حکومت شکست کھا رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایک بڑ بولے ترجمان کا ارشاد تھا ”انہیں کون سا چٹاگانگ پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ ان کے اپنے اتحادی کی حکومت ہے اور گرفتاری بھی ان کی پولیس نے ہی کی ہے۔“ پتا نہیں کیوں ان کو ان دنوں میں اور ان حالات میں مشرقی پاکستان کی اس بندرگاہ کی یاد آئی ہے اور انہوں نے کراچی میں ہونے والی گرفتاری کو اس حوالے سے یاد کیا ہے؟

چٹاگانگ سے ہم پاکستانیوں کی ایک تلخ یاد وابستہ ہے۔ اس ترجمان کو اس کا پتا بھی نہیں ہو گا کیونکہ ان کی تاریخ اور جغرافیہ بہت کمزور ہے۔ 25 مارچ 1971 کو ہمارے اس وقت کے بہادر کمانڈر صدر جنرل یحییٰ خان اورمغربی پاکستان کے لیڈر ناکام مذاکرات کے بعد راولپنڈی روانہ ہوئے تو حالات انتہائی نہج پر پہنچ چکے تھے۔ اسی رات (25 اور 26 مارچ کی درمیانی رات) کو شیخ مجیب الرحمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی رات ریڈیو پر بنگالیوں کو پیغام دیتے ہوئے اس نے کہا ہو سکتا ہے کہ یہ میرا آخری پیغام ہو۔ آج بنگلہ دیش کی آزادی کا دن ہے۔ آپ جو بھی ہیں اور جہاں بھی ہیں اپنی آزادی کے لئے لڑیں۔ تقریر کے آخر میں اس نے ”جے بنگلہ“ کا نعرہ لگایا۔ اس کے لہجے میں اتنی شدت تھی کہ تھوک منہ سے نکل کر مائیک پر پھیل گیا۔

اسی رات میجر ضیا الرحمان نے چٹآگانگ میں اپنے سنئیر لیفٹیننٹ کرنل جنجوعہ کو گرفتار کرنے کے بعد قتل کر دیا۔ اور مجیب الرحمان کا یہ پیغام سب سے پہلے اسی ریڈیو سٹیشن سے نشر ہوا۔ تاریخ کا انتقام دیکھیں کہ بعد میں ضیا الرحمان مارشل لا لگا کر بنگلہ دیش کے صدر بنے اور 1981 کو ایک انٹرا پارٹی مسئلہ حل کرنے کے لیے چٹاگانگ کے دورے پر گئے، قیام سرکٹ ہاؤس میں تھا۔ 30 مئی کی صبح کو اسی چٹاگانگ میں چند فوجی افسران نے ضیا الرحمان کو چھ باڈی گارڈ سمیت قتل کر دیا۔

پاکستان کا ساحلی شہر کراچی بھی ہمیشہ سے سیاسی و غیر سیاسی ریاستی طاقتوں کی کھینچا تانی کا مرکز رہا ہے۔ مرکز سے دوری ( فاصلاتی اور سیاسی) کی وجہ سے کئی مرتبہ نوبت ٹکراؤ تک پہنچ جاتی رہی ہے۔ اب کی بار بھی یہ فاصلے بڑھ کر خطرناک حدود کو پار کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت، اس کے اتحادی اور مدد گار باقی معاملات میں کچھ دباؤ کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ بظاہر محسوس ہو رہا ہے کہ انہیں بہت سے معاملات میں بیک فٹ پر جانا پڑ رہا ہے۔

مریم نواز کو نیب نے بلایا وہ اپنے کارکنان ساتھ لے آئی۔ نیب نے دروازہ ہی نہیں کھولا اور دوبارہ بلانے سے خائف ہو گئی۔ مولانا کی طرف رخ کیا۔ ان کے بھائی نے انتہائی سخت غصے میں پشاور کے اصل پاور ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا چیلنج کر دیا۔ نیب کا اگلے دن بیان تھا کہ ان کو بلانا ضروری نہیں رہا۔ ایک لمبے عرصہ تک مریم کا ٹویٹر خاموش رہا اس کو طرح طرح کے طعنے بھی سننے پڑے۔ جب سے وہ ایکٹو ہوا ہے دوسرے ٹویٹر خاموش خاموش سے دکھائی دیتے ہیں۔ اب سرکاری میڈیا کے ہیرو ’نام نہاد ترجمان‘ شیخ رشید صاحب بھی کئی کئی دن ٹی وی سکرینوں پر رونق افروز نہیں ہوتے۔ اگرچہ ان کی باتوں میں تلخی نکتہ عروج پر پہنچ چکی ہے لیکن وہ مریم نواز کو چبھتی چبھتی باتیں کم ہی لگاتے ہیں۔ ا ن کی پیش گوئیاں پژمردہ بدن بولی سے مطابقت بھی نہیں رکھتیں۔

مریم اور نواز شریف کا سب سے پہلا نشانہ عاصم سلیم باجوہ تھے۔ وہ بھی کچھ دنوں میں ہی ایک عہدے سے استعفیٰ قبول کروا کر چلے گئے۔ اپوزیشن کا دوسرا نشانہ الیکشن کمیشن ہے۔ جوں جوں دباؤ بڑھ رہا ہے اس کی طرف سے بھی غیر ملکی فنڈنگ کیس کی خبریں عام کی جا رہی ہیں۔ اگر ایسا ہی پریشر رہا تو ممکن ہے کہ الیکشن کمیشن کو یہ کیس پھر سے سننا پڑ جائے۔ اسی دباؤ میں پشتون تحفظ موومنٹ والوں کا بھی بھلا ہو گیا اور حکومت نے خڑ قمر واقعہ کا مقدمہ بھی واپس لے لیا ہے۔

ان تمام قسم کی ناکامیوں کے بعدحکومت کا اگلا وار غداری کا مقدمہ تھا۔ دو دن بعد ہی سوائے غیر حاضر فریق کے سب مخالفین وطن پرست قرار پائے۔ سیاسی جلسوں کی حاضری کم رکھنے کی بھرپور کوشش بھی ناکام ہوئی۔

ان سب واقعات کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کا کھیل کھیلا گیا۔ اس میں حکومت کو زبردست شرمندگی کا سامنہ کرنا پڑا اور بلاول بھٹو جیسا ٹھنڈی باتیں کرنے والا مستقبل کا لیڈر بھی کشتیاں جلا کر پریس کے سامنے پھٹ پڑا۔ وہ باتیں جو ایک عرصہ سے ڈرائنگ رومز میں اور اشاروں کناؤں میں ہوتی تھیں اب سر عام ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومت کے دائرکردہ ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا ہے۔

حکومت کو پچھلے ایک مہینہ میں ہر سطح پر شکست اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے پاس پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سب سے مضبوط کرسی ہے، اسے طاقتور لوگوں کا سہارا بھی حاصل ہے لیکن وہ ہر سطح پر ناکام ہو رہی ہے۔ اپوزیشن جو بکھری ہوئی، بدنام اور کمزور تھی، دن بدن مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ عوام اور ان کی نمائندہ جماعتوں کی آواز سنی جائے ان سے بات چیت کی جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حالات انتہائی نہج پر پہنچ جائیں۔

ایوب خاں اور یحییٰ خان کی حکومت موجودہ حکومت سے کہیں زیادہ مضبوط تھی لیکن سیاسی طاقت کے سامنے ان کی بے بسی کا ذکر مشرقی پاکستان میں شکست کی عینی شہادت ’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘ میں پہلے صفحہ پر ہی ملتا ہے۔ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے صدیق سالک لکھتے ہیں ”1970 کے الیکشن سے پہلے شیخ مجیب الرحمان کا کہنا تھا کہ ایوب خاں نے مجھے مقبولیت کی ایسی معراج پر پہنچا دیا ہے کہ اب کوئی شخص میری مرضی کے خلاف نہیں جا سکتا۔ کوئی شخص مجھے ’نہ‘ نہیں کہہ سکتا حتیٰ کہ یحییٰ خاں بھی میرے مطالبات کو رد نہیں کر سکتا۔“

اب کی بار صرف ایک شخص نہیں، پوری اپوزیشن اور خصوصی طور پر نواز شریف اور مریم نواز کو دھکیل کر اسی معراج پر پہنچایا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •