رول ماڈل تھیوری
سحر خیزی کی عادت تو بچپن سے ہو گئی تھی کہ ابا جان کو صبح 6۔ 7 بجے کے درمیان ناشتہ کرنا ہوتا تھا اور گھر میں یہ اصول بھی تھا کہ سب افراد ایک ساتھ ناشتہ کریں گے۔ اب جہاں کہیں بھی جاؤں، کہیں بھی رہوں، دیر تک سو ہی نہیں سکتی ہوں۔ اور ناشتہ کرنے کا وقت گویا میرے ساتھ الارم کلاک کی طرح سیٹ ہو چکا ہے کہ صبح 6۔ 7 کے درمیان ناشتہ کرنا ہی ہے۔ ناشتہ کرنے کے بعد اور آفس کی تیاری کے درمیان کچھ وقت فراغت کا ہوتا ہے جو عموماً سوشل میڈیا کی نذر ہی ہو جاتا ہے۔
آج حسب معمول فیس بک اکاؤنٹ لاگ ان کیا تو ایک فیس بک گروپ میں ایک گروپ ممبر کا سٹیٹس کچھ یوں تھا ”دنیا کا مال تو چھوڑنا ہی پڑے گا۔ سمجھدار وہ ہے جو آخرت کا مال جمع کرے۔ دنیاوی علوم حقیقت میں علوم نہیں۔ حقیقی علم قرآن و حدیث کا علم ہے۔ زندگی ایک سفر ہے اور دنیا مسافر خانہ اور بہترین سامان پرہیز گاری ہے“ ۔
اس سٹیٹس کے ایک جملے سے اتفاق نہیں ہے کہ ”دنیاوی علوم حقیقت میں علوم نہیں۔ حقیقی علم قرآن و حدیث کا علم ہے۔“
دل بہت دکھی ہوتا ہے یہ سوچ کر کہ ہم نے اپنے دین اسلام، جس کو سلامتی کا دین کہا گیا ہے، اس کا یہ مطلب کیسے اخذ کر لیا۔ اس وقت میں اس بحث میں ہر گز نہیں جاؤں گی کہ کیا علوم ہیں اور کیا فنون۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ حقیقی علم ہر گز اتنا ”آسان“ نہیں ہے کہ صرف قرآن اور حدیث کو سیکھ لیا جائے۔ قرآن و حدیث کو سیکھنا تو صرف آغاز ہے۔ دین اسلام کی تعلیمات کا مطالبہ اس سیکھنے سکھانے سے کچھ بڑھ کر کام کرنے کا ہے۔
اور وہ یہ کہ جب ہم کہتے ہیں کہ دین اسلام ایک ضابطہ حیات ہے تو اس کو بس قرآن و حدیث کے سیکھنے تک محدود نہ کریں، بلکہ یہ سوچیں کہ قرآن و حدیث میں بتائے گئے اصول و قوانین کا اطلاق ہماری عملی زندگی میں کس طرح سے ہوگا۔ ہمارے معاشرے، اور اداروں میں قرآن و حدیث کی جھلک نظر آنے کے لیے کن پہلوؤں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید اس طرح کے نظریات و تصورات یعنی ”حقیقی علم قرآن و حدیث کا علم ہی ہے“ ، کی وجہ سے آج مسلم دنیا تحقیق سے دور ہے۔
اقبال کے لفظوں میں
*آتی ہے دم صبح صدا عرش بریں سے
کھو گیا کس طرح ترا جوہر ادراک!
کس طرح ہوا کند تیرا نشتر تحقیق
ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک! *
ابھی ذہن ان سوچوں میں الجھا ہی ہوا تھا کہ واٹس ایپ انباکس میں محترمہ فاخرہ اکرام صاحبہ پرنسپل قرآن انسٹیٹیوٹ فیصل آباد کا پیغام موصول ہوا۔ سیرت النبی کانفرنس کا دعوت نامہ تھا۔ وہ کانفرنس میں نے بذریعہ زوم ایپلیکیشن آن لائن جوائن کی۔ کانفرنس کے ایجنڈے میں مقابلہ نعت و تقریر، خصوصی سکٹ، تقسیم اسناد کے علاوہ محترم محمد بن اشرف کا خصوصی خطاب بموضوع اسوہ رسول ﷺ اور رول ماڈل تھیوری شامل تھا۔ وہ خطاب کیا تھا کہ میرے ذہن کی گتھیاں کچھ سلجھنے لگیں۔ اس خصوصی خطاب کو سننے کے بعد مجھے جو بات سمجھ آئی اس کو مختصراً آپ کے سامنے رکھ رہی ہوں۔ ( اگرچہ میری یہ تحریر محمد بن اشرف صاحب کے خطاب کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے گی)
میں اپنے آس پاس نوجوان نسل کو دیکھتی ہوں تو انھیں اپنے مقصد زندگی سے دور محسوس کرتی ہوں کیونکہ اس نسل کو ان کا حقیقی رول ماڈل ہی نہیں مل رہا ہے۔ اگر رول ماڈلز کی لسٹ بنائی جائے تو اس میں کھلاڑی، اینکر، اداکار، گلوکار، سائنسدان، فوجی، استاد، سماجی کارکن، کولیگ، نگران تربیت یا کوئی ناظم/ناظمہ ہو سکتے ہیں۔ آسان الفاظ میں بات کی جائے تو رول ماڈل کوئی بھی ایسا فرد ہو سکتا ہے جو ہمیں متاثر کرے۔ رول ماڈل سوچ، رویئے، ترجیحات اور اقدار پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اللہ نے تو ہمیں قرآن پاک میں بتا دیا کہ:
البتہ تمھارے لیے اللہ کے رسول (کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے جو اللہ اور قیامت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے۔ (سورہ احزاب : 21 )
اگر ہم قصہ حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کی بات کرتے ہیں تو قرآن میں سات دفعہ اس واقعہ کا ذکر آیا ہے۔ سات دفعہ اس قصہ کی تکرار اس کی اہمیت واضح کرتی ہے
جب ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اللہ نے اسے نکل جانے کا کہا تو اس نے کہا :
وہ (ابلیس) بولا میرے رب جیسا تو نے مجھے بہکایا، اسی طرح اب میں زمین میں ان کے لیے دلفریبیاں پیدا کر کے ان سب کو بہکا دوں گا۔ (سورہ بقرہ: 40۔ 39 )
اور اسی مفہوم کی آیت سورہ الاعراف ( 16۔ 17 ) میں بھی ہے :
بولا اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے تو میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر چلنے والے انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا۔ آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے ان کو گھیروں گا تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔
اب ابلیس کا انسان کو بھٹکانے کا جو مشن ہے اس کے لیے وہ مختلف طریقے اختیار کرتا ہے، انہی میں سے ایک طریقہ سوشل میڈیا ہے۔ ٹک ٹاک کی دنیا کو دیکھ لیں، ٹویٹر، انسٹاگرام، رول ماڈلز کی شکل میں ”دلفریب“ نمونے سامنے رکھ دیے گئے ہیں تاکہ نوجوان نسل اسی میں الجھی رہے۔ رول ماڈل تھیوری یہ کہتی ہے کہ رول ماڈل کسی بھی معاشرے کے خد و خال کا تعین کرتے ہیں کسی بھی رول ماڈل کو معاشرے کے سامنے پیش کرنے سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ٹارگٹ آڈینس کا تعلق کس عمر سے ہو گا، اب یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ تر ٹارگٹ ہماری نوجوان نسل ہے۔
ہر انسان حقیقی رول ماڈل اپنے سامنے دیکھنا چاہتا ہے۔ اور ورچوئل رول ماڈل، حقیقی رول ماڈل تک پہنچنے کا راستہ بنائے گا۔ بحیثیت مسلمان ہمارے سامنے رسول ﷺ حقیقی رول ماڈل ہیں لیکن حقیقی رول ماڈل تک پہنچنے کے لیے جس ورچوئل رول ماڈل کی ضرورت ہے، وہ نوجوان نسل کو نہیں مل رہا ہے۔ اگر والدین سیرت طیبہ سے جڑے ہوئے ہوں گے تو نوجوان نسل کے لیے حقیقی رول ماڈل تک پہنچنا آسان ہو گا۔ بچوں کی تربیت کے لیے دو پہلو خاص طور پر اہمیت کے حامل ہیں پہلا تفہیم بچہ کہ بچے کی نفسیات کو سمجھا جائے، اس کی دلچسپیاں اور شوق کیا ہیں اور پھر اس کے مزاج کے موافق اس کو پلیٹ فارم دیا جائے جہاں وہ سیرت طیبہ کے مطابق کام کر سکے مثلاً طب، انجینئرنگ، بیوروکریسی، ریسرچ غرض کوئی بھی شعبہ زندگی ہو، مقصد یہ ہو کہ ایک مثالی کردار معاشرے کے سامنے نظر آ سکے اور اس مثالی کردار کو معاشرے میں رول ماڈل کے طور پر متعارف کرایا جاسکے۔
دوسرا پہلو تکریم بچہ کا ہے کہ اسے ایک پراعتماد شخصیت بنایا جا سکے۔ فی الوقت مائیں اولاد کی تربیت تین طرح سے کر رہی ہیں کہ انھیں سدھار دیا جائے، کچھ اشارے بتا دیے جائیں کہ انہیں ان اشاروں پہ کس طرح سے عمل کرنا ہے، مثال کے طور پہ مہمانوں کے سامنے کیا رویہ ہو وغیرہ۔ دوسرا بچوں کی وجہ قطع پہ کام کر رہی ہیں اور تیسرا کچھ اسلامی مواد، کچھ دعائیں اور آیات کو حفظ کرا دیا جائے تو اس حکمت عملی کو ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس معاشرے کو مثالی پی ایچ ڈیز، بیوروکریٹس، بزنس ٹائیکونز، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ غرض ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ادارے /پلیٹ فارم پر ”رول ماڈلز“ دیے جا سکیں۔
مجھے تو یہی بات سمجھ آتی ہے کہ حقیقی علم تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب ہم قرآن و حدیث میں بتائی گئی تعلیمات کو عملی طور پر اپنے معاشرے میں لے آئیں گے، اس کے لیے چاہے فنون کو سیکھنے کا ہی راستہ اختیار کر لیں۔ اس بات سے انکار نہیں ہے کہ زندگی ایک سفر ہے اور اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے، اور بہترین سامان پرہیز گاری ہی ہے لیکن زندگی کے مختلف محاذوں پر کام کرتے ہوئے پرہیزگاری کی راہیں کیا ہوں، یہ تعین تو تب ہی ہو سکے گا جب ان راستوں پہ چلیں گے۔


