کرتار پور میں بیتا ایک دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی پیدائش اور موت کے درمیان مسلسل سفر کا نام ہے۔ انسان اس کا ایک مسافر ہے۔ اس کی مسافت متحرک اور غیر متحرک لمحات پر مشتمل ہے۔ جو حرکت کا دامن تھام لے زندگی اسے اپنے رازوں سے پردہ اٹھانے دیتی ہے جو جتنا راز پاتا جائے وہ اتنا ہی حقیقی معنوں میں زندگی کے کم و کیف میں تصرف کرتا چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف زندگی رک جانے والوں سے منہ موڑ لیتی ہے۔

جدوں کنڈ سجناں ول ہوئی
تے اجاڑ الے مونہہ ہو گیا
شاعر:رائے محمد خاں ناصر

یہ دونوں حالتیں : حرکت اور مجہولیت زندگی کے ہر شعبہ پر لاگو ہوتی ہیں، سیاست، معاشرت، علم و ادب، معاشیات، امور خانہ داری اور سیرو سیاحت وغیرہ پر۔ یہ تحریر علم و تعلیم اور سیروسیاحت میں متحرک زندگی جینے والوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ گزشتہ دنوں ہماری کلاس religious pluralism کا اسٹڈی ٹور کرتار پور، تحصیل شکر گڑھ، ضلع نارووال کے لیے شعبہ تاریخ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے دس بل کہ اگر ڈرائیور کو شامل کیا جائے تو گیارہ لوگوں پر مشتمل روانہ ہوا۔

دو اساتذہ اور نو پی ایچ ڈی اور ایم فل کے طالب علم تھے۔ دونوں اساتذہ سچ میں اپنے میدان میں متحرک زندگی کی تعریف پر ہر لحاظ سے پورا اترے۔ پورا اترنے کے لیے بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے تب کہیں جاکر اس سفر کی منزل نصیب ہو پاتی ہے۔

میری مراد یعنی ڈاکٹر طاہر کامران ( استاد، تاریخ دان، مترجم، کالم نگار، سابقہ صدر شعبہ تاریخ جی سی یو لاہور، اقبال چیئر فیلو کیمبرج یونیورسٹی انگلینڈ) جو آج کل بیکن ہاؤس یونیورسٹی میں اپنے تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ میری نظر میں بڑا استاد وہ ہے جو بڑے استاد پیدا کرے اور اپنے مضمون کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے۔ ڈاکٹر صاحب کا تاریخی کام کئی کتابوں اور آرٹیکلز پر مشتمل ہے جو پاکستانی تاریخ نویسی میں الگ شناخت کا حامل ہے۔

2016 میں آپ کی اب کی آخری کتاب ایان ٹالبوٹ کے ساتھ بعنوان
Lahore In The Time of Raj, Penguin Viking India
سے شائع ہوئی۔ جو لاہور کی تاریخ پر ایک مستند حوالہ سمجھی جا رہی ہے۔ آپ کے شاگردوں کی تعداد تو کافی زیادہ ہے مگر میں یہاں تین شاگردوں کا ضرور ذکر کرنا چاہوں گا:ڈاکٹر عرفان وحید عثمانی (استاد جی سی یو لاہور) ، ڈاکٹر حسین احمد خاں (صدر شعبہ تاریخ، جی سی یو لاہور) اور ڈاکٹر علی عثمان قاسمی (صدر شعبہ تاریخ لمز یونیورسٹی لاہور) ۔

تینوں اپنے استاد کے مشن کو پاکستان میں نہ صرف آگے بڑھا رہے ہیں بل کہ تاریخ نویسی میں نئے رجحانات کو متعارف کروا رہے ہیں۔ پاکستان میں نظریاتی بنیادوں کی درستگی اور آگاہی کے لیے جتنے اچھے اور معیاری تاریخ دانوں کی ضرورت ہے اتنی کسی اور شے کی شاید نہ ہو۔ اچھی اور معیاری تاریخ کسی بھی قوم کو اپنا حال اور مستقبل بہتر بنانے کی بنیادیں فراہم کر سکتی ہے مگر بد قسمتی سے ہماری ریاست تاریخ سے خوفزدہ ہی رہی۔ خوف نے اسے کبھی اس طرف متوجہ ہی نہیں ہونے دیا؛بلکہ ایسی تواریخ لکھوائی گئیں جن کے پیچھے مذہبی و تہذیبی تعصبات کار فرما تھے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ تاریخ سے ڈرنے کے بجائے اسے قبول کیا جائے اور اس کے تناظر میں اپنی اصلاح کے پہلو تلاش کیے جائیں۔ دوسرے (ہماری اس کلاس کے استاد ڈاکٹر امبر بن عباد جن کی کتاب
Sufi Shrines and the Pakistani State کو I. B. Tuaris
جیسے بین الاقوامی ادارے نے شائع کیا ہے۔ ) استاد روایتی طریقہ تدریس کی بجائے تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ علم ایک تو کتابی ہوتا ہے اور دوسرا وہ جس پر یہ (کتابی علم) تشکیل پاتا ہے۔

ڈاکٹر امبر سے پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ پڑھاتے ہوئے دوسری قسم کے علم کو بنیاد بناتے ہیں۔ وہ مشاہدے، تجربے، زندگی کی حقیقتوں، اسفار وغیرہ سے ان بنیادوں میں مضبوطی پیدا کرتے ہیں۔ جو طالب علم ان کی تکنیک کو سمجھ گیا وہ پھر ان کا مرید ہو گیا۔ آپ دونوں بلا مبالغہ اپنے کام کی وجہ سے عالمی سطح پر ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ دونوں عظیم اساتذہ کی سنگت میں یہ سفر ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔

طے یہ پایا کہ سب نو بجے جی سی یو سے روانہ ہوں گے۔ ڈاکٹر طاہر کامران وقت سے پانچ منٹ پہلے پہنچ گئے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عظیم لوگ اپنے کام کے ساتھ ساتھ وقت کے پابند بھی ہوتے ہیں ؛مگر ہماری ویگن کو آنے میں آدھا گھنٹہ لگ گیا۔ بیٹھتے بٹھاتے پونے دس بجے یہ قافلہ امبر صاحب کی طرف روانہ ہوا جو شادمان سٹاپ پر ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ان کو سوار کرنے کے بعد ویگن منزل کی جانب گامزن ہوئی۔ سارہ افتخار یا کومل بٹر ان میں سے کسی ایک نے میوزک لگانے کا بولا۔

اچانک انگلش گانا چل پڑا۔ جسے بدلنے کا کہا گیا۔ میڈم نور جہاں، عابدہ پروین اور موجودہ دور کا پاکستانی اور بولی وڈ میوزک سنا گیا۔ ہر کوئی اپنی پسند کے حساب سے چلاتا رہا۔ یو ٹیوب اور bluetooth devices کی وجہ سے کوئی بھی گانا سننے میں بہت آسانی پیدا ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر طاہر کامران نے جرنل پڑھنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد امبر صاحب سے مخاطب ہوئے جو فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے۔ ”یہ اقتباس پڑھو۔ دریدا والا“ (دریدا post modernist historian میں ایک نمایاں نام ہے ) ۔

اس کے بعد Micheal Foucault اور Gyatri Spivak کے کام پر سیر حاصل گفتگو ہوئی جو ہم طالب علموں کے لیے کسی خزانے سے کم نہ تھی۔ میں نے طاہر صاحب سے سوال کیا کہ سر آپ گوجرانوالہ کے PDM کے جلسے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ وہ کہنے لگے۔ نواز شریف کی تقریر حیران کن اور دل چسپ رہی۔ حیران کن اس لحاظ سے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنے بڑے پلیٹ فارم پر کسی پنجابی لیڈر نے اتنے واضح انداز میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی معاملات میں چھپے ہوئے چہرے کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی ہے اور دل چسپ اس طرح کہ اس کے بعد اس پر ردعمل کیا آتا ہے۔

میں نے دوسرا سوال کیا۔ کیا پنجاب میں پنجابی شناخت اور زبان کی تحریک زور پکڑ رہی ہے؟ وہ بولے : کسی حد تک زور پکڑ رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا تعلیم کی طرف رجحان بڑھنا ایک بنیادی وجہ ہو سکتی ہے۔ دوسری اچھی بات یہ ہے تعلیمی اداروں، جیسے جی سی یو لاہور، لمز اور دیگر پبلک اور پرائیویٹ اداروں میں پنجابی کے کورسز کا پڑھایا جانا اور شعبہ جات کا کھلنا خوش آئند بات ہے۔ طاہر صاحب سب طلباء سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ سکلز پر توجہ دو۔ ڈگری سکلز کے بغیر کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔

ابھی جواب پورا ہونا باقی تھا کہ موٹروے سے ہم اتر کر مرید کے۔ نارووال روڈ پر چڑھے تو اندازہ ہوا کہ شاید ہی کوئی انسان ہو جسے ساری عمر راحت نصیب ہوئی ہو۔ جب سے موجودہ گورنمنٹ آئی ہے سڑک پر پیچ تک نہیں لگائے گئے ہیں۔ قدم قدم پر کھڈے پڑے ہوئے ہیں۔ عوام تو سانجھی ہوتی ہے۔ اگر اس علاقے سے مخالف جماعت نے اکثریت حاصل کی ہے تو ہارنے والے امیدوار حکومتی جماعت کے تھے۔ ان کے ووٹرز نے ان کو بھی ووٹ دیے تھے۔

ان سڑکوں پہ تو سب نے سفر کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے سڑکوں سے دشمنی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم نے خراب سڑک کی وجہ سے اڑھائی گھنٹے (جو عموماً دو گھنٹے کا سفر ہے ) میں بابا گرونانک ( 1469۔ 1539 ) کی آخری آرام گاہ جہاں انہوں اپنی زندگی کے آخری اٹھارہ بیس سال گزارے، پہنچ گئے۔ بابا گرونانک پنجاب کی دھرتی کے وہ سجرا سورج تھے جنہوں نے انسانیت اور علم کی آبیاری کے لیے اپنا تن، من دھن قربان کر دیا۔ جو تاریخ دان پنجاب کو ان پڑھ اور جاہلوں کی دھرتی لکھتے ہیں ان کے جواب مین بابا گرو نانک کا یہ کلام ہی کافی ہے۔

دھن سو گاگد، قلم دھن
دھن بھانڈا، دھن مس
دھن لکھاری نانکا
جن نام لکھایاسچ

لکھنے پڑھنے اور سچ کی یہ بات پنجاب میں اس وقت ہو رہی تھی جب گورے نے ابھی یہاں پہلا قدم بھی نہیں رکھا تھا (پہلی دفعہ انگریز نے جہانگیر کے دور حکومت میں تجارت کا اجازت نامہ سترہویں صدی کے پہلے عشرے میں لیا) ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ گورے نے چالاکی اور حاضر دماغی سے یہاں کی خوش حالی اور علم و ادب پر ایساحسین ڈاکہ ڈالا کہ پنجاب دھرتی کا رہنے والا مذکورہ اشیاء کو بھول کر دو وقت کی روٹی کا قیدی بن کے رہ گیا۔

قیدی تو داروغہ کا محتاج بن کے رہ جاتا ہے کہ کب وہ دروازہ کھولے اور کب اس سے اس میں قید سے آزاد لمحوں کا احساس پیدا ہوتا ہو۔ بعض کے لیے قید میں یہ ہی امید جینا ٹھہرتی ہے مگر جو قیدی نا امیدی کے ساتھ قید کاٹنا شروع کرتے ہیں۔ وہ قید کا بھی مزہ نہیں لے پاتے۔ ایک کلو میٹر میں تین چار چیک پوسٹ سے گزر کر پارکنگ میں پہنچے تو ہمارا میزبان ہمارے انتظار مین کھڑا تھا۔ ہم سب بوتھ نمبر 4 پر لائن میں لگے۔ شناختی کارڈ کی سکیننگ اور ہم سب کو کیمرے کا سامنے کرنے کے بعد اندر جانے دیا گیا۔ داخل ہوتے ساتھ ہی سامنے گرودوارہ کرتار پور کا نقشہ رکھا گیا ہے۔ کیئر ٹیکر نے دکھاتے ہوئے بتایا کہ یہ دنیا کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا گرودوارہ ہے جسے ایک سال سے بھی کم عرصے میں تعمیر کیا گیا ہے۔

جو سچ میں ایک شاہکار فن تعمیر کا نمونہ ہے۔ عمران خان سے پاکستانی عوام خوش ہو یا نہ مگر پوری دنیا کی سکھ کمیونٹی کے ہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا نام امر کر گئے ہیں۔ داخل ہوتے ساتھ ہی ایک وسعت کا احساس ہوتا ہے۔ آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے تازہ آب و ہوا اس میں تازگی بھر دیتی ہے جس کی خوشبو ہر آنے والا محسوس کر تا ہے۔ اس نے بڑی تفصیل کے ساتھ تمام زیارات کے نہ صرف درشن کروائے بل کہ اس سے متعلق تاریخی پہلووں پر بھی روشنی ڈالی۔

آخر میں آرٹ گیلری اور لنگر خانے لے جایا گیا۔ گیلری میں سکھ مذہب سے متعلق پینٹنگز آویزاں تھیں جو خوب صورت فریموں میں نہایت سلیقے کے ساتھ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھیں۔ لنگر خانے میں ایک ترتیب سے آنے والوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔ ہم سب بھی ایک دری پر بیٹھ گئے۔ میں نے کہا کہ ہمارا کھانا تو ایک دوست کے پاس ہے اگر لنگر کر لیا تو پھر وہ کیسے کھائیں گے مگر امبر صاحب اور بازغہ خاں کے اصرار پر لنگر سب کے سامنے رکھ دیا گیا۔

میرے اور فنیس کے علاوہ سبھی کھانے لگے۔ امبر صاحب مجھ سے کہنے لگے۔ تم نہیں کھا رہے ہو۔ میں نے کہا ”ایک وقت میں دو کھانے نہیں کھا سکتا۔“ وہ کہنے لگے : ”لگتا ہے تم کو دوست کے کھانے کی آس زیادہ ہے کہ وہ یقیناً خاص اہتمام سے بندوبست کیا گیا ہوگا۔“ اب میری دھڑکن تیز ہو گیا کہ معلوم نہیں کیسا انتظام ہو۔ لنگر کے دوران میں اسی موضوع پر بحث ہوتی رہی کہ اگر وہاں کھانا اچھا نہ ہوا تو پھر آپ لوگ کیا کرو گے۔ اس ساری یاترا کی کام یابی کا سہرا بازغہ خاں کو جاتا ہے جنہوں نے اس کا خصوصی انتظام کروایا تھا اور ساتھ میں عائشہ یوسف ہماری تصاویر DSLR پر کھینچتی رہی اور یوں ان یادگار لمحوں کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرتی گئی۔

شام کے چار بج رہے تھے اور ابھی ہمیں شکرگڑھ سے چار پانچ کلو میٹر پہلے راقم کے دوست خیام منظور تاج گجر کے ڈیرے پر کھانا کھانے جانا تھا۔ نارووال سے شکر گڑھ روڈ پچھلے روڈ کے کھڈوں کو بھی مات دے گیا۔ یہاں کرتار پور گردوارہ موجودہ حکومت کی عظمت کی گواہی دے رہا تھا وہیں نکلتے ساتھ یہ کھڈوں زدہ روڈ نالائقی اور نا اہلی کا رونا رو رہا تھا۔ یہ دس منٹ کا سفر آدھے گھنٹے میں طے کرنے کے بعد جب ہم پہنچے تو گجر صاحب ہمارے منتظر پائے گئے۔

قدیم ڈیرہ اپنے شاندار ماضی کی گواہی دے رہا تھا۔ جسے دیکھ کر سب تاریخ کے اساتذہ اور طالب علم متاثر ہوئے۔ ہمارے میزبان ہمیں اپنی تحصیل کی تاریخ بتانے لگے۔ شکر گڑھ چڑھتے سورج کی دھرتی بھی کہلاتا ہے۔ وڈا بھائی مسرور (وڈا بھائی اس علاقے کی مقدس ہستی ہیں جن کے بے شمار ماننے والے ہیں۔ ان کے عرس پر ایک بڑا میلہ سجتا ہے ) کے مقام سے پاکستان کا سٹینڈرڈ ٹائم لیا جاتا ہے۔ شکڑگڑھ آزادی سے پہلے ضلع گرداس پور کی تحصیل تھی جسے آزادی کے بعد ضلع سیالکوٹ سے منسلک کر دیا گیا اور جب 1992 میں نارووال کو ضلع کا درجہ ملا تو اسے اس کی تحصیل بنا دیا گیا۔

پاکستان کا آخری ریلوے اسٹیشن بھی شکر گڑھ میں چک امروہ میں ہے جو تقریباً دو عشروں سے بند پڑا ہے۔ شکر گڑھ کو دو بارڈر (انٹر نیشنل بارڈر اور ورکنگ بارڈر) کی سر حد لگتی ہے۔ یہاں ایک اندرا موڑ ہے۔ بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی جب یہاں 1971 کی جنگ کے بعد آئی تو اس کے بعد نام پڑ گیا جسے بعد میں پاسبان موڑ کر دیا گیا۔ ہمارے آنے پر پر تکلف کھانا لگا دیا گیا تو میری پریشانی ختم ہوئی کیوں کہ مہمان نوازی اور کھانے کو سب نے بہت پسند کیا اور جنہوں نے لنگر پیٹ بھر کے کر لیا وہ اپنے فیصلے پر سوچنے لگے۔

کھانے کے دوران میں امبر صاحب خیام سے علاقے کی تاریخ کے متعلق جان کاری لیتے رہے۔ خیام کے ایک فیکٹ پہ کہنے لگے کہ ریاستی تاریخ وقت کی محتاج ہوتی ہے جب کہ لوکل تاریخ روٹڈ ہوتی ہے۔ اس لیے بعد الذکر کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ڈاکٹر طاہر کامران نے تمام شرکاء کو متوجہ کیا اور امبر صاحب کی اس بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا یہ بات اتنی آسانی سے امبر جیسا تاریخ دان کہہ سکتا ہے۔ وہ کھل کر امبر صاحب کی تعریف کرتے رہے۔ کھانا کھا کر واپسی کا سفر شروع ہوا جو (سارے سفر کے دوران میں احسن لالی اور ہما دونوں کی کسی بھی موضوع پر نہ بولنے کی ضد قائم رہی) واپس لاہور آ کر فوڈ اسٹریٹ کی تندوری چائے پر یہ خوب صورت سفر اختتام پذیر ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •