قائد اعظم اور عوام کی توہین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ریاست کے ادارے آئین و قوانین کے تابع ہوتے ہیں۔ آئین میں ہر ادارے کا کردار متعین کیا جاتا ہے۔ اسی طرح پارلیمانی ادارہ ہے، اس کے ارکان کے انتخاب کا ایک طریقہ وضع کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی ہو، صوبائی اسمبلی، یا سینیٹ اور دیگر شعبے، سبھی ایک قانون کے تحت معرض وجود میں آئے، اور قانون کے تحت چلنے کے پا بند ہیں۔ عسکری ادارے ہوں، پولس، عدلیہ، کسٹم، مواصلاتی ادارے اور سب کے سب، آئین و قوانین کے ما تحت ہیں۔ عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوتا ہے، تو منصف اپنے ضمیر کے مطابق نہیں، قانون کے مطابق فیصلہ سناتا ہے۔ کیوں کہ قانون ہی مقدم ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ سیاست دان منتخب ہو کر عوام کی بھلائی کے اقدام کرے گا، اپنے تئیں کرتا بھی ہے۔ بری بھلی تنقید ہوتی ہے، تنقید سننا، تنقید سہنا اس کے فرائض میں شامل ہے۔ وہ غیر قانونی اقدام کرے تو عدالت اس کو سزا دے سکتی ہے۔

ہمارے یہاں یہ رواج چل نکلا ہے، کہ تنقید صرف سیاست دان پر ہو تو حق کہلاتی ہے، کسی سرکاری محکمے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا جائے، تو اعتراض اٹھتا ہے کہ ادارے مقدم ہیں، ان پر تنقید کرنے سے یہ کم زور پڑتے ہیں، چناں چہ تنقید نہ کی جائے۔ (اس سے قطع نظر کہ ادارے اور محکمے میں کیا فرق ہے)، سب ادارے یہ نہیں کہتے، مثلا: واپڈا، ریل ویز، پولس، پی آئی اے، اور اس طرح کے دیگر اداروں پر تنقید کی جائے تو تحسین ہوتی ہے، کیوں کہ عام تاثر یہ ہے کہ ان کی بری کارکردگی کے ذمہ دار محض سیاست دان ہیں۔ ظاہر ہے ان کی اچھی کارکردگی اس ادارے کے افسران کے مرہون منت ہے۔ ریاستی اداروں جیسا کہ عدلیہ اور فوج پر مثبت تنقید پر بھی ناک بھوں چڑھائی جاتی ہے۔ گویا یہ ادارے پارلیمان سے بھی معزز ہیں، جو انھیں آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

تنقید کے بھی اصول ہیں۔ اصول میں رہتے تنقید مستحسن اقدام ہے۔ بے جا و بے بنیاد الزام تراشی، تنقید نہیں بغض کہلاتا ہے۔ اب خود ہی سوچیے ہم سیاست دانوں پر جو تنقید کرتے ہیں، اس میں سے بغض کا کتنا دخل ہے اور تنقید کے اصول کتنے کار فرما ہوتے ہیں۔ محض اخباروں کے کالم اور میڈیا ہاؤس کے پروگرام ملاحظہ ہوں تو دکھائی دیتا ہے، جس ”جرات مندی و بے باکی“ سے سیاست دانوں ‌ کا مذاق اڑایا جاتا ہے، وہ تنقید ہے، بغض ہے یا کیا ہے؟

آئین و قوانین کی نفی کرنے والا ریاست کی نظر میں مجرم ہے۔ ایک سیاست دان پر مقدمہ بنوانے کے لیے آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا کی خبر ایک طرف رہی، 99 ء کی فوجی مداخلت ہی کو دیکھ لیجیے۔ آئینی وزیر اعظم اپنے اختیار کا استعمال کرتے، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرتے ہیں۔ آئینی وزیر اعظم کے فیصلے کے رد عمل میں ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جاتا ہے۔ یہ سراسر غیر آئینی اقدام کہلائے گا، خواہ کوئی بھی توضیح پیش کی جائے۔ اگر جنرل مشرف کو لگتا تھا کہ یہ فیصلہ قانون کو نظر انداز کر کے کیا گیا، تو وہ عدالت جا سکتے تھے۔ اپنے حق کے لیے قانونی راستہ منتخب کر سکتے تھے۔ ان کا موقف درست ہوتا تو عدالت ان کے حق میں فیصلہ سناتی۔ دوسری طرف دیکھیے کہ جنرل مشرف، چیف جسٹس کو معطل کرنے کا قانونی حق نہیں رکھتے، انھوں نے افتخار چودھری کو بر طرف کیا، اس کے بعد کی کہانی تاریخ کا حصہ ہے، اور اتنی پرانی بھی نہیں کہ میں یا آپ اس سے واقف نہ ہوں۔

ایک حلقے کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ مقصد عظیم ہو تو قانون توڑنے میں عار نہیں۔ اب کون سمجھ سکتا ہے کہ قانون توڑنے والے کا مقصد کیا ہے۔ ایک اور طریقہ ہے جس سے کوئی غیر آئینی اقدام آئینی نہیں ہو جاتا، لیکن نیت کی پہچان کی جا سکتی ہے۔ مثلا؛ ایوب خان، یحیی خان، ضیا الحق، پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدام کے نتیجے میں قوم نے ترقی کی ہو، ان کی پالیسیوں نے شہری کو امن چین، روزگار، عزت نفس، مساوات، تحفظ کا احساس دلایا ہو، تو شہری یہ کہ کر مطمئن ہوسکتے ہیں، کہ ہم قانون اور آئین کی باریکیوں کو کیا سمجھیں، ہم ان حکومتوں میں سکھی رہتے ہیں، لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔ نہ مساوات کی صورت پیدا ہوئی، نہ کسی کی عزت نفس محفوظ ہے، نہ تعلیم صحت کے شعبوں میں بہتری ہوئی، نا ہی روزگار کے بہتر مواقع تلاش کیے گئے۔ فوجی حکومتیں آتی رہیں، عوامی نمایندوں یعنی سیاست دانوں کو دھونس دھاندلی دباو سے ساتھ ملاتی آئیں، وہی اسمبلیاں آباد کیں، آئین میں اپنی مرضی کی ترامیم کرواتی آئیں۔ جونیجو ہوں یا ظفر اللہ جمالی؛ جس نے فوجی حکمران سے اختلاف کیا، معزول ہوا یا استعفا دینا پڑا۔

اگر سمجھا جائے کہ ریاست کے قوانین شہری کی داد رسی نہیں کرتے، موجودہ سسٹم طاقت ور کو تحفظ دیتا ہے، کم زور سے انصاف نہیں کرتا، تو ان میں اصطلاحات کا سوال اٹھانا چاہیے، ان میں ترامیم کی بات ہونی چاہیے۔ ان قوانین کو توڑ کے بر سر اقتدار آنا، ان میں ترامیم کر کے اپنی نا جائز حکومت کو جائز قرار دینا ہی کار ٹھیرا، تو نیک نیتی کہاں گئی؟

سیاسی معاملات میں غیر قانونی مداخلت جیسا کہ اصغر خان کیس سے ثابت ہے، خرابیوں کی وجہ ہے۔ بار بار کی فوجی حکومتوں نے شہری کا مزاج ایسا بنا دیا ہے، کہ وہ بجلی، گیس چوری کرنا، ٹریفک سگنل توڑنا، جعلی رسیدوں پر سرکار سے میڈیکل الاونس لینا، رشوت لینا دینا اور اس طرح کے غیرقانونی کام پوری ”نیک نیتی“ سے سر انجام دیتا ہے۔ ہر بے ایمان ”نیک نیتی“ کا نعرہ لگا کے حرام کو حلال کر سکتا ہے۔ نیک مقاصد کے نام پر آئین و قوانین کو پس پشت ڈالنے کی سوچ نے، ہر بد نیت کو اپنے اعمال کا جواز فراہم کر دیا ہے، لیکن ریاست کی نظر میں نیک نیتی کچھ بھی نہیں۔ اگر نیک نیتی کچھ ہے تو آئین و قوانین کی پاس داری ہی ہے۔

مملکت پاکستان عوام کا اپنے نمایندوں پر بھروسا کرنے سے معرض وجود میں آئی۔ اس کے وارث عوام ہیں، کوئی ایک دو ادارے نہیں۔ عوام کے فیصلوں کی توہین سے بنگلا دیش تو بن سکتا ہے، ملک ٹوٹنے سے نہیں بچایا جا سکتا۔ قائد اعظم کو پاکستان کا مینڈیٹ دینے والے عوام کی توہین در اصل قائد کی توہین ہے، قائد کی توہین عوام کی توہین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 317 posts and counting.See all posts by zeffer-imran