فرانس: کرونا سے ہلاکتوں میں اضافے کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے ملک میں کرونا سے اموات میں اضافے کے بعد ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کو سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ جمعے سے یکم دسمبر تک ملک بھر میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔انہوں نے کہا کہ دوبارہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا مقصد کووڈ 19 کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے جس کے ایک بار پھر قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ہے۔

صدر میخواں نے خبردار کیا کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر پہلی لہر سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق فرانس میں لاک ڈاؤن آٹھ ہفتوں تک نافذ رہ سکتا ہے۔

فرینچ اوپن: اسٹیڈیم میں صرف ایک ہزار شائقین کو آنے کی اجازت

اس سے قبل بھی موسم بہار میں جب کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی تھی اور اموات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا تھا، ملک بھر میں آٹھ ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔

قوم سے خطاب میں صدر میخواں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوبارہ نفاذ کے باوجود زیادہ تر اسکولز کھلے رہیں گے تاہم ملک کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران عوام کو ضروری سامان اور ادویات خریدنے کی اجازت ہوگی جب کہ لوگ ورزش کی غرض سے صرف ایک گھنٹے کے لیے گھر سے باہر آسکیں گے۔ باقی وقت لوگوں کو گھروں تک محدود رہنا ہوگا۔

لاک ڈاؤن کے دوران سپر مارکیٹس، کیفے، ریستوراں اور دکانیں بھی صرف مخصوص وقت کے لیے کھل سکیں گی تاہم گھر سے باہر نکلنے کا جواز پیش کرتے ہوئے تحریری بیان بھی جمع کرانا ہو گا۔

فرانس میں منگل کو کرونا وائرس سے 523 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔ یہ تعداد رواں برس اپریل کے بعد سے ایک دن کے دوران ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔

​ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران انتہائی نگہداشت کے یونٹس مریضوں سے بھر جانے کا خدشہ ہے۔

‘رائٹرز’ کے اعداد و شمار کے مطابق فرانس میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 35 ہزار سے زائد ہے۔ فرانس کووڈ 19 سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 901 posts and counting.See all posts by voa