کون ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس رنگ برنگی و متنوع کائنات اور جذبات واختیار سے لبریز مشین ”انسان“ کا کوئی بنانے اور چلانے والا ہے کہ نہیں، سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے اور ایسے ہی ختم بھی ہو جائے گا۔ یہ سوال اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود حضرت انسان،

اس سوال کے جواب میں دفتروں کے دفتر لکھے گئے اور پہروں کے پہر بولا گیا مگر مسئلہ ہنوز موجود است۔

شاید یہ کہنا بے جا نہ ہو کہ فکری نہیں مگر عملی طور پر اس وقت کسی ”خالق“ یا ”مالک“ کے انکاری انسان، مذاہب پر عمل پیرا لوگوں کی مجموعی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ اس حوالے سے ہر فرد کا اپنا مشاہدہ، تجربہ اور اخذ کردہ نتیجہ ہے جس پر وہ عمل پیرا ہے۔ آج کے انسان کے نزدیک اول وآخر یہی زندگی ہے اس لیے وہ اسے اچھے طریقے سے بسر کرنا چاہتا ہے۔ وہ کچھ اخلاقیات پر عمل پیرا رہ کر اس زندگی سے زیادہ سے زیادہ لطف کشید کرنے کا خواہشمند ہے۔ یعنی

بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

والا معاملہ ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اس حوالے سے ہر انسان کا اپنا احوال ہے جس کی روشنی میں وہ اپنے سوالات کے جواب ڈھونڈتا ہے۔ میں یہاں اپنا مشاہدہ، مطالعہ و تجربہ تو بیان کر سکتا ہوں مگر کسی دوسرے کا نہیں۔

اس لئے میں تو ہورے شرح صدر کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس کائنات اور ہمیں بنانے والا اللہ ہے کیونکہ میں جب اپنے ارد گرد دیکھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی مشین خود بن رہی ہے نہ چل رہی ہے تو پھر میں اس کائنات اور انسان کے بارے میں کیسے باور کر لوں کہ یہ خود بخود بن گئے اور خود بخود ایک۔ زبردست نظم اور قاعدے کے ساتھ چل رہے ہیں، مجھے پیغام بروں نے بھی بتایا کہ اللہ نے اس کائنات اور انسان کو بنایا ہے۔

میں انبیا ورسل کی کریڈیبلیٹی جانچنا چاہتا ہوں تو غیر جانبدارانہ تاریخ بھی بتاتی ہے کہ وہ سچے، امانتدار، ہمدرد اور دنیا سے بے غرض لوگ تھے۔ ان پر جو کتابیں اور صحیفے آئے ان تعلیمات کا مجموعہ اب قرآن کی شکل میں موجود ہے اور جب میں اسے پڑھتا ہوں تو حقائق کا نیا جہاں میرے سامنے وا ہوتا ہے کہ جس سے مجھے بخوبی ہتا چل جاتا ہے کہ میں دنیا میں مسافر ہوں مقیم نہیں۔ یہاں لذت کوشی کے لئے نہیں بلکہ عبادت واطاعت کے لئے بھیجا گیا ہوں

میرا ایمان روز آخرت پر بھی ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ظالم اس دنیا میں عیش کر رہا ہے اور مظلوم سسک رہا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا دن ہو کہ جس میں ظالم اور مظلوم کا فیصلہ حق کے ساتھ کیا جائے۔ ظالم کو اپنے کیے کی سزا اور مظلوم کو اس کے صبرکی جزا ملے۔ مجھے قرآن سے پتا چلتا ہے کہ ایسا دن آنے والا ہے جس میں حساب کتاب ہو گا۔

میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ انسان کی مکمل کامیابی کا دار و مدار اللہ کو ماننے اور اللہ کی ماننے میں ہے۔ میں جب بھی اللہ کے بتائے ہوئے رستے یعنی دین اسلام پر عمل کرتا ہوں تو مجھے نا صرف سکون ملتا ہے بلکہ میں اپنے آپ کو مکمل محسوس کرتا ہوں اور اپنی ذات میں ایسا خلاء نہیں پاتا جو مجھے مایوسی، برائی اور گناہ کی طرف لے جائے۔ اس سارے عمل کے دوران سب سے اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ میرا رویہ دوسرے انسانوں کے ساتھ بلاتفریق مذہب وملت اچھا ہوتاہے۔

میں چاہتا ہوں کہ وہ بھی اللہ کی ربوبیت کا اقرار کریں اور جس طرح اس دنیا میں آرام وسکون کے طلب گار ہیں اسی طرح آخرت کے عیش وآرام کے بارے میں بھی پلاننگ کریں۔ میرا رویہ ان کے ساتھ مخاصمت والا نہیں بلکہ ہمدردی والا ہوتا ہے۔ یہ ساری چیزیں مجھے اچھا انسان بناتی ہیں اور دوسروں کے دل میں میرے لئے گنجائش پیدا کرتی ہیں اور میری شخصیت کو پرکشش بناتی ہیں بدقسمتی سے اگر میں ایسا نہیں ہوں، میرے دل میں دوسروں کے لئے نفرت ہے اور میرے چہرے سے غیظ و غضب ظاہر ہو رہا ہے تو اس کی وجہ یہ نا سمجھی جائے کہ مجھے اللہ اور اس کے نبی نے ایسا سکھایا ہے بلکہ یہ باور کیا جائے کہ میں اللہ کو تو مانتا ہوں مگر اللہ کی نہیں مانتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سکندر حیات عباسی کی دیگر تحریریں