ٹک ٹاک پر ویڈیو شیئر کرنے والے قتل کے ملزم کے خلاف سوشل میڈیا پر غم و غصہ: ’ایسی ویڈیوز مجرموں کو ہیرو بنا کر پیش کرتی ہیں‘

شہزاد ملک اور ثنا آصف ڈار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں قتل کے ایک ملزم کو راولپنڈی کی سیشن عدالت میں ٹک ٹاک ویڈیو بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔

25 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہے جبکہ اس سے صرف دو قدم کے فاصلے پر ایک پولیس اہلکار بھی کھڑا ہے لیکن ملزم کیمرے کی جانب دیکھ کر بار بار اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہا ہے اور آگے کھڑا پولیس اہلکار اس سب سے بالکل بےخبر ہے۔

سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے راولپنڈی پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے اس شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس ویڈیو کے بارے میں ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی جا رہی ہیں اور عدالت کے اندر اس ویڈیو کو بنانے والے کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد لی جا رہی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس میں آئی ٹی ماہرین کی بھی مدد لی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ ویڈیو کمرہ عدالت میں ہی بنائی گئی یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی کا ’ٹک ٹاک پولیس سٹیشن‘ سیل کر دیا گیا

’ٹک ٹاک ڈیڈی‘ پر بچوں کو خرچہ نہ دینے کا الزام

ٹِک ٹاک ویڈیوز پر پی آئی اے کے عملے کو وارننگ

ویڈیو میں ںظر آنے والا شخص کون ہے؟

واضح رہے کہ 23 اکتوبر کو راولپنڈی کے ایڈیشنل سیشن جج چوہدری باسط علیم کی عدالت میں تھانہ صادق آباد میں درج قتل کے ایک مقدمے کی سماعت چل رہی تھی۔

اس مقدمے میں گواہوں کے بیانات قلمبند ہونے تھے اور سماعت کے دوران اس مقدمے کے مرکزی ملزم حسنین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

اس مقدمے کی سماعت کی پیروی کرنے والے ایک مقامی صحافی کا کہنا تھا کہ اس دوران ملزم کے بھائی نے ان کی ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر شیئر کر دی۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر جہاں صارفین اسے پولیس کی نااہلی کہہ رہے ہیں وہی چند لوگ پاکستان میں قانون کے نظام پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔

عابد جمالی قاضی نے لکھا: ’تفتیش اور کارروائی ہونی چاہیے۔ ایسی ویڈیوز نوجوانوں کے سامنے مجرموں کو ہیرو بنا کر پیش کرتی ہیں۔‘

ثاقب راٹھور نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’راولپنڈی پولیس اتنی بے خبر؟ واہ بھئی واہ۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ‘ اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں۔ ہمارا نظام، ہمارا قانون ملزمان/جرائم پیشہ افراد کو بہت لاڈ پیار کرتا ہے۔ جیل میں جا کر اپنے جرم پر شرمندہ ہونے کی بجائے یہ جرائم پیشہ لوگ برانڈڈ سوٹ بوٹ پہنتے اور مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے۔

ٹی وی میزبان فرح سعدیہ نے لکھا: ’یہ رہا تمہارا قانون اور انصاف، قہر خداوندی ظالموں کو چھوٹ اور مظلوموں پر چڑھ دوڑنے والوں کیلئے ہی ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’ہم اور ہمارے ادارے اس قانون پر سوائے افسوس کے، کر بھی کیا سکتے ہیں۔‘

’ٹک ٹاک بنانے سے روکنے کا کوئی قانون موجود نہیں‘

راولپنڈی کی عدالتوں میں میڈیا کے معاملات کو دیکھنے والے سینیئر سول جج شاہد اعوان کے فوکل پرسن محمد خرم کے مطابق سوشل میڈیا پر چلنے والی اس ویڈیو کو متعقلہ حکام تک پہنچا دیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کمرہ عدالت میں ویڈیو بنانا تو دور کی بات موبائل فون لے کر جانا بھی منع ہے۔

محمد خرم کے مطابق ٹک ٹاک کی جو ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے جس وقت یہ ویڈیو بنائی گئی اس وقت ایڈشنل سیشن جج کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔

لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے صدر ملک وحید انجم کا کہنا ہے کہا کہ اگر کسی کی مرضی کے خلاف کوئی ویڈیو بنائی جائے تو اس کو تو سائبر کرائم کے تحت گرفت میں لایا جاسکتا ہے لیکن ٹک ٹاک بنانے سے روکنے کا کوئی قانون موجود نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کمرہ عدالت میں ویڈیو بنانا بھی توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے اور جس عدالت میں یہ ویڈیو بنائی گئی ہے اس عدالت کے ریڈر کو چاہیے کہ وہ اس اقدام کے خلاف متعقلہ فورم پر درخواست دے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک کی ہر عدالت کے باہر یہ واضح الفاظ میں لکھا ہوتا ہے کہ کمرہ عدالت میں موبائیل لیکر جانا منع ہے۔

ملک وحید انجم نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ان احکامات پر من وعن عمل درآمد نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16703 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp