاسی ٹولے نے ببانگ دہل ہماری مقدس ایسٹیبلشمنٹ پر الزامات کا کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوشش کی جسے محب وطن پاکستانیوں نے ”مین آن ہارس“ سے اندھی محبت کی تاریخی روایت کی تقلید میں رد کر دیا۔

اپوزیشن بونی، جھوٹی اور کرپٹ ہے اس کی گواہی تاریخ کی سند نہیں ہو سکتی۔ تاہم پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کردار کے لیے عدالت عظمیٰ کی ”صادق و امین“ کی سند رکھنے والے ٹائیگرز کے وزیر اعظم عمران خان جو کہتے ہیں اسے سیاسی مقلدین حق سمجھتے ہیں اور ان کی بات پر پس چلمن حلقوں کو بھی کھلا اعتماد ہے اس لیے ان کی باتوں پر یقین نہ کرنا اور اس سے اختلاف کرنا ”غداری“ کی زمرے میں آتا ہے۔ حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے وزیر اعظم کی کہی باتوں پر سو فیصد یقین کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

وہ بجا فرماتے ہیں کہ نواز شریف جنرل ضیاءالحق کی پیداوار ہے۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ضیاءالحق کو مالی رشوت دے کر نواز شریف اقتدار میں آئے۔ فرمایا یہ بھی جاتا ہے کہ نواز جنرل کیانی سے ساز باز کر کے حکومت بنا پایا۔ یہ پرانی باتیں ہیں۔ سچے وزیر اعظم نے یہ فرما کر تازہ سند فراہم کر دی ہے کہ 2018 ء کے الیکشن بھی ”جنرل“ کے ہاتھوں میں تھے کہ جب خواجہ آصف عوامی ووٹوں سے ہارنے لگا تو اس نے جنرل کو فون کیا ان کی تسلی کے بعد وہ الیکشن جیتا۔ یہ بہت بڑا سچ ہے اور اتنا ہی کافی ہے ورنہ شعلہ بیانی کی جو روانی ہے اس میں کسی روز جنرل پاشا، جنرل راحیل اور جنرل ظہیر السلام کا بھی ذکر آجانا ہے۔

پھر ہر دلعزیز وزیر اعظم نے فرمایا کہ اب مخالفین کو جیلوں میں ڈالیں گے یعنی انصاف بھی عدلیہ نہیں ایگزیکٹیو دے گی۔ مقرر وزیر اعظم کا فرمان تھا کہ اب کسی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جائیں گے۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے کمال مہارت سے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کے اختیارات کا مرکز بھی اپنی ذات کو قرار دیا۔ اس بات نے اسپیکر اور چیئرمین سینٹ کے عہدوں کے ساتھ وابستہ غیر جانبداری کا بھی پول کھول دیا۔

اب وزیر اعظم کے فرمان کی روشنی میں یہ کہنا کہ جنرل سیاست و انتخابات میں مداخلت کرتے ہیں۔ نواز شریف ہو یا شاہ محمود قریشی کے والد سید سجاد محمود قریشی کا اسی دور میں گورنر پنجاب بننا سب جنرل ضیاءالحق کے اختیار کی جنرل جیلانی کی کرامت تھی۔ اس سچ کو تاریخ کے ڈاٹس ملانے کے لیے کام میں لایا جائے تو جنرل اسکندر مرزا، جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل احتشام ضمیر سے ہوتے ہوئے ڈانڈے جنرل کاکڑ، جنرل مشرف، جنرل کیانی، جنرل پاشا سے ہوتے ہوئے وزیر اعظم کے بقول خواجہ آصف کے الیکشن جیتنے تک آ ملتے ہیں۔

یہ تو وہی الزام ہے جو اپوزیشن لگارہی ہے۔ کیا اس بیانیے میں وزیر اعظم اپوزیشن کے ساتھ ایک پیج پر دکھائی دیتے ہوئے یہ بھول گئے کہ وہ کسی اور کے ساتھ ایک پیج پر ہیں؟ وزیر اعظم صادق و امین ہیں ان کی بات سے اختلاف کہیں توہین عدالت نہ قرار پائے اس لیے وزیر اعظم کے جنرلوں کے الیکشن و سیاست میں مداخلت کو تسلیم کرنا پڑرہا ہے۔ حالانکہ مجھے ”غدار“ اپوزیشن کے ایسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے بیانیے سے کھلا اختلاف ہے۔

میں اپوزیشن اور نواز شریف کے بیانیے کو رد کرتا ہوں لیکن وزیر اعظم کی حقیقت پسندانہ تقریر کے ان حقائق سے اتفاق کیے بغیر رہ نہیں پا رہا۔ اسی طرح آج کے جمہوری دور میں ہر کوئی قانون و عدل کی بالادستی کے گمان میں مبتلا ہے حالانکہ جمہوریت کے دعویدار وزیر اعظم نے اپنے ٹائیگرز کو گواہ بنا کر قوم پر آشکار کر دیا کہ قانون و انصاف کے اس سماج میں کیا معنی ہیں۔ وزیر اعظم ہینڈسم ہو تو، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ پشت پر کھڑے پانچ سال سے زیادہ کی ضمانت دے رہے ہوں تو جمہوری بادشاہت کا تصور بھی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی پارلیمانی نہیں صدارتی نظام کی صدا بلند ہوتی رہتی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر لکھی جانے والی سینکڑوں کتابیں، تجزیے اور حقائق ہمارے وزیر اعظم کے سچ بولنے سے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ وزیر اعظم اپنے بیان کردہ حقائق کے سے مستفید ہوتے ہوئے، جنرلز کی سیاسی مداخلت کے گواہ بھی ہیں اس لیے اب پاکستانیوں کے لیے ہر دلعزیز وزیر اعظم کی گواہی و بیان کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ تاریخ و سیاست کے طالبعلم خوش بھی ہیں اور حیران بھی کہ انہیں علمی بیانیوں کی تحقیق کے لیے سچا اور کھرا حوالہ مل گیا ہے۔ وہ وزیر اعظم کے ببانگ دہل سچ کہنے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آج تک کسی نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے وقت اعتراف حقیقت اس طرح کھلے دل سے نہیں کیا، جیسے صادق و امین وزیر اعظم نے کیا ہے۔ تاریخ کے بے رحم سچ بولنے پر وزیر اعظم کو سلام پیش کرنا تو بنتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •