مری تم اب بھی منفرد اک الگ سا شہر ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مری میں پھر آؤں گا کہ مجھے محسوس کرنے کی اور تمنا ہے اور کچھ خواہشیں ہیں کہ وہاں، وہاں اور جہاں وقت بتانا ضروری ہے۔ بس کہنا چاہتا ہوں کہ مری تم اب بھی منفرد اک الگ سا شہر ہو۔ کتنی یادیں ہیں جو مختلف موسموں اور الگ الگ وقتوں کی ہیں۔ بدلتے پہر اور گھڑی کی گھومتی سوئیاں۔ علی الصبح کوئی پانچ سے چھ بجے کا وقت اور مری کے پہاڑی قصبے یا شہر میں یہ ایک عاشقانہ سے سماں والا ماحول کہ جہاں بادلوں سے باتیں کرنا، دھند میں چلنا اور سردی کو چہرے کے راستے گردن سے اترتے ہوئے جسم کے اندر محسوس کرنا۔

دھند جیسے چھو کر نکل جائے والی پہاڑی سڑک پر تنہا چلنا کہ سناٹا اتنا کہ ہوا کی سانسیں سنائی دیں اور درخت کی ٹہنیوں کی حرکت قابل سماعت ہو۔
سڑک کے اک طرف پہاڑ کا سبز حصہ جو درختوں کو جو کچھ ترچھی سی ڈھلان پر ترچھی وضع سے ہی اگتے ہیں اور ان کی ٹہنیاں سڑک پر سایہ کرتی ہیں۔
سڑک کی دوسری جانب نیچے کی جانب جاتی ڈھلان اور اس ڈھلان سے اترتے مختلف انداز کے راستے جو نیچے بسے گھروں کے دروازوں یا پچھلے صحن تک لے جاتے ہیں۔

پہلی دفعہ کا مری ایک چیزے دیگر ہے۔ چاہے کتنا کچھ بدل گیا ہو، جنگل غائب ہوتے جا رہے ہیں اور عجیب سی لگنے والی ڈبا نما عمارتیں بڑھ رہی ہیں۔ ہریالی کی سلطنت میں اب مٹی کے قطعے نظر ہی آتے رہتے ہیں اور یہ کٹاؤ کے پیامبر قطعے بظاہر ہمیں بدلتے ہوئے موسمی حالات (کلائمٹ چینج) کی نتیجہ نظر آتے ہوں مگر ان کے پیچھے انسان کی ہوس زمین، اختیار اور اقتدار کے بے جا استعمال کی کہانیاں ہیں۔

کچھ دس ایک سال کے دن تھے اور موسم یاد نہیں کیسا تھا کہ موسم شوق میں کہاں اور کوئی موسم یاد رہتا ہے۔ میرے لیے اور شاید بہت سے دوسروں کے لیے چاہے وہ سفر کر پائیں یا نہ کر پائیں، سفر ہمیشہ سے ایک کشش رکھنے والا موضوع رہا ہے، ایک ایسا موضوع جو دل سے قریب ہوتا ہے۔

جو بھی چیز دل سے قریب ہو، وہ ہی محبت ہے اور محبت کے لیے کٹھنائیاں اور مسئلے نئی چیز نہیں۔ پہاڑوں پر کچھ دنوں کے لیے رہنا اک اور بات ہے اور وہاں زندگی بسر کرنا الگ ہی بات ہے۔

موسم، راستے، ماحول، ان کے لیے باہر سے آنے والے اور وہاں کے باسیوں کی رائے عموماً مختلف دیکھی گئی ہے جو اپنے اپنے تجربے، مشاہدے اور کٹھنائیوں سے عبارت ہوتی ہے۔

مری ایک ایسی جگہ ہے جہاں جانے کے لیے میرے پاس بہت سی وجہ ہیں اور ہر وجہ اپنے اپ میں ایک مکمل موضوع ہے۔ اب چاہے وہ اک پہاڑ پر صرف رہنا ہو یا مال روڈ اور دیگر روڈز پر صبح اور شام ٹہلنے کی بات ہو یا پھر پنڈی پوائنٹ سے کشمیر پوائنٹ تک کی چھوٹی چیئر لفٹ ہو یا پھر پتریاٹا جاکر کیبل کار اور چیئر لفٹ میں کئی میل پر محیط ایک قسم کی فضائی سیر ہو۔

اب یاد آتی ہے وہ مال روڈ کی ہر اک دفعہ کی سیر جب چاہے جی پی او چوک سے عثمانیہ ریستوران تک ہو یا عثمانیہ ریستوران سے جی پی او چوک تک۔ یہ لگتا ہے کہ ایک ہی مال روڈ کی سیر ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ دونوں رخ کی سیر بالکل الگ الگ ہیں۔ اور مال روڈ پر جی پی او چوک سے شاید تین مختلف سڑکیں نیچے کی جانب جاتی ہیں، ایک کلڈنہ روڈ جو بہت دور تک جاتی ہے اور اگر وقت ہو تو جتنا چلنا چاہو اس پر دور تک چلو اور چلو تو آگے منظر ہیں، بہت سے منظر جو دل میں بہت سے جذبے جگانے والے ہوں۔

اور کلڈنہ روڈ پر مجھے وہ دھند میں چلتے ہوئے جاتے رہنے کا منظر دل کے قریب ہے کہ شاید یہ خواب میں چلنے جیسی حقیقت کی مانند رہا۔ صبح کا وقت اور دھند کے اندر سے گزرنا عجب سا تجربہ جس کے بارے میں بات تو کی جا سکتی ہے مگر اس کو محسوس کرنا شاید بیان کرنا پوری طرح ممکن نہ ہو۔

یہ جو پہاڑ ہے یا صحرا یا جنگل، یہ انسان کی کایا کلپ کرتے ہیں۔ کیسے؟ ہوا سے، بلندی سے، ریت کو محسوس کر کے، درختوں کے سائے میں بیٹھ کر ۔ شہ کی مصروفیت اور کام کی دوڑ سے دور سکون کے لفظ کو عملی طور پر تجربہ کرنا ایک الگ سا ہی آرام دہ احساس ہے۔

کیمپنگ یا بون فائر (رات میں لکڑیوں کے الاؤ کے گرد بیٹھ کر گپ شپ) کے تجربے منفرد اور انتہائی دلچسپ ہوتے ہیں جو انسان کے اندر کی امنگ کو پھر زندہ کرتے ہیں اور زندگی جینے کے مختلف ڈھنگ کے بارے میں سوچ کو ایک نیا انداز فکر بخشتے ہیں۔

مری کی مال روڈ اور گلیات اپنے اندر کئی عشروں اور اس سے بھی قبل کے زمانے کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔ اگر مال روڈ کی بات کی جائے تو اب بہت سی اچھی بری بلکہ زیادہ تر نامناسب تبدیلیوں کے بعد بھی مال روڈ کا اپنا ایک رومانس ہے جو محسوس کرنے والوں کے لیے ہے چاہے مختصر ہی سہی۔

مال روڈ کے ایک کنارے پر عثمانیہ ریستوران سے منسلک مرحبا ہوٹل اینڈ ریستوران کسی حد تک پرانی یادوں کا ایک پرتو یا جھلک ہے۔ نیچے ریستوران کا اندرونی ہال ہو جہاں بیٹھ کر شیشے کی دیواروں سے باہر کے منظر کا مشاہدہ کرنا ہو یا باہر کھلے میں رکھی میز کرسیوں پر بیٹھ کر موسم اور منظر کے ساتھ ساتھ چائے، کافی اور دیگر اشیائے خورد و نوش سے لطف اندوز ہونا ہو۔ یا مال روڈ کے اس حصے میں روڈ سائیڈ کافی کی بھاپ اڑاتی مشینوں سے کافی خریدنا۔

اسی ریستوران کے عین نیچے مری کا ایک انڈر گراؤنڈ سا بازار ہے جو اپنی وضع میں بالکل ہی الگ سا ہے۔ مرحبا ریستوران سے پہلے سڑک سے ملحق جہاں اک بیریئر پر ملٹری پولیس کا جوان کھڑا ہے وہاں سے کچھ سیڑھیاں نیچے اترتی ہیں اور جہاں نیچے ایک مارکیٹ ہے جس کے شروع میں ڈرائی فروٹ کی دکانیں اور پھر اگے جاکر چائنہ کی مصنوعات اور اس کے علاوہ کچھ مقامی مصنوعات کی دکانیں ہیں جہاں یہ مارکیٹ ختم ہوتی ہے وہاں سے سیڑھیاں نیچے کی جانب اترتی ہیں اور اوپر سے بھی سیڑھیاں نیچے کو آتی ہیں اور اگلے پیراگراف میں آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ سیڑھیاں کہاں لے جاتی ہیں۔

مال روڈ کے اس اختتام پر مرحبا ریستوران کے بعد تھوڑا آ گے شاید عثمانیہ سے پہلے یا بعد میں بھی سیڑھیاں نیچے کی جانب جاتی ہیں جہاں سیڑھیوں کے خاتمے کے بعد تیزی سے نیچے اترتی ہوئی ڈھلان پر واقع ایک پتلی گلی میں دونوں طرف گرم کپڑوں اور پرانے جوتوں کی دکانیں دیکھنا اپنے اپ میں ایک الگ منظر ہے کہ یہ روایتی پہاڑی بازار کی ایک شکل ہے جو شاید مری میں کہیں اور نہ ملے۔

عثمانیہ ریستوران سے اگے اب ایک پلازہ بھی بن چکا ہے جہاں پزا اور فاسٹ فوڈ اور ویڈیو گیمز کی دکانیں ہیں۔ اس روڈ پر چلتے جائیں تو ٹی بی سینی ٹوریم اور ملٹری ہسپتال سے آگے کی جانب کچھ مڑتی ہوئی کشادہ روڈ کے ایک طرف پہاڑ پر بنی ہسپتال اور دیگر عمارتیں اور دوسری طرف صنوبر کے درختوں کے ساتھ وادی کا ایک وسیع منظر والا خوبصورت نظارہ ساتھ چلتا ہے۔ کچھ دور اگے چلیں تو بائیں ہاتھ پر ایک قدیم الپائن بیکری کو دیکھنا خود ایک منفرد سا نظارہ ہے اور چلتے جائیں تو آگے یہ سڑک دو حصوں میں تقسیم ہو رہی ہے ایک نیچے کی جانب اور دوسری اوپر کی جانب جاتی ہوئی سڑک جہاں اگے جاکر فلیگ اسٹاف ہاؤس اور اس سے اگے پھر جب یہ روڈ ختم ہونے جیسی لگتی ہے تو پنڈی پوائنٹ اتی ہے جہاں اب بائیں ہاتھ پر وادی کا ایک اور مختلف نظارہ اور سڑک کے کنارے پر اب بھی کچھ لکڑی سے بنے چائے اور کھانے کے کیبن ایک پرانی یاد اور منظر کا حصہ ہیں۔

یہاں پنڈی پوائنٹ سے چیئر لفٹ کے ذریعے کشمیر پوائنٹ تک آرام سے پہنچا جائے تو پھر کشمیر روڈ پر ایک کشادگی بھرا تین راہا یا چو راہا سا ہے جہاں سے ایک راستہ مال روڈ کے جی پی او چوک کو جاتا ہے اور اس جگہ بھی بہت سے مختلف منظر ہیں جو دل کو بھا لیتے ہیں اور اس کشمیر پوائنٹ سے کچھ راستے نکلتے ہیں جو مری کی دیگر گلیات کو جوڑتے ہیں۔ یہاں سے ایک راستہ نکلتا ہے جو پتریاٹا کو لے جاتا ہے۔

اب لکھنے کو بہت سے زیادہ لفظ ہیں کیوں کہ مری تو ایک محبت ہے اور محبت پھر لفظوں سے کیسے بتائی جائے مگر بس اک کوشش ہے۔

مری کے بارے میں پہلے بھی لکھا گیا اور مزید بھی لکھا جاتا رہے گا مگر دراصل مری ایک جگہ ہی نہیں بلکہ ایک تجربہ ہے جسے محسوس کرنا اور اس کے بارے میں کہنا یا لکھنا الگ الگ دنیاؤں کی باتیں ہیں۔

اور مجھے لگتا ہے کہ مری مرا ایک عشق مسلسل ہے اور رہے گا کہ ہمیشہ وہاں جانا، رہنا، گھومنا اور وہاں کی ہوا کو محسوس کرنا، درختوں کو دیکھنا اور ان کے پتوں سے ہوا کے ٹکرانے کے بعد کی آوازیں اور مری کے گھروں کی سرخ چھتیں، پہاڑ سے وادی کے منظر، بادلوں کو دیکھنا، ان کے بیچ سے گزرنا اور دھند میں چلتے جانا۔ سب ایسے تجربے ہیں جن کو دہرانے کی خواہش ایک خواہش مسلسل ہے جو الگ الگ روپ دھارتی ہے۔ کبھی کسی عمارت میں وقت بتانے کی تو کبھی کسی قطعے پر ایک گھر بنانے کی اور وہاں رہ کر مری کے مختلف موسموں کو دیکھنا، محسوس کرنا اور موسموں کو بدلتے دیکھنا۔

روپ بدلتی خواہشیں زندگی میں امید کا پرتو جیسی ہیں۔ ایک خواب دیکھنا اور پھر اور خواب دیکھنا اور پھر اور بہت سے خواب دیکھتے رہنا ہی زندگی کا زندہ پن جگاتی ہیں۔
مری میں پھر آؤں گا کہ مجھے محسوس کرنے کی اور تمنا ہے اور کچھ خواہشیں ہیں کہ وہاں، وہاں اور جہاں وقت بتانا ضروری ہے۔ بس کہنا چاہتا ہوں کہ مری تم اب بھی منفرد ایک الگ سا شہر ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •