نا انصافی کا بہاو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اک شوریدہ سر بہاو ہے اور سب بہے چلے جا رہے ہیں۔ طاقت ور ہوں یا کم زور۔ نابغہ کہلائے جانے والے ہوں یا سوچ کی سطح پر کھڑے رہنے والے۔ اقتدار کی غلام گردشوں پر اختیار رکھنے والے ہوں یا سورج کی انتہائی شدت سے تپتی ہوئی سڑکوں پر رہنے والے جو اڑتی ہوئی دھول کے ساتھ چل رہے ہوں۔

خواب دیکھنے والے ہوں یا الجھنوں میں گم، رزق سے آسودہ خاطر لوگ ہوں یا نان کو ترستے افراد، جہاز میں سفر کی روز استطاعت رکھنے والے ہوں یا صرف پیدل چلنے والے۔

اک شوریدہ سر بہاو ہے اور سب بہے چلے جا رہے ہیں۔ سماعتیں ہیں کہ بند اور قوت شامہ بے کار۔ کیوں، کیسے، کہاں اور کب کی لایعنی آوازیں کیوں سنی جائیں اور سوال یہ انتشار اور بے آرامی کے نقارے کیوں بجیں تو پھر طے ہوا کہ سوال کرنا بری بات ہے ’۔

ہر اک سو اک جبر کی دھند ہے کہ سب کو اپنے اندر سمونے کی فکر میں ہے اور دھند میں جو چھپ جائے پھر کہاں نظر آتا ہے حالاں کہ ہوتا ہے مگر نہ ہونے جیسا۔

اور اک ہی دھن کی گونج ہے کہ بجے جا رہی ہے اور دیگر ہر اک دھن پہ طاری ہونی کی تمنا رکھتی ہے۔ جب اک ہی دھن بجے گی تو کتنی بے کیفی ہوگی۔

اک ہی رنگ ہے، مٹی کا رنگ کہ پھیلے چلے جا رہا ہے اور پھر فضا سے دیکھو یا فاصلے سے، سب مٹی ہی نظر ائے گا، سب صحرا ہی دکھے گا۔ اور جب رنگ نہ ہوں تو منظر کتنا بے لطف ہو جائے گا۔

امر بیل کا پودا جب کسی تناور درخت کے سائے تلے پروان چڑھے اور پھر بعد میں اسی درخت پر چھا جائے کچھ ایسے کہ درخت ہو کر بھی نہ ہونے جیسا ہو جائے اور ہر اک زاویے سے امر بیل پھلتی پھولتی نظر ائے۔

دریا جب پہاڑوں سے پہلے جمی ہوئی برف کا اک مجمع ہوں اور پھر آفتاب کی کرنوں سے تبدیل ہو کر بہتے ہوئے پانی کا روپ لیں تو رفتار میں، آواز میں شوریدہ سر ہوتے ہیں اور سب کو بہا لے جانے کا مزاج رکھتے ہیں۔ بڑی بڑی چٹانوں کو کاٹ دیتے ہیں اور کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتے۔

تو سب اب بہاو کی زد میں ہیں، وہ بھی جو بہہ رہے ہیں اور وہ بھی جو خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اب کس کو پتہ کہ کب پانی سیلاب بن جائے اور سب بہا لے جائے۔ خاص طور پر جب بے خبری کا سماں ہو تو پھر انے والی افتاد مزید ہیجان اور افراتفری کا سبب ہوتی ہے۔

بہاو کے مخالف تیرنے کے لیے بہت بڑے حوصلے اور بہت بڑے حوصلے کے لیے اک توانا امید اور اک توانا امید کے لیے بہت زیادہ یقین اور بہت زیادہ یقین کے لیے زیادہ خواب اور زیادہ خواب کے لیے تصور کے وسیع ہونے کی اور تصور کے وسیع ہونے کے لیے جاننے کی اک لامتناہی خواہش کی اور جاننے کی اک لامتناہی خواہش کے لیے اونچی پرواز کی تمنا درکار ہے۔

جب ہر اک حرف کو لفظ اور لفظ کو جملے اور جملے کو مضمون میں بدلنے سے پہلے پابند کرنے کی نہ رکنے والی خواہشیں اختیار کی لاٹھی کے ساتھ مل جائیں اور اس سنگم سے جبر کا پرندہ اڑان بھرنے کے لیے آزاد ہو اور ہر اک طرف ایک دھن، ایک رنگ، ایک نعرہ کی راگنی ہو کہ وہ تو بس میں ہوں، ہم ہیں جو کہ جانتے ہیں اور اگر جو ہم جانتے ہیں اس کے سوا کچھ ہے تو بس جھوٹ۔ اور اس کو جو ہم جانتے ہیں پھیلنے کا حق اور باقی جو سب ہے بس لایعنی مضمون اور سارے لایعنی مضمون اب سے بند سمجھے جائیں۔ تو یک رنگی سے ماتم کی دھن جنم لینے لگتی ہے اور ویرانوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔

بس ہاتھ پیر شل اور اکثریت نے کیا خود کو بہاو کے رخ پر بے اختیار اور بے قابو سا چھوڑ دیا ہے۔ حق اختیار کیا تج دیا جائے گا کہ بس پھر سوال کرنا جرم قرار پائے گا اور جو پھول الگ رنگ کا ہوگا وہ مسل دیا جائے گا۔

کیا بیدار ذہن مجرم سمجھے جانے لگے گیں اور الگ دکھنے والے معتوب۔ شاعری، ادب، موسیقی اور تخلیق اب ایک ہی سانچے سے جنم لینے کا فتور قوت کے شتر اور طاقت کے ہاتھی کی چنگھاڑ کے ساتھ سب اک کو روند دینے کے سفر پر ہے اور دیکھنا ہے کہ زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔

قیمتیں بلندی سے جھانکتی ہیں اور انصاف تہہ خانوں میں بندی سا گم ہے۔ جو کہا جاتا ہے اس کے برعکس ہوتا ہے اور اس پر مزید کہ بات کرنے کی منادی کے قصے سب کو براہ راست اور بالواسطہ سنائے جاتے ہیں۔

مگر کب تک کہ بہاو کتنا ہی تیز ہو اور پانی کتنے ہی زیادہ، دریاوں کے رخ بدل بھی جاتے ہیں اور سرچشمے سوکھ بھی جاتے ہیں۔ تو کوئی بھی طاقت ہو یا قوت کے خمار میں مدھوش دیو۔ وقت نے اپنی سرشت میں اک رویہ مستقل رکھا ہے اور وہ ہے بدلاو

نا انصافی کا بہاو کب تک اور کیا پتہ کہ بہنے والے کب اپنے وجود کی پوری قوت کو مجتمع کر کے، اک دوجے کے ہاتھوں کو ملا کر اک بڑا سا بازو بن جائیں، اتنا بڑا بازو کہ بہاو کی طاقت اس سے ضرب نہیں تقسیم ہونے لگے اور پانی کو رکنے پر مجبور ہونا پڑے اور کیا پھر کوئی کہے گا کہ مجبوری کا نام شکریہ۔

وہ کیا کسی نے خوب کہا کہ آخری سانس سے پہلے کون سی شکست اور خواب کی موت سے پہلے کون سا وناش (تباھی) ۔ جب تک آنکھیں سپنے دیکھتی رہیں گی۔ شعر جنم لیتے رہیں گے اور لفظ وجود میں آتے رہیں گے۔ گیت لکھے جاتے رہیں گے اور نقارے کے دونوں طرف تھاپ بھی پڑتی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •