دانشور کی وصل کی رات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستارے جب جگمگاتے ہیں، چاند اپنی رعنائی سے جانداروں کو بے خود کر دیتا ہے، سمندر کا پانی چاند کو چھونے کے لئے آسمان کی طرف لپکنے کو اچھلتا ہے، چکور آسمان کی طرف منہ کر کے دل سوز آواز نکالتا ہے کہ شاید کوئی سن لے، جب درد میں تڑپتے بیمار کو، رات کے کسی پہر، بے سبب سکون ملتا ہے، جب بھوکے کو مزے کا کھانا مل جاتا ہے، جب تسکین ملنے کا عمل شروع ہوتا ہے، جب نفس تسکین پا لیتا ہے۔ اتنا کہنے کے بعد جب دانشور گھونگٹ اٹھاتا ہے، تو مخاطب کو نیند کی آغوش میں پا کر بے سکون ہو جاتا ہے۔ دانشور کا مطمح نظر تو کچھ اور ہی تھا، اپنی خواہش کا شاعرانہ اظہار تھا، لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اس کی تشبیہاتی خواہشات مخاطب کے لئے لوری کا کام کرتے ہوئے، اسے اس وقت سلا دے گی کہ جب جاگتے رہنے کا وقت مطلوب تھا۔

نواز شریف نے جب مسلم لیگ (ن) کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مصلحتوں کو ایک طرف رکھ دیا اور ستم گر کو اس کے نام سے پکارا۔ گوجرانوالہ کے جلسے میں، جب اس کا نام بار بار یوں لیا گیا کہ جیسے، جیسے محبوب کو بد نام نہ کرنے کی فکر لاحق تھی، وہی محبوب کی بے وفائی کا موضوع بنانے لگا۔ وہ جو اس بات یہ یقین رکھتے تھے کہ ”نام آئے نہ تیرا پیار کی رسوائی میں“، وہی با آواز بلند، درد بھری فریاد پہ مجبور ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمان نے جب وہ داغ دھو دیا کہ دینی و مذہبی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی فکر ہی میں محدود رہتی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کے مطابق ہی حرکت کرتی ہیں، مولانا فضل الرحمان کے اظہار بیان نے واضح کیا کہ کلی طور پر ایسا نہیں ہے، ذہن رکھنے والے نا صرف سوچنے کی قوت رکھتے ہیں، بلکہ اظہار جرات کی قوت سے بھی مالا مال ہیں۔

کراچی کے جلسے نے تو ستم ہی کر دیا کہ محبوب کو اس کی حیثیت یاد کرا دی گئی کہ اس کا کام دلربائی ہے، عاشق کے عشق کی تسکین ہے، عاشق کو تڑپا تڑپا کر مارنا نہیں۔ اپنا محبوب اپنے لئے ہوتا ہے، اگر محبوب اپنا ہو لیکن اپنی دل رُبائی سے غیروں کو مستفید کرتا ہو، تو بات بگڑ جاتی ہے۔ بقول شاعر ”غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم، اے جان وفا، یہ ظلم نہ کر۔ رہنے دے ابھی تھوڑا سا بھرم“۔

جادوئی طاقتوں کے حامل محبوب کی فہم و فراست بھی ایسی کہ وہ صرف دو ٹوک بات ہی سنتا اور سمجھتا ہے۔ عشق کی نزاکتیں، بہاروں کی تشبیہات، موسم کی رعنائیوں کی داستانوں سے وہ کچھ اور ہی سمجھ بیٹھتا ہے۔ اب جب کہ محبوب کی بے وفائی کسی سیلابی دریا کے مانند حدود کو عبور کر کے بستیوں کو زیر آب کرنا، اپنا حق سمجھ بیٹھی ہیں، عاشق کو خلوت میں ہی نہیں بلکہ جلوت میں بھی ذلت خیز بے آبروئی کے حربے کو ’راہء راست‘ تصور کر چکی ہیں، تو ایسے میں محبوب کے ساتھ ساتھ اپنی بقا اور عزت کا احساس بھی نا گزیر ہو جاتا ہے۔

مصلحتوں کے پردے میں چھپ کر، صبر میں محدود رہنے کا وقت گزر چلا۔ اب تشبیہات کا وقت نہیں، یہ ملن کی گھڑیاں ہیں، انہیں استعاروں میں برباد نہ کیجیے۔ یہ وقت باہمی بقا کی آرزو میں تجدید وفا کا وقت ہے۔ اب اسے بے ثمر نہ کیجیے، بڑھتی ہوئی بے اعتمادی کی دراڑوں کو ختم کرنے کی فکر کیجیے، دراڑوں میں یونہی اضافہ ہوتا رہا تو ایک دوسرے کو ملانے، ساتھ رکھنے کے لئے پل بھی کام نہ دے سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •