زندگی: ایک فرضی مکالمہ ( 2 )۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(میں واپس اپنی جگہ پر آیا تو گفتگو کا سلسلہ جاری تھا۔ )
ژاں پال سارتر کلام کر رہا تھا:

انسان اس کے سوا کچھ نہیں جتنا وہ اپنے آپ کو پروجیکٹ کرتا ہے۔ اس کا وجود صرف اتنا ہے جتنا وہ خود سے آگاہ ہو پاتا ہے۔ سو وہ اپنے اعمال کے مجموعے سے زیادہ کچھ نہیں، اپنی زندگی سے زیادہ کچھ نہیں۔

نجیب محفوظ: بات صرف اتنی ہے کہ انسان اپنے لئے ایک مختلف زندگی چاہتا ہے۔
ژاں پال سارتر: نظریہ وجودیت انسانی زندگی کو ممکن بناتا ہے۔
میلان کنڈیرا: یہ امکان ہر شخص پر سایہ فگن رہتا ہے اور اس کی زندگی کی نوعیت کو تبدیل کرتا ہے۔

ژاں پال سارتر: زندگی کا کوئی وقعت نہیں جب تک اسے جیا نہ جائے۔ اس کی حیثیت اس معنی سے زیادہ کچھ نہیں جو ہم اسے پہناتے ہیں۔

میلان کنڈیرا: اس لئے زندگی ایک اسکیچ کی مانند ہے۔ شاید اسکیچ کا لفظ مناسب نہیں۔ زندگی کسی واضح تصور کے بغیر ایک خاکہ ہے۔

البرٹ کامیو: زندگی ہماری چوائسز کا مجموعہ ہے۔ زندگی ایک روداد ہے اور خدا اس کا مصنف۔ زندگی لغو ہے۔ میں ایسے سوچتا ہوں۔

رینر ماریا رلکے : ان تجربات کے بارے میں لکھو جو آپ کو ہر روز زندگی میں پیش آتے ہیں۔
ماریو برگس یوسا: میں زندگی کے بارے میں لکھتا ہوں۔ میرے کام کے لئے حقیقت کے اثرات بہت اہم ہیں۔
رینر ماریا رلکے : اپنے من میں ڈوب کر اس مقام کی گہرائی ماپو جہاں سے آپ کی زندگی کے سوتے پھوٹتے ہیں۔

ماریو برگس یوسا: میں جس طرح کی ہیجان خیز زندگی گزار رہا تھا میرے پاس خوش ہونے کا وقت نہیں تھا۔ لیکن یقیناً میں بہت مصروف تھا۔

رینر ماریا رلکے : ہمیں زندگی کو تبدیل کرنا چاہیے۔
کارل مارکس: ہمیں دنیا کو تبدیل کرنا چاہیے۔
جارج آرویل: کوئی ذی روح آزاد نہیں ہے۔ ہر ذی روح بد سلوکی کا شکار ہے۔ یہ ایک سادہ حقیقت ہے۔

ایمل سیوران: زندگی اوسط درجے کے لوگوں کا استحقاق ہے۔ میں ایک ایسی ڈرامائی زندگی کو ترجیح دوں گا جو وجود کی آگ میں جلتی رہے۔ اس شدت سے زندہ رہنا کہ آپ کو لگے۔ اس جینے کے ہاتھوں ہم مر چلے۔ کیا اس پاگل پن سے ہم زندگی کی بد حالی سے فرار حاصل کر سکتے ہیں؟ خلوت میں رہنے کا مطلب ہے زندگی کی توقعات سے دست بردار ہونا۔

نجیب محفوظ: کیا ہمیں ایک بہتر زندگی کی تلاش میں نہیں نکلنا چاہیے؟

ایمل سیوران: میں ایک مرگھٹ پر اپنی زندگی کی تعمیر نہیں کر سکتا۔ اداسی ان تمام واقعات کے شانہ بشانہ چلتی ہے جہاں زندگی اپنے آپ کو تھوڑا تھوڑا خرچ کرتی ہے۔ روح زندگی کے سسٹم کی ایک خرابی ہے۔

اورحان پاموک: میں کافی دیر سے یہ سوچ رہا ہوں۔ زندگی اتنی تاریک نہیں ہو سکتی۔
سیموئل بیکٹ: مبہم ہے۔ زندگی اور موت۔ مبہم ہے۔

ہنرش بول: اپنی موت سے بارہ گھنٹے قبل مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زندگی خوبصورت ہے۔ محض ایک ثانیے کے لئے مجھے زندگی کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

ایمری کرٹیس: ہماری نامکمن زندگی کا تعین ایک امکان، ہوس یا محض ایک لمحے کی حماقت سے ہو سکتا ہے۔

البرٹ کامیو: ارد گرد کی باتیں کیے بغیر اصل مدعے پر آتے ہیں۔ میں اپنی زندگی سے پیار کرتا ہوں اور یہی میری حقیقی کمزوری ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے طور طریقے نہیں بدلے۔ مجھے اپنا مفاد عزیز ہے چاہے اس کے لئے مجھے دوسرے کا استعمال کرنا پڑے۔

پابلو نرودا: اس طرح کیا آپ کی زندگی ایک سرنگ میں تبدیل نہیں ہو جائے گی؟

ولادیمیر نابوکوو (موضوع کو تبدیل کرتے ہوئے ) : ہر اچھے قاری نے اپنی زندگی میں کچھ دلچسپ کتابوں کا مطالعہ کیا ہوتا ہے۔

رے بریڈبری: ایک اچھے ادیب کی تحریر اکثر دل کو چھوتی ہے۔

اورحان پاموک: میں اپنی پوری زندگی کی کہانی یوں بیان کرنا چاہوں گا۔ گو کہ یہ کسی اور پر وارد ہوئی ہو۔

میلان کنڈیرا: ناول ایک رائیٹر کا اعتراف نہیں ہوتا۔ یہ اس جال کی تفتیش کرتا ہے جو دنیا انسانی زندگی کے گرد بنتی ہے۔ ناول وہ آخری رصد گاہ ہے جس سے ہم زندگی کی مکمل تصویر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پابلو نرودا: زندگی میں۔ بالکل آرٹ کی مانند۔ ہم ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے۔

میلان کنڈیرا: ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں نجی زندگی کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ لوگ اپنی پرائیویٹ زندگی کا لطف اور احساس کھو رہے ہیں۔ زندگی جو دوسروں کی آنکھوں سے چھپائی نہ جا سکے۔ وہی جہنم ہے۔

ژاں پال سارتر: جہنم۔ دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔
میلان کنڈیرا: زندگی دو انتہاؤں کے درمیان جھول رہی ہے۔ ایک طرف جنونیت ہے دوسری طرف تشکیک پسندی۔
فرانز کافکا: ایک گاڑی کی مانند زندگی کا پہیہ ایک دن رک جاتا ہے۔
سیموئل بیکٹ: مبہم ہے۔ زندگی اور موت۔ مبہم ہے۔ میری غلطیاں ہی میری زندگی ہے۔
فرانز کافکا: سونا، جاگنا، سونا، جاگنا۔ ہائے رے زندگی!

سیموئل بیکٹ: زندگی ایک عادت ہے۔ یا یوں کہیے، عادتوں کا ایک تسلسل ہے۔ تمام عمر، ایک جیسے سوال، ایک جیسے جواب۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •