ہر ملک مصر نہیں ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


محمد مرسی مصر کی تاریخ میں حقیقی معنوں میں پہلے منتخب صدر تھے ۔ان کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا جو اپنے نظریات پر کاربند رہتے ہوئے ایک طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی تھی ۔ حسن البنا شہید اس کے پہلے قائد تھے ۔ پھر کیا ہوا ؟ مصر کے کچھ جرنیل اور ان کے ہم خیال ، جمہوری مزاج اور جمہوریت کی ترقی سے ہم خیال نہیں تھے ۔

عالمی سطح پر ایک سازش رچی گئی مغربی دنیا تو مغربی دنیا بہت سارے مسلمان ممالک بھی مرسی حکومت کے درپے ہوگئے کیونکہ اخوان المسلمین کے نظریات ان کی مطلق العنان حکومتوں کے لیے ایک خطرے کے طور پر مصر کے انتخابات کے بعد مزید توانا ہو گئے تھے ۔حقیقت یہ ہے کہ ابھی بھی ہو رہے ہیں لہذا مختلف الزامات عائد کرکے محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ کردیا گیا مقدمات قائم کر دیئے گئے اور طرح طرح سے کردارکشی کی جانے لگی مگر اس سب کے باوجود کے جرنیلی طاقت اور ان کے دم چھلے  طاقت اور پروپیگنڈے کا بھرپور استعمال کر رہے تھے رائے عامہ منتخب رہنما کو ہی درست تصور کر رہی تھی اور کر رہی ہے ۔
پروپیگنڈا ریاستی طاقت اور قوت و اقتدار ان کے نظریات و وابستگی کو تبدیل نہ کر سکے ۔ جو مر سی کے ساتھ تھا وہ آج بھی ہے جب یہ حربہ ناکام ہوگیا تو ایسی صورت میں ایک الزام کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا اور وہ الزام یہ تھا کہ اخوان المسلمین دہشتگرد تنظیم ہے اور جب دہشتگرد دہشت گرد کا شور مچایا جانے لگا تو اس کے لیے اتنی لابنگ  کی گئی کہ  کچھ دیگر مسلمان ممالک نے بھی اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار دے دیا کیونکہ اس تنظیم کے نظریات کی دہشت سے یہ حکومتیں  لرزہ بر اندام ہیں ۔
لہذا حربہ یہ  اختیار کیا گیا کہ دہشت گرد کا لیبل چسپاں کر دیا جائے اخوان المسلمین کے موجودہ قائد محمد بدیع کو گرفتار کر لیا گیا ۔صرف آٹھ منٹ کی سماعت کے بعد سزائے موت سنا دی گئی اور بڑے پیمانے پر خوف پیدا کرنے کی غرض سے صرف اخوان المسلمین کے سربراہ محمد بدیع کو ہی سزائے موت نہیں سنائی گئی بلکہ ان کے  ساتھ ایک ہی وقت میں مزید   682 افراد کو بھی سزائے موت کا حکم دے دیا گیا ۔
ایک ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر سزائے موت دینے کا حکم ایک انوکھا اور دم بخود کرنے والا معاملہ بن کر آیا مگر جب ہر قیمت پر اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ عبرت بنانے کا خیال ذہن پر قابض  ہو تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اپنی عوام سے لے کر عالمی رائے عامہ ان اقدامات کے  حوالے سے کیا رائے قائم کر  رہی ہے لہذا کسی بھی منفی تصور کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اتنی بڑی تعداد کے لئے سزائے موت سنا دی گئی اس میں انتہائی دلچسپ امر یہ ہے کہ جس واقعہ  کی بنیاد پر اخوان المسلمین کو دہشت گرد قرار دیا گیا وہ واقعہ 2014 میں پیش آیا تھا۔
اس واقعے کی ذمہ داری صحرائے سینا میں قائم ایک تنظیم نے قبول بھی کر لی تھی ۔ اخوان المسلمین سے کسی قسم کا تعلق عدالت میں ثابت بھی نہیں کیا جا سکا تھا۔ عالمی میڈیا نے جو نا تو اس خوف کا شکار تھا کہ اس سے وابستہ صحافی اٹھا لیے جائیں گے اور نہ ہی ان کے دفاتر میں کوئی دن دہاڑے باوردی مسلح  گھس کر دھمکیاں دے سکتا ہے کہ انتخابات کے بعد انتخابات پر فلاں  کالم کیسے چھپ گیا نے یہی رپورٹ کیا کہ کمرہ  عدالت میں اخوان المسلمین کے خلاف کچھ ثابت نہ ہو سکا ۔مگر اس کے باوجود دہشت گرد، سزائیں، ملک دشمن اور غدار یہ سب قرار دے دیا گیا ۔
لازمی طور پر یا تو جج کو ڈرا دیا گیا ہوگا کوئی وٹس ایپ  کال آگئی ہوگی۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کیا عدالتی فیصلوں ،موت کی سزا ،دہشت گرد دہشت گرد اور غدار غدار کا نعرہ لگا کر اخوان المسلمین کی سیاسی طاقت کو توڑا جا سکا ؟ کیا یہ تنظیم تحلیل ہو گئی ؟ کیا ان کے حمایتی طبقات حقیقت میں یہ سمجھنے لگے کہ یہ دہشت گرد ،غدار یا کرپٹ ہے ؟ کیا ان کی بات سننے والوں اور اس کو تسلیم کرنے والوں کی تعداد کم ہوگی ؟ معدوم ہو گئی ؟ ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں آئے گا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔
اخوان المسلمین کی جڑیں مصر میں مزید مضبوط ہو گئی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے پروپگنڈے ،سزا اور ریاستی طاقت کے باوجود ایسا کیوں نہیں ہو سکا ؟ اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ عوام یہ  اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان تمام الزامات اور اس پروپیگنڈے کی اصل وجہ درحقیقت ان کی سیاسی قیادت اور ان کے نظریات کو سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کے لئے ہے ۔ ان عدالتی فیصلوں سے واضح طور پر ناانصافی اور بددیانتی کی بو آرہی ہے ۔
مصری عوام میں اخوان المسلمین کے حامی صرف ایک بات جانتے ہیں کہ ان کے لیڈر مصری فوج کے ہرگز خلاف نہیں ہے فوج کی قربانیوں کے معترف ہے مگر وہ جرنیلوں کی  قومی معاملات میں بالادستی تسلیم نہیں کرتے بس قیادت کا یہی قصور ہے۔ عوام کا مضبوط خیال ہے کہ ان کی قیادت نے جس مقصد کے لیے بات شروع کی ہے کے حق حاکمیت عوام کا ہے اور عوام کو ہی اپنے حکمران چننے کا حق حاصل ہے یہ بالکل درست بات ہے اور وہ جانتے ہیں کہ طاقتور طبقات کو یہی بات کھڑک بھی رہی ہے ۔
خیال رہے کہ یہ کہانی صرف مصر کی نہیں ہے بلکہ جگہ جگہ کی ہے اور ہر ملک مصر  نہیں ہوتا کہ وہاں آمریت  در آمریت قائم ہوتی چلی جائے  کچھ ملکوں میں آمر نظر بند اور جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور بھی ہوتے ہیں ۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •