کراچی، پولیس، رینجرز اور پولیسنگ اختیارات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان رینجرز ایک نیم فوجی ادارہ ہے اور اس کی قانون سازی 1959 میں عمل میں لائی گئی تھی، جس کا کام سرحدوں کی حفاظت اور جنگ و شورش زدہ علاقوں میں عوام کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اس کا سربراہ میجر جنرل ہوتا ہے، جسے چیف آف آرمی سٹاف تعینات کرتا ہے۔ پاکستان رینجرز کو انتظامی لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پنجاب رینجرز اور سندھ رینجرز۔ جب کہ صوبہ پختون خوا اور صوبہ بلوچستان میں اسے فرنٹیئر کور کہا جاتا ہے۔ پنجاب رینجرز کے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں ہیں۔ پنجاب رینجرز کا کام بھارت کے ساتھ 1300 کلو میٹر لمبی سرحد کی حفاظت کرنا ہے۔ آج کل پنجاب رینجرز پاک فوج اور دیگر انٹیلی جینس ایجنسیوں سے مل کر دہشت گردوں کے خلاف صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں کارروائی کر رہی ہے۔

سندھ رینجرز کے ہیڈ کوارٹرز کراچی میں ہیں، جو بھارت کے ساتھ 912 کلومیٹر لمبی سرحد کی حفاظت کرتی ہے۔ سال 1989 میں محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں سید قائم علی شاہ کی وزارت اعلیٰ نے رینجرز کو آئین کی شق 147 کی ذیلی شق تین کے تحت کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لئے پولیس کی مدد کے لئے تعینات کیا تھا، ستمبر 2013 میں اس وقت کی وفاقی حکومت نے 1989 سے تعینات رینجرز کو پولیس کی معاون فورس کے ساتھ ایک متوازی پولیس فورس کے طور پر اختیارات تفویض کر دیے، ساتھ ہی 1997 کے دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن چار میں ترمیم کر کے رینجرز کو گرفتار ملزمان کو نوے روز تک تحویل میں رکھ کر انٹیروگیشن کا اختیار بھی دے دیا، یوں رینجرز کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا جس کی وجہ سے ان کے بعض اقدامات متنازع ہو گئے۔

رینجرز چوں کہ حالت امن میں سرحدوں کی حفاظت کے لئے تشکیل دی گئی فورس ہے، جس کی تربیت انہی خطوط پر کی جاتی ہے، انھیں شہروں میں انتظامات چلانے اور پولیسنگ جیسے معاملات کی نہ تربیت ہوتی ہے اور نہ تجربہ، اس پر مستزاد یہ کہ انھیں ملزمان کو نوے دن تک اپنی حراست میں رکھنے کا اختیار بھی مل گیا، جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں اور موجودہ مسئلہ بھی انہیں اختیارات کا شاخسانہ ہے اور مستقبل میں بھی ایسے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے۔

اس میں شک نہیں کہ اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں خاصی حد تک کمی واقع ہوئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان وارداتوں میں یہ کمی دیرپا ہے یا وقتی؟ اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی، کیوں کہ جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے جن وسیع البنیاد اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے وہ اب تک سامنے نہیں آئے۔ اس میں شک نہیں کہ پورے ملک بالخصوص کراچی میں سیاست اور جرائم ایک دوسرے کے ساتھ بری طرح پیوست ہو چکے ہیں، لیکن کراچی میں امن و امان کے مسائل شہر کے سیاسی بااختیار طبقے کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت بضد ہے کہ شہر کے انتظامی، مالیاتی اور سیاسی اختیارات پر اس کی مکمل گرفت رہے۔ وہ سوا کروڑ کی آبادی کے شہر کو ایک تحصیل یا ٹاؤن کے انداز میں چلانے کی کوشش کرتی ہے جب کہ اس شہر کی نمائندگی کرنے والی سیاسی قوت چاہتی ہے کہ شہری معاملات میں اس کی اختیار کو تسلیم کیا جائے، جس کی وجہ سے شہر کے سیاسی اور انتظامی معاملات و مسائل پیچیدہ تر ہو کر نا قابل حل ہو چکے ہیں۔ اقتدار اور اختیار کی اس رسہ کشی میں ایک تیسرا عامل وفاقی حکومت بھی ہے جو اس شہر پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

اپنے مقاصد کے تکمیل کی خاطر وہ صوبے کے دو اہم سیاسی قوتوں کے درمیاں تنازعات کو مسلسل ہوا دینے کی کوشش کرتی رہی ہے جس کا مظاہرہ حال ہی میں سیاسی پاور شو آف کی صورت میں پولیس اور رینجرز کے درمیان نظر آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ رینجرز کب تک اس شہر میں ایک متوازی پولیسنگ سسٹم چلاتی رہے گی، کیا یہ امن و امان کا واحد حل ہے؟ کیا یہ اقدامات پایہ دار اور دیرپا ہیں؟ پیپلز پارٹی جب برسر اقتدار آئی تو میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے اختیارات میں مزید کمی کر دی اور میگا سٹی کے مئیر کے پاس پیدائش اور اموات کے سرٹیفیکیٹ پر دستخط کرنے کے علاوہ کوئی اختیار نہیں تھا۔ حد یہ ہے کہ ٹھوس کچرا (سولڈ ویسٹ) اٹھانے کا ٹھیکہ دینے کا اختیار بھی صوبائی حکومت نے اپنے ہاتھوں میں رکھا تھا۔

اب چونکہ مقامی حکومت موجود نہیں ہے اور وفاقی اور صوبائی حکومت ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں سندھ کے جزائر کا مسئلہ بھی وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان چل رہا ہے۔ اگر یہ سیاسی رسہ کشی اسی طرح چلتی رہی اور وفاق اور صوبہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے رہیں اور پولیس اور رینجرز کو ڈی پولیٹیسائز نہیں کیا گیا تو آنے والے وقتوں میں پولیس اور رینجرز ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے رہیں گے۔ ابھی تو صرف شروعات ہیں۔

Latest posts by اقبال شاہ ایڈووکیٹ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •