پنجاب: لواخ کے بدلتے معنی کے تناظر میں

وہ شاعر اور ادیب جو مٹی کے بیانیے پر حملہ آور فاتحین کے بیانیے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کی آبیاری کرتے نظر آتے ہیں، مقامی کلچر اور زبان کے دشمن ہوتے ہیں اور کسی قوم کی پستی کے سب سے بڑے ذمہ دار یہی نظریہ ساز ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مٹی سے جڑے ادیب اور شاعر اپنی اصل شناخت کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں ؛اختر رضا سلیمی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔

Read more

تقسیم ہندوستان میں لاہور پر کیا گزری

لاہور کو اگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یہ شہر بیک وقت بدقسمتی اور خوش بختی کا استعارہ ہے۔ خوش قسمت یوں کہ یہ ہزاروں سال سے تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہے اور بدقسمت ایسے کہ مختلف ادوار میں کئی ایک حملہ آور حکمرانوں کی منشا کے مطابق سیاسی، سماجی، مذہبی، معاشی اور نظریاتی رنگ بدلتا رہا ہے۔ اس خوش قسمتی اور بد قسمتی کے درمیان میں ایک بات تو قابل ذکر ہے کہ لاہور نے اپنا مرکزی

Read more

ہستی ایک مٹھی ریت کی

فطرت کا انتظام ایک مکمل نظام ہے۔ جس میں ہر چیز تسلسل کے دھارے میں رواں ہے اور وقت کی بھی پابند ہے۔ انسان اگر اس میں بگاڑ پیدا نہ کرے تو یہ بنی نوع آدم کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ جب مخلوق کی طرف سے کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے تو فطرت پھر بھی کوئی نہ کوئی راہ چھورتی ہے جس پر چل کر زوال زدہ انسان یا معاشرہ اپنی ترقی کی منزل کے طرف سفر جاری رکھ

Read more

انسانیت:روبندر ناتھ ٹیگور سے جسٹس جواد ایس خواجہ تک کا سفر

زندگی اپنے انجام تک وقت کے دائرے میں خوشی اور غم سے نبرد آزما رہتی ہے۔ شاید اس دائرے میں خوشی کا پھیلاؤ کم اور غم کا زیادہ ہوتا ہے۔ وقت کی آنکھوں میں نہ تو نیند کی لالی چھاتی ہے نہ ہی موت کے خوف سے زرد رنگ۔ اس کا ان دیکھا وجود رہتا ہے۔ وقت کا سفر ایک ایسا سفر ہے جس پر گامزن ہو کر منزل کا ادراک شاید ممکن نہیں۔ مادی دنیا میں انسانی زندگی کا

Read more

سرمد کھوسٹ کی کملی میری نظر میں

فلم ”کملی“ دیکھتے ہوئے آغاز میں بچوں کی زبانی جب یہ ڈائیلاگ سنا: ”بالوں کڑیوں ونڈے دی شے لے جاؤ“ تو مجھے سترہ اٹھارہ سال پہلے کا وہ واقعہ یاد آ گیا۔ جب 2005 ء میں سرمد سلطان کھوسٹ سے میری پہلی ملاقات ہوئی۔ وہ اپنے ڈرامہ سیریل ”تماشا گھر“ کی ایک قسط ”ماگھ کی چار تاریخ“ کی شوٹنگ کے لیے ہمارے گاؤں کوٹ رائے امیر علی آئے۔ شوٹنگ کا آغاز چاول تقسیم کرتے ہوئے اسی ڈائیلاگ ”بالوں کڑیوں ونڈے

Read more

دی لیجنڈ آف مولا جٹ اور دی ریٹرن آف پنجابی فلم

فلم بنانا بظاہر آسان کام نظر آتا ہے کیوں کہ شائقین اسے مکمل ہونے کے بعد دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ وہ اس کے بننے کے سفر سے بے خبر ہوتے ہیں۔ ہر فلم کے بننے میں سینکڑوں اور بعض دفعہ ہزاروں افراد اور کئی ماہ و سال لگ جاتے ہیں۔ جس میں اداکار، تخلیق کار، گلوکار، موسیقی کار، ایکشن ڈائریکٹر، کیمرہ مین، ڈانس ڈائریکٹر، کہانی کار، شاعر، سیٹ ڈیزائنر، میک اپ آرٹسٹ، آرٹ ڈیزائنر، پروڈکشن ٹیم، ایکسٹراز اور پروڈیوسر وغیرہ

Read more

عبدالمجید کھوکھر یادگار لائیبریری: رسائل و جرائد کا فقید المثال گنجینہ

کائنات کی وسعت کا اندازہ لگانا انسانی عقل کے بس کی بات نہیں تو بالکل اسی طرح انسان اور اس کے ممکنات کا پوری طرح ادراک ناممکن عمل ہے۔ انسان کی داخلی دنیا وہ راز ہے جس سے کوئی دوسرا بندہ پردہ نہیں اٹھا پایا۔ ہر انسان دوسرے سے اپنی طبع، شوق، مزاج، پسند نا پسند کی بنیاد پر مختلف ہے اس لیے مکمل تعریف نہیں ہو پاتی۔ عموماً ہر انسان دوسرے کو اپنی ضروریات اور مطلب کی تکمیل کی

Read more

نصیر خان بلوچ: عجب آزاد مرد تھا

شاعری تب شاعری ہے جب حسن خیال، لفاظی، اوزان و بحر، قافیہ پیمائی، زمین اور صنائع بدائع کے حسین امتزاج میں ایک خوب صورت، مربوطیت، معنی کی گیرائی و پہنائی، صوتی آہنگ، مٹی، کلچر کی خوشبو، زبان کی چاشنی، حسین انداز بیان اور کلام میں ایک پر جوش توانائی نمایاں طور پر موجود ہوں۔ بہت کم شاعر ان سب چیزوں کا احاطہ کر پاتے ہیں۔ مگر جو اپنے صحیح معنی میں استاد کے مقام پر فائز ہوتے ہیں وہ بجا

Read more

اردو شاعری کے افق پر ایک نیا ستارہ

”مٹی کی دعا“ سلیم حسنی کی شاعری کی پہلی کتاب ہے۔ جو آزاد نظم اور غزلوں پر مشتمل ہے۔ بلوچستان کے ضلع بارکھان سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے اس شاعر نے اعلی تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا۔ جی سی یو لاہور سے انگریزی ادب میں بی اے (آنرز) کیا۔ اس دوران میں یونیورسٹی کے سالانہ ادبی مجلے ”راوی“ کے مدیر رہے۔ آج کل محکمہ تعلیم (کالجز) حکومت بلوچستان میں بطور انگریزی لیکچرر اپنی ذمہ داریاں سر انجام

Read more

جی سی یونیورسٹی لاہور کا پنجابی مشاعرہ اور ہماری ماں بولی

جی سی لاہور ہندوستان میں نو آبادیاتی دور کے پہلے عشرے میں وجود میں آیا۔ 1864 ء سے قیام شدہ یہ ادارہ کئی حوالوں سے دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ زندگی کے مختلف شعبوں میں کار ہائے نمایاں سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا ادارہ جہاں آپ کو پاکستان کے دیگر تعلیمی اداروں سے ایک مختلف کلچر ملتا ہے۔ بقول ڈاکٹر طاہر کامران (سابقہ صدر شعبہ تاریخ، سابقہ ڈین آف

Read more

رنگوں سے فطری حسن کو سامنے لانے والا مصور: وصی حیدر

انگریز کو بڑی تگ و دو کے بعد مغل حکمران جہانگیر ( 1627۔ 1569 ) سے ہندوستان میں اپنی تجارت کا اجازت نامہ ملا۔ یہ دور مغلیہ سلطنت ( 1707۔ 1526 ) کے عروج کا زمانہ تھا۔ جس میں فنون لطیفہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھے۔ اس میں فنون لطیفہ سے متعلقہ ماہر افراد کو دربار میں خاص مقام اور اعلی کارکردگی پر اعزاز و انعامات سے نوازا جاتا تھا۔ تمام بڑے گلوکار، آرٹسٹ، صاحب علم

Read more

ساکا ننکانہ کے سو برس اور نوری کیمبوکا کے ڈھولے

تاریخ وہ موضوع ہے جسے مذہب اور سیاست دونوں نے ہمیشہ سے اپنے گھر کی باندی سمجھا ہے۔ ان دونوں کی ہر چیز میشل فوکو کے مطابق مرکزیت کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ اسی لیے ان کا بیانیہ عام لوگوں کی تاریخ سے ہمیشہ متضاد نظر آتا ہے۔ مرکز معاشرے میں طاقت کا سب سے مضبوط ادارہ ہے۔ اسی لیے وہ اپنا بیانیہ پھیلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف مرکزیت کے زیر اثر پسنے والوں کی آواز

Read more

جنوبی ایشیا کی تہذیب و تاریخ اور جدید پاکستانی تاریخ دان

مٹی، پانی، آگ اور ہوا کے اشتراک سے وجود پانے والی شے انسان ہے۔ چار اشیاء کا مرکب ہونے کی وجہ سے ہر انسان طبیعت میں دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اس مختلف پن کی وجہ سے ہر انسان کا مظاہر فطرت کو دیکھنے اور پرکھنے کا انداز بھی جدا ہے۔ میشل فوکو کے بقول انسانی فکر ثقافتی تشکیل کی مرہون منت ہے۔ میرے خیال میں انسان فطرتاً دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو فوکو کی بات کو

Read more

پاکستانی عورتوں کے فن مصوری پر ایک نظر

کائنات میں زمین کا سیارہ نئے سے نئے امکانات کی آماج گاہ ہے۔ اس میں فطرتی بہاو اور افراد کا تشکیلی تموج دونوں کے درمیان کشاکش جاری ہے۔ بعد الذکر تموج ہر ممکن کوشش میں لگا ہوا ہے کہ اول الذکر پر فتح حاصل کی جائے۔ فطرت اور افراد کی اس جنگ میں بعض افرادی درد رکھنے والے انسان اس لڑائی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ تمام افراد کو فطری آزادی مل سکے۔ افراد کی دو اقسام جن میں پہلی

Read more

فن مصوری میں بولتی چڑیاں

لفظوں کی طرح رنگوں کی اپنی دنیا ہے۔ جو مصنف اور آرٹسٹ دونوں کی سوچ سے تعمیر پاتی ہیں۔ تعمیراتی سوچ کادائرہ جتنا وسیع، مکمل اور انسانی زندگی کا احاطہ کرے گا اتنی ہی کسی تہذیب، معاشرے یا علاقہ کی بنیادیں مضبوط ہوں گی۔ دونوں اپنے اندر وہ طاقت چھپائے ہوئے ہیں جو اشخاص، اقوام اور ملکوں میں سے کسی کی قسمت سنوار سکتی ہیں اگر وہاں کے رہنے والے نفوس اس کا استعمال عملی زندگی میں کریں۔ مذکورہ بات

Read more

راج دھارا تے لوک تکنی اور ڈاکٹر سعید خاور بھٹا

وقت گزرے جا رہا ہے، زندگی بسر ہو رہی ہے۔ دونوں کے بیچ میں انسان اپنے حصے کا دورانیہ پورا کر کے اچھی بری یادیں چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی حقیقت موت کو گلے لگا کر واپس اپنی ماں (مٹی) میں دفن ہو جاتا ہے۔ ماں سے ماں تک کا یہ سفر ہر آنے والے کو طے کرنا پڑتا ہے۔ طے کرنے کا عمل نشاں دہی کرتا ہے کہ یہ مرنے والے کے ورثا کے لیے فخر یا

Read more

کرتار پور میں بیتا ایک دن

زندگی پیدائش اور موت کے درمیان مسلسل سفر کا نام ہے۔ انسان اس کا ایک مسافر ہے۔ اس کی مسافت متحرک اور غیر متحرک لمحات پر مشتمل ہے۔ جو حرکت کا دامن تھام لے زندگی اسے اپنے رازوں سے پردہ اٹھانے دیتی ہے جو جتنا راز پاتا جائے وہ اتنا ہی حقیقی معنوں میں زندگی کے کم و کیف میں تصرف کرتا چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف زندگی رک جانے والوں سے منہ موڑ لیتی ہے۔

Read more

اختر رضا سلیمی کی ناول نگاری

ناول نگاری ادبی اصناف میں ایک ایسی صنف ہے جو مصنف کے خیال کے اظہار کے لیے اپنا دامن اتنا وسیع کر دیتی ہے کہ جس کی وسعت کو سمندری وسعت سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ ناول بے شتر مہاڑ گھوڑا ہے جس کی کوئی روک ٹوک نہیں بل کہ جتنا وسیع خیال کا دامن ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ محنت اور جتن ناول نگار کو لکھنے کے دوران میں کرنے پڑتے ہیں۔ وہ تب جاکر

Read more

ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

بیج کو پودا، پودے کو درخت بننے میں خاصا وقت اور اچھی دیکھ بھال درکار ہوتی ہے۔ ایک خاص عمر کے بعد اس درخت کی جسامت پر کسی خزاں اور بہار کا کوئی اثر نہیں ہوتا سوائے پتوں کے جو خزاں میں گر جاتے ہیں اور بہا ر میں نئے نکل آتے ہیں۔ بعض درخت جن کی عمریں لمبی اور چھاوں بھی گھنی ہو تی ہے۔ وہ سب کے لیے خیر اور مل بیٹھنے کا بہانہ بن جاتے ہیں۔ افسانوی

Read more

ریشماں کا عاشق اور منٹو کا ہم پیالہ و ہم نوالہ: بلونت گارگی

میری ناقص رائے کے مطابق بلونت گارگی بھی ایک ایسا ہی تخلیق کار تھا۔ جس نے پنجابی زبان کو بہت کچھ دیا جو سراہے جانے کے قابل ہے۔ بلونت گارگی بٹھنڈا، پنجاب، انڈیا میں پیدا ہوا۔ پڑھنے کے لیے لاہور آ گیا اور پھر اسی شہر کا ہو کر رہ گیا۔

وہ لاہور میں مال روڈ کے آس پاس کسی گلی محلے کا رہنے والا تھا۔ گارگی نے ایف۔ سی۔ کالج لاہور سے ایم۔ اے انگریزی اور سیاسیات کیے اور آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہو گئے۔ جہاں ان کی فنکاروں ادیبوں اور شاعروں وغیرہ سے دوستی ہونا ایک فطری سی بات تھی۔ وہ استاد، افسانہ نگار، ناول نگار، تھیٹر ڈائریکٹر اور ڈرامہ بھی لکھتا تھا۔ جن کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوا۔ وہ تھیٹر کے حوالے سے پوری دینا میں جانے جاتے تھے۔ انہوں نے دنیا کے کئی ملکوں میں جا کر تھیٹر کیا۔ ان کو 1962 میں ہندوستان سرکار کی طرف سے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، پدما شری ایوارڈ ( 1972 ) اور سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ ( 1998 ) سے نوازا گیا۔

Read more

ہڈالی کا بیٹا خوشونت سنگھ: پنجاب، پنجابی، اورپنجابیت

دریائے جہلم کے پانی میں نہ جانے کیا تاثیر ہے کہ دو بڑے لکھاری پیدا کیے ۔ دونوں ہی ماں (مٹی) کے لیے وجہ شہرت بن گئے، دونوں ہی کو اسے مجبوری میں چھوڑ کر پردیس جانا پڑ گیا۔ میری مراد گلزار صاحب اور خوشونت سنگھ ہیں۔ دونوں کو اپنی مٹی سے انتہا کی محبت رہی۔ خوشونت سنگھ شاہ پور کے ایک گاؤں ہڈالی (موجودہ ضلع خوشاب) کی مٹی سے جنم لینے والا، مگر ہڈالی کا بیٹا، تقسیم کے وقت

Read more

ناول ”ہے“ کیا ہے؟

آپ کسی بھی اتھیسٹ کے سامنے اس ناول کے علم سے فاتح ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ”کائنات کی اتنی بڑی تخلیق، اور وہ بھی اتنی مکمل۔ کیا ایک بگ بینگ سے وجود میں آگئی۔ وہ بھی اس مفروضہ پر کہ گیسیں اوّل سے موجود تھیں۔ نہیں نہیں۔ انسان سے کہیں بھول چوک ہوئی ہے۔ انسان آج جو کہتا چلا آ رہا ہے۔ کہ سب کچھ خود بخود وجود میں آگیا۔ اس کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے“۔ ہماری رائے میں یہ ناول ہر ایک کے لیے ہے۔ علمائے دین اور طالب علموں خاص طور پر اُن طلباء کے لیے جو تقابل ادیان کے مباحث سے دل چسپی رکھتے ہیں۔

Read more