پاکستان میں رائج فیملی پارٹی سسٹم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک مغربی مفکر کے بقول ”اچھا سپاہی جنگ کے پہلے ہی دن لڑ کر مر نہیں جاتا، بلکہ وہ زندہ رہتا ہے، تا کہ دشمن سے اگلے دن لڑ سکے“۔ وہ لڑنے آیا، تماشائی آئے اور میدان سجا۔ لڑائی کا پہلا دن، پر جوش نعرے اور ولولہ انتہائی عروج پر، ہر طرف چہل پہل اور مبارک باد کے پیغامات مگر یہ کیا کہ تماشائی آہستہ آہستہ منظر سے سرکنے لگے۔ غائب ہوتے سایوں نے سب کے چہروں پر تفکر پیدا کر دیا۔ تقریر نے مایوس کیا، بد ظن کیا اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔

ہماری مسلح افواج، ہمارے سر کا تاج، سرحدوں کی امین، عوام کی جان، دشمن کے لیے وبال جان، خود داری کا نشان اور اسلام کا فرمان۔ اللہ اللہ کیسے دن آ گئے، جب اپنے ہی محسنوں پر تیر اندازی کی جانے لگی۔ جس انگلی کو پکڑ کر چلنا شروع کیا تھا آج وہ انگلی ہی بوجھ لگنے لگی۔ ارے صاحب، ہم لوگ کیا جانیں! طاقت کی محبت اور محبت کی طاقت میں فرق۔ غلام ذہنوں کے زیر اثر ہم نے عقیدت، پرستش، اندھے اعتقاد و احترام اور شخصیت پرستی کی کالی پٹی اپنی آنکھوں پر باندھ رکھی ہے۔

عقیدت احترام کے سبق کے ساتھ ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب خوف ہو فوراً اپنی جبین جھکاؤ اور طاقت کے سر چشمے کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ۔ عجب اتفاق ہے کہ ہماری اندر کی دنیا میں ٹھہراؤ ہے، مگر باہر کی دنیا مسلسل تغیر پذیر ہے اور اس تغیر پذیری کے باعث ہی ہم کسی ایک نکتے پر اپنی سوچیں مرکوز نہیں کر پاتے۔ خیالات کی فراوانی اور خواہشات کی طغیانی کے بہاؤ میں بہتے بہتے انسانیت سے دور ہوتا ہوا آج کا یہ انسان دنیا میں کتنا اکیلا رہ گیا ہے۔

حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے کہا کہ میرے بھائی کو میرا رفیق بنا دو، تا کہ ہم ایک اور ایک گیارہ ہو جائیں۔ اللہ کا نبی جانتا تھا کہ اجتماعیت میں کوششیں بارآور ہوتی ہیں، جب کہ آج کا انسان دنیاوی لذتوں کا شکار ہو کراس بات کو بالکل بھلا چکا ہے۔ یاد رکھو! جس نے مخلوق کا حق کھایا اور امانت میں خیانت کی وہ ہم میں سے نہیں، یہ اسلام کا پیغام ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مہنگائی ہے، اجناس کی قلت ہے، روزگار کے مواقع نہیں، معاشرے میں عدم تحفظ کا پھیلتا احساس بھی خوش آئند نہیں۔

کورونا نے ساری دنیا کی طرح پاکستان کی بہتر ہوتی معیشت پر بھی بد اثرات مرتب کیے ہیں، نیز عمران خان کی کابینہ میں اچھے اور اہل افراد کی کمی ہے۔ ان سب باتوں کی موجودگی میں نظر نہیں آتا کہ پی ٹی آئی اگلا الیکشن جیت پائے۔ الیکشن کے موقع پر اپوزیشن کے پاس پی ٹی آئی حکومتی نا اہلی کا پورا ریکارڈ ہو گا، جسے عوام کے سامنے پیش کر کے کیش کیا جا سکے گا۔ مگر اس کے لیے انتظار کرنا ہو گا، جب کہ ادھر معاملہ کچھ یوں ہے کہ کیسوں کی لمبی فہرست ہے، ثبوتوں کے ڈھیر ہیں، گواہ تیار ہیں اور سب سے بڑی بات کہ عدالتوں نے مجرم قرار دے رکھا ہے، جب کہ اس کے مقابلے میں سزا یافتہ مجرموں کے پاس کوئی منی ٹریل نہیں، کوئی مستند دستاویز نہیں اور کوئی مناسب جواب بھی نہیں۔

مرحوم دادا جی سے ہوتا ہوا یہ سفر اب پوتے پوتیوں تک جا پہنچا ہے، مگر فکر کی بات یہ ہے کہ ہر طرف گرداب ہی گرداب ہے۔ احتساب کے سمے اور شامت اعمال کے وقت جب سب کو اپنی اپنی پڑی ہے ایسے میں اپوزیشن کا اکٹھے ہو جانا سمجھ میں آتا ہے۔ کل تک ”عمران زرداری بھائی بھائی“ اور ”مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے“ کے نعرے لگانے والے، آج ایک دوسرے کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں، مکافات عمل اور کیا ہے؟ عوام کا خون پینے والے آج صرف اپنی آل، کھال اور مال بچانے کی غرض سے گلے مل رہے ہیں۔

ایک سال تک بیک ڈور پالیسی کے تحت مسلم لیگ نون اپنے قائد میاں نواز شریف کے لیے محفوظ راستہ مانگتی رہی، مگر حتمی انکار کے بعد نواز شریف اور مریم صفدر کا موجودہ بیانیہ در اصل دشمن کا بیانیہ ہے اور یوں الطاف حسین پارٹ ٹو کی نئی قسط شروع ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کے جلوسوں میں تمام قائدین عوامی مسائل اور مہنگائی پر بہت کم اور مسلح افواج پر زیادہ تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے اس خطرناک اور ملک دشمن موقف نے اپوزیشن کی محب وطن لیڈر شپ کے ساتھ ساتھ اپوزیشن ارکان اسمبلی میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے اور اپوزیشن کے ارکان اسمبلی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کیا احتجاجی تحریک عوام کے لیے ہے یا کسی خاندان اور خاص افراد کی بقا اور بچاؤ کے لیے؟

لوگوں کی اس تحریک سے عدم دل چسپی بھی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عامتہ الناس اس حقیقت سے آشنا ہو چکے ہیں کہ عوام اور مہنگائی کی آڑ میں کھیلے جانے والا یہ کھیل جعلی ہے۔ کیوں کہ عوام اچھی طرح جان گئے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر پرائیویٹ فیملی پارٹی سسٹم رائج ہے، جہاں ریاست اور عوام کی بجائے فیملی کے ذاتی مفادات کا تحفظ اولین ترجیح ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کے سیاسی رہنماؤں کو ایسی جمہوریت چاہیے کہ جس میں سیاسی جماعتوں کی قیادت وراثتی بنیاد پر منتقل ہو، کرپشن کی آزادی ہو، میرٹ کی دھجیاں بکھیری جائیں، بے نامی اکاؤنٹس کی بھر مار ہو، ٹی ٹی ایز کا آزادانہ کاروبار ہو، ذاتی کاروبار کی اجازت ہو اور ذاتی بینک بیلنس میں ہوش ربا اضافہ ہو۔ اللہ کرے کہ پاکستان ان چوروں اور لٹیروں کی سازشوں اور چاہتوں سے محفوظ رہے۔ (آمین)۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •