ہیرو ورشپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک فرد کی اوسط عمر تقریباً 80 / 70 سال ہوتی ہے۔ جس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ تو بچپن اور نوجوانی کی عمر ہے جو تقریباً 25 / 20 سال پر محیط ہوتی ہے۔ اس حصہ میں بچپن کے 12 / 10 سال تو انسان اپنے والدین پرہی انحصار کرتاہے اور وہی اس کی ضرروتوں اور خواہشوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ پھر انسان بلوغت میں قدم رکھتاہے تو اس کے بہت سے دوست بن جاتے ہیں اور اب وہ خود کو والدین کے اثر سے نسبتاً آزاد محسوس کرتاہے۔ لیکن ابھی بھی اپنی تعلیم اور خورو نوش کے لیے وہ والدین ہی کا محتاج ہوتاہے۔ اوریہ سلسلہ ﴿اگر وہ تعلیم حاصل کرتارہے ﴾ یونیورسٹی سے فراغت تک چلتارہتاہے۔

تعلیم کی تکمیل کے بعد دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے جس میں وہ ذریعہ ٴ معاش کے لیے کوشش شروع کرتاہے اور اس عرصہ میں اس کی شادی ہو کر ایک نئے خاندان کی بنیاد پڑتی ہے جس کی تمام تر ضروریات کا وہ اسی طرح ذمہ دار ہوتاہے جس طرح اس کے بچپن میں اس کے والدین نے یہ ذمہ داری اٹھائی تھی۔ یہ سلسلہ تقریباً تیس سال تک چلتاہے اور عموماً جب وہ ساٹھ برس کا ہو تو ملازمت سے ریٹائرڈمنٹ لے لیتا ہے۔ اب اس کی اولاد جوان ہو چکی ہوتی ہے اور وہ بڑھاپے میں قدم رکھ رہا ہوتاہے اور پھر تیسرا حصہ بڑھاپے اور ضعیفی کا ہے جو اس کی موت تک جو اوسطاً ستر۔اسی سال کی عمر میں انسان کو گلے لگا لیتی ہے، چنانچہ زندگی کا پہلا حصہ سیکھنے کا ہوتا ہے۔ اور اس دوران کوئی شخص جیسا راستہ اختیار کرے وہی راستہ پھر اس کی زندگی کے اگلے دو مراحل کو طے کرنے میں مدد دیتاہے۔ مثلاً اگر ایک طالب علم تعلیم میں توجہ نہ دے اور سکولنگ مکمل نہ کرسکے تو اکثر اوقات اس کی زندگی معاشی طور پر بہت کامیاب نہیں ہوتی۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ وہ عمر ہے جہاں انسان میں بچپنا اور لاپرواہی کا رجحان بہت زیادہ ہوتاہے اور بسا اوقات یہی لا پرواہی اور بچپنا مثبت صلاحتیوں کے حصول میں روک بن جاتا ہے ۔

اس عمر میں ذہن پنپ رہا ہوتاہے اور جسمانی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے اور وہ خود کو مکمل آزاد اور خود مختار اور اپنے فیصلے آپ کرنے والا سمجھتا ہے اور راہ نمائی اور ہدایت سے پرے بھاگتا ہے۔ چنانچہ یہ نفسیات اس کے لیے بجائے مفید ہونے کے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بہت سے نشہ کا شکار افراد اسی عمر میں نشہ شروع کرتے ہیں اور پھر اس کے مضر اثرات سے تمام زندگی چھٹکارا نہیں پاسکتے۔

اسی طرح یہ افراد اردگرد کے ماحول سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور ان کے والدین۔ اساتذہ اور پھر جب ذرا بڑے ہوتے ہیں تو گلی محلہ کے دوست ان پر اپنا مثبت یا منفی اثر ڈالنے لگتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ایسی ایجادات ہو چکی ہیں جس سے ساری دنیا ہی اب ان نوجوانوں کے سامنے کھل گئی ہے اور الیکڑانک میڈیا اور سوشل میڈیا ان کے نا پختہ ذہنوں کو اپنی مرضی کی طرز پہ ڈھالنے لگا ہے۔ ان ذرائع کا اثر نوجوان ذہنوں پر یہ پڑتا ہے کہ ان آلات کے ذریعے جو پروگرام پیش کیے جاتے ہیں وہ اکثر ڈراموں، موسیقی اور کھیلوں وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں ان سے یہ نوجوان متاثر ہو جاتے ہیں اور انٹرٹیمنٹ انڈسٹری میں کامیاب لوگ ان کا آدرش بن جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ’ہم سب‘ میں میرے ایک مضمون پر کسی دوست نے تبصرہ کیا تھا کہ ہماری قوم میں ہیروورشپ بہت ہے۔ یہ مسئلہ صرف ہمارے یہاں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہے۔ اگر آپ کامیاب ترین لوگوں کا سروے کریں تو اس میں خال خال ہی کسی سائنسدان، پروفیسر یا خدمت خلق کرنے والا نام ملے تو ملے ورنہ اداکاروں، کھلاڑیوں اور موسیقاروں کے نام ہی نظر آئیں گے۔

انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ لوگ معاشرے کی بہتری میں کیا حصہ ڈال رہے ہیں۔ اس کا اندازہ اس مثال سے ہو سکتا ہے کہ کسی بادشاہ کے دربار میں ایک شخص پیش ہوا جو ایک سوئی زمین میں گاڑ کر خاصے فاصلے سے دوسری سوئی اس طرح پھینکتا تھا کہ وہ اس سوئی کے ناکے میں سے گزر جاتی تھی۔ لوگوں نے اس کمال کی بڑی تعریف کی بادشاہ نے بھی خوشنودی کا اظہار کیا اور اسے بڑے انعام سے نوازا اور حکم دیا کہ اسے قید کر دو۔ پوچھا گیا کہ بادشاہ سلامت یہ کیا؟ بادشاہ نے کہا کہ اس نے کمال تو خوب کیا ہے مگر قید کی سزا اس لیے دے رہا ہوں کہ اس نے اپنی ساری زندگی اس بے کار کام کی مشق میں ضائع کردی۔

زندگی اصل وہی ہے جو با مقصد ہو۔ لیکن دنیا میں بدقسمتی سے ان لوگوں کو آئیڈیل بنالیا جاتا ہے جو محض دوسروں کی تفریح کے لیے نت نئے سوانگ بھرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔

ہیرو ورشپ کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ لوگ مشہور افراد کی نقل اس لیے نہیں کرتے کہ ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ چونکہ وہ مشہور ہیں اور دنیا ان کو جانتی ہے اس لیے وہ بھی شاید اسی طرح مشہور ہوجائیں گے۔ اور شہرت اور دولت ان کے قدم چومے۔

پاکستان کی ایک مایہٴناز شخصیت مکرم عبدالستار ایدھی صاحب ایک مثالی شخصیت تھے۔ آپ نے جب پچاس کی دہائی میں خدمت خلق کے کام کا بیڑا اٹھایا تو غالباً آپ کے تصور میں بھی نہیں ہوگا کہ آپ کو کس قدر کامیابی حاصل ہوگی اور کس طرح شہرت اور دولت آپ کے قدم چومے گی۔ آپ نے تو محض ایک دلی جذبہ سے ٍ بغیر کسی نفسانی خواہش کے اس کام کا آغاز کیا مگر اس میں ایسی برکت پڑی کہ آپ کی وفات تک تمام دنیا میں آپ کا نام گونجنے لگا۔

بعض نوجوان انہیں اپنا آدرش قرار دیتے ہیں۔ مگر ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ پہلے انہیں شہرت مل جائے تو پھر وہ اچھے اچھے کام شروع کریں۔ دراصل یہ سوچ اچھے کام کی خواہش سے زیادہ شہرت کے حصول کی خواہش کا نتیجہ ہوتی ہے۔

دنیا میں شہرت اور دولت کسی معاشرے کو بہتر بنانے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی جب تک معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایسی تبدیلی نہ لائی جائے جس سے انسانیت کے دکھ دور ہوں اور دنیا میں امن۔ بھائی چارہ۔ سلامتی اور قربانی کی فضا پیدا ہو۔ اگر یہ نہیں تو یہ تمام ہیرو ورشپ دیوانے کی بڑ سے زیادہ نہیں۔

ان نوجوانوں کی شہرت کی خواہش اور کچھ نیا کرنے کی خواہش انہیں بسا اوقات خطرات سے کھیلنے پر آمادہ کرتی ہے اور وہ اس عمر میں جسے ٹین ایج کہتے ہیں ایسے ایسے خطرناک کھیل کھیلتے ہیں جن میں جان جانے کاخطرہ بھی ہوتاہے۔ مثلاً تیز رفتار ڈرائیونگ۔ موٹر سائیکل پر ون ویلنگ اور اسی قسم کے دوسرے خطر ناک کھیل۔ ہیرو بننے کے شوق میں یہ نوجوان اپنی جان پر کھیل جانے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔

کسی عمدہ مقصد کے لیے جان کی قربانی عمدہ بات ہے جسے شجاعت کہتے ہیں مگر بے مقصد جان کو خطرے میں ڈالنا شجاعت نہیں تہور کہلاتاہے جس میں جان کے زیاں سے کوئی مفید نیتجہ ظاہر نہیں ہوتا۔

اس نفسیاتی الجھن نے آج کل ایک نیا روپ دھار لیا ہے جس سے شدت پسند تنظیمیں فائدہ اٹھا رہی ہیں اور ایسی تنظیمیں جو دنیا میں بدامنی اور بے چینی پھیلاناچاہتی ہیں ان نوجوانوں کی نا پختہ عمر سے اس طرح برین واش کرتی ہیں کہ یہ ہر کام کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں آج کل خود کش حملوں کا رجحان اور نہتے معصوم لوگوں کو بم دھاکوں اور گولیوں سے بھون دینے کا رجحان پڑھتا چلا جا رہا ہے۔ جس کے نتیجہ میں بنی نوح انسان کہیں نسل کے نام پر کہیں رنگ کی بنیاد پر اور کہیں مذہب کی تفریق پر تقسیم ہوتی چلی جا رہی ہے اور جغرافیائی۔ علاقائی اور نظریاتی اختلاف کی دیواریں اونچی ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ اس خوفناک ٹرینڈ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ نوجوانوں کی بچپن کی عمر سے ہی ایسی تربیت کرے کہ وہ ان نام نہاد مصلحین کے ہاتھ نہ لگ سکیں جو اصلاح کے نام پر محض فساد برپا کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •