میرے دیس کا بسکٹ گالا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی چیز کو قومی نشان کا درجہ حاصل ہو نے کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کی کثیر تعداد اس پہ متفق ہو۔ وطن عزیز کا قومی پھل، قومی پھول، قومی پرندہ اور قومی جانور کون سا ہے، یہ معلومات پہلے سے شعور کا حصہ ہیں۔ لیکن میرے دیس کا قومی بسکٹ کون سا ہے، یہ حقیقت چند روز قبل عیاں ہوئی۔ حال ہی میں تمغہء امتیاز حاصل کرنے والی مشہور اداکارہ مہوش حیات کے گنگناتے، رقص کرتے اشتہار میں دعویٰ کیا گیا کہ میرے دیس کا بسکٹ گالا ہے۔ بسکٹ کے درجنوں برانڈ ہیں اور ہر شخص اپنی پسند رکھتا ہے۔ یوں نا پسندی سے شروع ہونے والا یہ شور، اشتہار کے مواد سے ہوتا ہوا، پیمرا کے دروازے پہ جا پہنچا۔ پیمرا نے شکایات کا ازالہ کرنے کیا وہی پرانا حربہ اپناتے ہوئے اشتہار کے مواد پہ نظر ثانی کے حکم کے ساتھ نشریات پہ پابندی عائد کر دی۔

پیمرا کی جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق بسکٹ، سرف جیسی گھریلو استعمال کی چیزوں کی ایسی اشتہار سازی نا مناسب ہے جس میں اشتہا ر مصنوعات سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ غریب ملک کے حکمرانوں کی طرح ملک کے غریب بسکٹ کا اتنا مہنگا اشتہار بھی شاید عامتہ الناس کو ہضم نہ ہوا۔ اتنا بجٹ اگر بسکٹ کے معیار کی بہتری میں صرف ہوتا، تو شاید آج گاہک خود دکانوں پہ جا کر گالا بسکٹ کی مانگ کرتے۔ لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا، کیوں کہ دور جدید میں جو دکھتا ہے، وہ بکتا ہے۔ معیار بہت بعد کی کہانی ہے۔

ایک استاد سے اشتہار سازی کے موضوع پہ استفادہ کیا تو اشتہارات کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع ملا۔ استاد محترم نے فرمایا کہ جس چیز کا اشتہار دیکھو اس کے خالص ہونے پہ شک کرو اور حتی الامکان اس سے بچنے کی کوشش کرو۔ مثال طلب کی تو بولے بیٹا! تم کبھی سیب کا اشتہار نہیں دیکھو گے۔ ہاں سیب کے جوس کا اشتہار ضرور دیکھو گے، جس نے خود شاید سیب نہ دیکھا ہو۔ اس نظر سے بسکٹ کے اجزا کو دیکھا تو جانا کہ خالص دودھ، آٹا وغیرہ صرف بسکٹ کے کاغذ پہ ملیں گے، انہیں بسکٹ کہ اندر ڈھونڈنے میں اتنی محنت چاہیے، جتنی اشتہار کا بسکٹ سے ربط جاننے کو درکار ہے۔ استاد محترم مسکرائے اور بولے! اشتہارات کا اثر زیادہ تر پڑھے لکھے لوگوں پہ ہے۔ ان کی اس بات سے اتفاق نہ کیا لیکن سوشل میڈیا پہ پڑھے لکھے طبقے کی گالا بسکٹ کے اشتہار پہ کمینٹری دیکھی تو ان کی بات مناسب معلوم ہوئی۔

ڈراما ہو یا اشتہارات، ہم نقل کی دوڑ میں اتنا آگے آ نکلے ہیں کہ اب نقل کی بھی نقل دیکھنے کو ملتی ہے۔ ڈراما نویس اور اشتہارات کے سکرپٹ رائٹرز شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ سکرپٹ میں مزید جدت لانا ممکن نہیں۔ کیا تخلیقی صلاحیتیں اس قدر محدود ہوتی ہیں؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے دس سال پیچھے جانا پڑا۔ یہ اولپرز دودھ کا اشتہار ہے جو علامہ اقبال کی شاعری ”ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن“ پہ ترتیب دیا گیا۔ اشتہار کو دس سال کے بعد دوبارہ نکال کہ دیکھا تو اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو داد دیے بنا نہ رہ سکا۔ سوشل میڈیا پہ شیئر کر کے لوگوں کی رائے جانی تو نتیجہ نکلا کہ ایسے اشتہارات کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور یہ بنانے والے کے لئے صدقہ جاریہ ہوتے ہیں۔

اشتہار پہ تنقید کرنے والوں نے اسے معاشرتی روایات، پاکستانی ثقافت اور مذہبی اقدار کے منافی قرار دیا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بیٹھ کہ فیصلہ کر لیں کے ہم اپنی معاشرتی، ثقافتی اور ہم مذہبی اقدار پہ کس قدر عمل پیرا ہیں۔ اشتہار کے مواد پہ تنقید ہوئی تو ناقدین نے سوال اٹھایا کہ بسکٹ بیچنے کے لئے مجرا ضروری ہے؟ یہ تشریح اشتہار کے حمایت میں کھڑے صارفین کو پسند نہ آئی۔ بحث میں جب رقص اور مجرے کا فرق بیان کرنے کی باری آئی تو کسی شریر انسان نے آواز لگائی کہ یہ لغت کا وہی فرق ہے جو امیر کے لئے خارش اور امیر کے لئے سکن الرجی کا لفظ تجویز کرتی ہے۔

بسکٹ کے حق میں کھڑے افراد کے سامنے جب اقدار کی بات آئی تو انہوں نے وہی روایتی سوال دہرا دیا کہ ہمارے معاشرے کی اقدار ہیں کہاں، جس کے منافی مواد نشر کیا جا رہا ہے۔ یہ اعتراض نیا نہیں اس سے قبل بھی ایسا سوال ہوتا رہتا ہے۔ یعنی کہ کسی چیز کا دنیا میں وجود ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان احباب کے علم میں ہو۔ اگر کوئی چیز ان کے علم سے بالاتر ہو یا انہوں نے اسے پہ کبھی غور نہ کیا ہوتو معاشرے سے اس کا وجود ممکن نہیں۔

پیمرا کے جاری کردہ نوٹس میں ایک اہم بات اس بحث میں کہیں گم ہو گئی۔ پیمرا نے لکھا کہ ایسے اشتہارات کنزیومر کو پروموٹ کرتے ہیں۔ یوں اس بات سے پیمرا نے صارفین کے ساتھ سرمایہ داروں کی مخالفت بھی مول لے لی۔ جب بات کنزیومر پہ آتی ہے تو مشرق و مغرب کی اقدار کا فرق باتوں کی حد تک رہ جاتا ہے۔ پھر زمین اور لوگوں سے رشتہ ویسا نہیں رہتا۔ معاشرے کی اقدار کیا ہوں گی؟ یہ فیصلہ پھر مارکیٹ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے آج اگر کسی شخص سے اس کی انفرادی اقدار پوچھی جائیں تو سوچنے لگتا ہے پھر چند چند کتابی باتیں بتا دیتا ہے، جسے اگر امتحان میں لکھا جائے تو اچھے نمبر حاصل ہوں گے۔

بین الاقوامی اقدار کی فہرست میں جدت اول درجہ رکھتی ہے۔ موجودہ دور میں اگر آپ ہر چیز جدید نہیں رکھتے تو آپ کو دقیانوس کا لقب دیا جائے گا۔ کسی چیز کی وقعت کم کرنے کو بس اتنی دلیل کافی ہے کہ وہ پرانی ہے۔ زندگی جینے کا معیار یہ ہے کہ اشیا کا ڈھیر لگا دیا جائے۔ انسانیت کے لئے جو قربانی کا جذبہ ہوا کرتا تھا، آج اس کا قحط ہے۔ نفسا نفسی کے اس دور میں مغرب کی روایات اور ان بین الاقوامی اقدار کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے فکر اقبال درکار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •