سرد جنگ: روس کی جاسوسی کے لیے پاکستان کے بڈبیر ایئربیس سے اڑنے والے بدقسمت یو ٹو طیارے اور امریکی پائلٹ کی کہانی

عقیل عباس جعفری - محقق و مورخ، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

یو ٹو جاسوس طیارہ

Getty Images

یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سرد جنگ کا زمانہ تھا۔ دنیا دو سپر پاورز امریکہ اور سویت یونین کے درمیان تقسیم ہو چکی تھی اور دونوں ہی طاقتیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خاموش دوڑ میں مصروف تھیں۔

ایک طاقت سرمایہ دارانہ نظام کی نمائندگی کر رہی تھی اور دوسری کمیونسٹ طرز زندگی کی نمائندہ تھی۔ دونوں کے پاس اسلحے کی فراوانی تھی لیکن دونوں طاقتیں اس کے استعمال سے گریزاں تھیں۔ یہ جنگ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ جاسوسی کے نت نئے طریقوں سے لڑی جا رہی تھی، جس میں ’سی آئی اے‘ (امریکہ کی خفیہ ایجنسی) اور ’کے جی بی‘ (سویت خفیہ ایجنسی) کا کردار بہت اہم تھا۔

ایسے میں یکم مئی 1960 کو سویت وزیر اعظم خروشیف نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے امریکہ کا ایک یو ٹو جاسوس طیارہ مار گرایا ہے اور اس کے پائلٹ فرانسس گیری پاورز کو گرفتار کر لیا ہے۔

سویت حکام کے مطابق یہ طیارہ سویت یونین کی فضائی حدود میں تقریباً 70 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا اور اس میں جدید اور حساس ترین کیمرے لگے ہوئے تھے جن کی مدد سے یہ طیارہ سویت یونین کی اہم تنصیبات کی تصویریں اُتار رہا تھا۔ انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس جاسوس طیارے نے پاکستان کے شہر پشاور کے نزدیک بڈبیر کے فضائی اڈے سے اڑان بھری تھی۔

یہ بین الاقوامی واقعہ عالمی تاریخ کے ساتھ ساتھ پاکستانی تاریخ کے تعلق سے بھی اس لیے بڑا اہم تھا کہ اس سے دنیا بھر کو معلوم ہو گیا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے جہاں سے روسی تنصیبات پر نظر رکھی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ بڈبیر کا فضائی اڈا سنہ 1959 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے خاموشی سے دس سال کے لیے امریکہ کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔ سنہ 1960 میں جاسوس طیارے یو ٹو نے اسی اڈے سے پرواز بھری تھی اور اس کے گرائے جانے کے بعد پاکستان کے اس فضائی اڈے کا انکشاف ہوا تھا۔

یو ٹو کی اس پرواز سے پہلے ہی ترکی اور ایران کے کئی فضائی اڈوں سے اسی نوعیت کے جاسوس طیارے سویت یونین کی حدود میں داخل ہو چکے تھے لیکن اپنی بلند پروازی کے باعث سویت یونین کے ریڈاروں سے اوجھل رہ پاتے تھے۔

سویت حکام صرف اتنا جان پاتے تھے کہ کوئی چیز ہے جو بہت اونچائی پر اڑتی ہوئی سویت حدود میں داخل ہوتی ہے اور واپس چلی جاتی ہے۔ یکم مئی کو جب بڈبیر سے اڑنے والا یو ٹو طیارہ قازقستان کے راستے سے سویت یونین کی حدود میں داخل ہوا تو سویت حکام پہلے سے تیار تھے۔

انھوں نے کوسولینو کے مقام پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایک میزائل سے اسے کامیابی سے نشانہ بنایا اور سویت حدود کے اندر گرانے میں کامیاب ہو گئے۔ پائلٹ فرانسس گیری پاورز نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا دی جسے زمین پر پہنچتے ہی حراست میں لے لیا گیا۔

گیری پاورز کا ساز و سامان جو روس نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا

Getty Images
گیری پاورز اور ان کا ساز و سامان جو روس نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا

امریکیوں کی ایک بہترین ایجاد، ایک زندہ سلامت پائلٹ کے ساتھ سویت حکام کے ہاتھ لگ چکی تھی۔ سویت یونین نے گیری پاورز پر مقدمہ چلانے کا اعلان کیا اور دنیا بھر کی ہمدردیاں سمیٹیں۔

امریکہ کے صدر آئزن ہاور اور پاکستان کے صدر ایوب خان دونوں ہی نے سویت حکام کے ان الزامات کی تردید کی۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ ایک عام سی موسمیاتی پرواز تھی جو راستہ بھٹک کر سویت یونین کی فضائی حدود میں داخل ہو گئی تھی، مگر جب اگست 1960 میں گیری پاورز پر ایک سویت عدالت میں مقدمہ شروع ہوا تو دنیا بھر کو علم ہو گیا کہ سویت حکام کے الزامات بالکل درست تھے۔

19 اگست 1960 کو ماسکو میں قائم سویت یونین کی فوجی عدالت نے فرانسس گیری پاورز کو دس سال قید کی سزا سنائی۔ اس مقدمے کا آغاز دو روز قبل 17 اگست 1960 کو ہوا تھا جہاں گیری پاورز نے اعتراف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یکم مئی 1960 کو انھوں نے پشاور کے نزدیک بڈبیر کے مقام سے اپنے طیارے کی پرواز کا آغاز کیا تھا اور ان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ پرواز کے دوران روسی علاقے کی تصاویر اتاریں۔

روسی عدالت نے گیری پاورز کے اعتراف جرم پر انھیں دس سال قید کی سزا سنائی تاہم ڈیڑھ سال بعد 10 فروری 1962 کو انھیں امریکہ میں قید ایک روسی جاسوس کرنل رڈولف ایبل (اصل نام ولیم فشر) کے بدلے میں آزاد کر دیا گیا۔

یو ٹو طیارے کے اس واقعے کے بعد دنیا بڈبیر کے امریکی فوجی اڈے سے واقف ہو گئی۔ اس انکشاف کے بعد سویت یونین نے پاکستان سے شدید احتجاج کیا اور پھر پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔

دوسری طرف امریکہ نے بھی خاص خاص مواقع خصوصاً سنہ 1965 کی پاکستان، انڈیا جنگ کے دوران پاکستان کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اختیار کیا۔ بڈبیر کا اڈہ دس سال کی مدت کے لیے تعمیر ہوا تھا اور طے ہوا تھا کہ اگر دس سال کے اختتام سے پہلے پاکستان نے اس اڈے کی بندش کا فیصلہ نہیں کیا تو معاہدے میں ازخود تجدید ہو جائے گی اور یہ اڈہ مزید دس برس تک بھی کام کرتا رہے گا۔

معاہدے کی اس شق کے پیش نظر پاکستان نے سنہ 1968 میں امریکہ کو مطلع کر دیا تھا کہ وہ اس اڈے کی معاہدے کی تجدید کے لیے معذرت خواہ ہے۔ 18 جولائی 1969 کو حکومت پاکستان کے ایک سرکاری ترجمان نے اعلان کیا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان دس سالہ معاہدے کے اختتام پر پشاور کے نزدیک بڈبیر کے مقام پر امریکی مواصلاتی اڈے نے گذشتہ شب سے کام کرنا بند کر دیا ہے۔

گیری پاورز عدالت میں

Getty Images

گیری پاورز کون تھے؟

پائلٹ گیری پاورز کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ اس کے والدین کان کنی کے شعبے سے وابستہ تھے مگر انھوں نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

وہ اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے مگر اس نے ایئر فورس کے شعبے کا انتخاب کیا اور سنہ 1952 میں امریکی فضائیہ سے منسلک ہو گئے۔ جنوری 1956 میں ان کی خدمات سی آئی اے نے حاصل کر لیں۔ اسی برس اسے یو ٹو طیارہ اڑانے کی تربیت دی گئی۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد انھوں نے ترکی اور پاکستان میں خدمات انجام دیں۔ اس کے اہلخانہ کو یہ تاثر دیا گیا تھا کہ وہ ناسا کے خلائی پراجیکٹ سے وابستہ ہے۔

گیری پاورز جس جاسوسی طیارے پر خدمات انجام دے رہا تھا وہ انتہائی حساس اور جدید ترین کیمرے سے مزین تھا۔ یہ ہائی ریزولیشن کیمرہ 70 ہزار فٹ کی بلندی سے بھی زمینی تنصیبات کی تصویریں کھینچ سکتا تھا۔ اس طیارے نے پہلے ترکی اور پھر ایران سے جاسوسی پروازوں کا سلسلہ جاری رکھا اور سنہ 1959 میں جب پشاور کے نزدیک بڈبیر کے مقام پر امریکی فوجی اڈہ قائم ہوا تو یہ طیارہ وہاں سے پرواز کرنے لگا۔

سوویت حکام سنہ 1958 سے ہی یو ٹو کی سرگرمیوں سے کچھ کچھ واقف ہو چکے تھے مگر کوئی حتمی ثبوت ان کے ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ یکم مئی کو جب گیری پاورز کا یو ٹو طیارہ گرایا گیا تو سویت یونین کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ پاکستان خاموشی سے ان پروازوں کے لیے تعاون فراہم کر رہا ہے۔

یو ٹو جاسوس طیارہ

Getty Images
جب گیری پاورز کو روسی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا

رہائی کے بعد گیری پاورز وطن واپس لوٹ آئے تو انھیں اپنے ہی ملک کے حکام کی سردمہری کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر الزام لگا کہ انھوں نے طیارے سے چھلانگ لگانے سے قبل کیمرے کو اور اس میں محفوظ تصویروں کو ضائع کیوں نہیں کیا۔ ان پر یہ بھی الزام لگا کہ انھوں نے پیراشوٹ سے چھلانگ لگانے کے بجائے خودکشی کرنے والی گولیاں استعمال کیوں نہیں کیں۔

چھ مارچ 1962 کو انھیں مسلح افواج کی ایک سلیکٹ کمیٹی کے سامنے ان الزامات کی وضاحت کے لیے طلب کیا گیا۔ گیری پاورز سلیکٹ کمیٹی کو مطمئن کرنے میں کامیاب رہے اور ان پر لگائے گئے الزامات واپس لے لیے گئے۔ مارچ 1964 میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر ایلن ڈیلس نے گیری پاورز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انھوں نے انتہائی خطرناک حالات میں اپنے مشن کی تکمیل کی۔

سنہ 1962 سے 1970 تک گیری پاورز ایک امریکی فضائی کمپنی میں پائلٹ کے طور پر ملازمت کرتے رہے، اور ان کی تنخواہ سی آئی اے ادا کرتی تھی۔ سنہ 1970 میں انھوں نے کرٹ جنٹری کے تعاون سے ایک کتاب ’آپریشن اوور فلائٹ‘ تحریر کی جس کے بعد امریکی فضائی کمپنی نے انھیں ملازمت سے برخاست کر دیا، جس کے بعد وہ ایک ہیلی کاپٹر اڑانے والے ادارے میں معمولی سی ملازمت کرنے لگے۔

اسی ملازمت کے دوران یکم اگست 1977 کو ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے میں گیری پاورز ہلاک ہو گئے۔۔

گیری پاورز کی وفات کے بعد امریکی حکومت نے انھیں ’سِلور سٹار‘ اور ’پرزنر آف وار‘ میڈل سے نوازا۔ ان کے بیٹے فرانسس گیری پاورز جونیئر نے سنہ 1996 میں ایک کولڈ وار میوزیم قائم کیا جہاں انھوں نے اپنے والد اور دیگر افراد سے وابستہ اشیا نمائش کے لیے پیش کیں۔

فرانسس گیری پاورز کی مہم پر چند ٹی وی ڈرامے بھی بنے۔ سنہ 2015 میں ان کی رہائی پر ایک فلم ’برج آف سپائز‘ تیار کی گئی جس میں اُن کا کردار آسٹن اسٹوول نے ادا کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16663 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp