چڑیا کے گھر میں محبوس آوازیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے برس اسے چڑیا گھر آئے چوبیس سال بیت گئے تھے۔ پچھلی سالگرہ پر پھولوں اور غباروں سے سجا اس کا جنگلہ بہار کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس برس سلور جوبلی پر ڈائریکٹر صاحب نے خاص انتظامات کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ کون جانتا تھا کہ سوزی اپنے خیر خواہوں کو اتنی جلدی الوداع کہہ دے گی۔

”دس برس کی تھی جب اس نے ڈولی کی جگہ لی تھی۔“

بوڑھے نوکر نے پسینہ پونچھتے ہوئے میز پر بیٹھے نوجوان سے کہا، شہر کے وسط میں لبرٹی چوک کے پاس تھا یہ چڑیا گھر۔ چڑیا کے اس گھر کو سجانے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں جانور اور پرندے تھے۔ مرکزی دروازہ لبرٹی چوک کو گھورتا جبکہ دوسرا دفتر کمشن برائے انسانی حقوق سے منسلک تھا۔

”بابا جی سوزی تو اس جگہ کی رونق رہی ہو گی۔“

”ارے یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ سوزی کو دیکھے بغیر بھلا کون جاتا تھا۔ بچے، بوڑھے، عورتیں سب اس سے پیار کرتے تھے۔“

سوزی سے واقعی ہر کسی کو انس تھا۔ بچے اس کے سامنے شرارتیں کرتے، ہاتھوں سے اشارے کرتے، اس کے سامنے پھل پھینکتے۔ چھٹی کے دن سکولوں اور کالجوں کے مطالعاتی دورے ہوتے۔ سانپ گھر اور ببر شیر کو دیکھنے کے بعد اس کے ساتھ سیلفیاں لی جاتیں۔

والدین بچوں کو بتاتے اس کا نام کیا ہے۔ اس کا تعلق کس ملک سے ہے۔ یہ کیا کھا کر خوش ہو گی۔ سوزی اکثر سوچتی کہ کوئی یہ کیوں نہیں بتاتا کہ جنگل میں آزاد گھومنا بھی خوشی دیتا ہے۔

سوزی کی موت کے بعد چڑیا گھر میں عجیب کیفیت تھی۔ ملازم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ٹکٹوں کے کم بکنے پر بات ہو رہی تھی۔ خیر یہ کب تک تھا، جب تک کوئی اور اس کی جگہ نہ لے لے۔ وہاں یہ دور سفید پنجرے میں دو طوطے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔

پہلا طوطا: ”تمہیں یاد ہے پچھلے سال وہ کون سا دن تھا جب یہاں سب سے زیادہ بھیڑ تھی“ ۔

دوسرا طوطا: ”گرمیوں کی چھٹیوں کی وہ پہلی اتوار تھی۔ اور ہاں یاد آیا کچھ لڑکیوں نے ہمارے پنجرے میں امرود اور مکئی کے دانے پھینکے تھے“ ۔

آسمان پر گہرے سیاہ بادل کسی دیو مالا کی چھب دکھائی دے رہے تھے۔ تیز ہوا کے ساتھ پھوار پڑنے لگی تھی۔ کینٹین والے بڑی شدت سے گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔

پہلا طوطا: ”نہیں وہ بھیڑ والا دن اس ملک کی آزادی کا دن تھا۔ لوگ جشن آزادی کے لطف کو دوبالا کرنے پارک سے سیدھے یہاں چلے آئے تھے“ ۔

دوسرا طوطا: ”ہاں تم نے ٹھیک کہا، فضا میں آزادی مبارک کے نعرے گونج رہے تھے“ ۔
”کیا یہ پتھر کا دیس ہے؟ یہاں کون بستا ہے؟ انسان نے ہمیں پنجرے میں قید کیوں رکھا ہے؟“
پہلے طوطے نے آہ بھرتے کہا جو چند دن پہلے اس برڈ ہاؤس کی زینت بنا تھا۔

”ہمیں اس حالت میں دیکھ کر وہ محظوظ ہوتا ہے۔ ہمارے پنکھ اس کی تصویروں میں رنگ بھرتے ہیں۔ چاہے چڑیا کے گھر میں رکھے یا سرکس میں سدھائے، وہ خوب نفع کماتا ہے“ ۔

بارش تیز ہو چکی تھی۔ ہر طرف پرندوں کا شور تھا۔ کچھ نوجوان آوازیں کستے اس طرف آ نکلے تھے۔ ایسے میں پہلے طوطے کے الفاظ اس کے ساتھی کو سنائی نا دیے اور دور آزاد فضاؤں میں تحلیل ہو گئے۔

”کیا میرے لئے بھی کوئی لکھے گا کہ اوپر جا کر میں خدا کو سب کچھ بتا دوں گا“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احمد عظیم اطہر کی دیگر تحریریں