اگر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس خالی نہ کیا تو؟
امریکہ میں اس وقت یہ موضوع زیر بحث ہے کہ اگر 3 نومبر کو صدر ٹرمپ الیکشن ہار گئے تو کیا وہ اپنی شکست تسلیم کر کے وائٹ ہاؤس کو چپ چاپ امن کے ساتھ 20 جنوری 2021 کوخالی کر دیں گے۔ ؟ اس ضمن میں بہت سارے منظر نامے پیش کیے جا رہے ہیں۔
ممکن ہے ووٹنگ ختم ہونے کے ساتھ وہ اپنے آپ کو جیتا ہوا امیدوار قرار دے دیں اگر چہ فائنل کاؤنٹ میں کچھ روز اور لگیں گے۔ یا پھرفائنل کاؤنٹ میں شاید ایک ہفتہ لگ جائے تو اس صورت میں غیر قانونی طور پر خود کو صدارت کے عہدے کا حامل قرار دے دیں۔ سب سے اہم سوال جو ذہنوں میں گھوم رہا ہے اور پر یشان کن ہے وہ یہ کہ بالفرض محال وہ الیکشن ہار جاتا ہے مگر وائٹ ہاؤس خالی کر نے سے انکار کر دیتا ہے۔ اگر الیکشن کے نتائج دونوں امیدواروں کے قریب قریب ہوئے تو ہو سکتا ہے صدر ٹرمپ اپنی جیت کا اعلان کر دیں۔ یاد رہے کہ کسی امیدوارکی جیت کے لئے الیکٹرول کالج میں 270 ووٹ حاصل کرنالازمی ہے۔
ادھر تازہ خبروں کے مطابق امریکہ میں عوام الناس 3 نومبر کو صدر ٹرمپ کی شکست کی صورت بے دریغ قتل عام، لوٹ مار، شہری بے اطمینانی کے پیش نظر بے تحاشا اسلحہ خرید رہے ہیں۔ گھر سے باہر نہ نکلے جانے کی صورت میں لوگ دھڑا دھڑ ٹائلٹ پیپر کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔ لوگ ابھی سے سہمے ہوئے ہیں کہ 3 نومبر کے بعد کیا ہوگا؟ لوگوں نے گھروں کے سامنے لان سائن ہٹانے شروع کر دیے ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں لوگوں نے بنکرز بنا لئے ہیں جہاں وہ چھپ کر کئی روز تک سکھ کا سانس لے سکیں گے۔
ملک کی صورت کرونا وائرس کی وجہ سے بڑی خطرناک ہے۔ امریکہ میں کرونا وائرس کے 9 ملین کیسز ہیں اور 225,200 افراد اس موذی مرض سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے اقتصادی صورت حال بھی مندی ہے۔ بیروزگاری حد سے زیادہ ہے۔ مارچ کے بعد سے 22 ملین جابز ختم ہوچکے ہیں اگرچہ ان میں گیارہ ملین دوبارہ آ گئے ہیں۔ صدر کی نظر ہمیشہ ٹی وی ریٹگزپر رہتی ہے۔ حکومت کی طرف سے لوگوں کو کوئی مدد نہیں مل رہی۔ ادھر ویسٹ کوسٹ پر مختلف علاقوں شہروں میں آگ کی وجہ سے تباہی مچی ہوئی ہے۔ ہزاروں افراد کے گھر جل گئے اور متعدد افراد موت کی نیند سو چکے ہیں۔ املاک کا نقصان نا قابل یقین ہے۔ ممکن ہے یہ سول وار کی طرف پہلا قدم ہو جو ایک بار چھڑ گئی تو پھر کئی برس جاری رہے گی۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیز اور اشتعال انگیز تقاریر کی وجہ سے ملک کے عوام دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں ایک وہ جو اس کو انتہا کی حد تک پسند کرتے ہیں اور ایک وہ جو اس کے سخت خلاف ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ الیکشن ریزلٹ کو عمدا متنازع بنائیں گے۔ وہ اپنی شکست کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے ڈاک کے ذریعہ ووٹنگ کے خلاف مہم چلائی ہوئی ہے اور بار بار کہہ چکے ہیں this will be the most rigged election۔ تاریخ میں یہ شاید پہلی بار ہوا ہے کہ ملک کا صدر اپنے ملک کے انتخابات کے بارے میں ایسے مخدوش و مجروح بیانات دے رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی کہ ان کو شکست کے آثار نظر آرہے ہیں۔
وہ وائس پریزیڈنٹ کی امیدوار کمالا ہیرس کا نام جان بوجھ کر بگاڑ کر بولتے ہیں۔ جیسے بچے سکولوں میں کرتے ہیں۔ عورتیں خاص طور پر وہ جو سفیدفام نہیں ہیں اس کے مدنظر مسٹر ٹرمپ نے کمالا ہیرس کے بارے میں کہا کہ وہ monster ہے۔ پھر کہا کہ وہ سوشلسٹ ہے۔ یہ سب پنہاں نسلی امتیاز کی مثالیں ہیں۔ اسی لئے کمالا نے کہا ہے کہ یہ صدر racist ہے۔ اپنے مخالفین کے بارے میں برے نام بولنا، ان کے بارے میں جھوٹ بولنا اس معاملے میں فقید المثال ہے۔
اپنے مخالفین پر وہ طرح طرح کے غلیظ اور اوچھے الزامات عائد کرتے ہیں جو کہ بالکل بے بنیاد ہیں۔ لوگ یہاں ان کو conspiracy theories کا اعلیٰ ترین ایکسپرٹ کہتے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں امریکہ دیگر ممالک کے انتخابات کے موقع پر مبصر (آبزور) بھیجا کرتا تھا اب یہ وقت آیا ہے کہ یہاں غیر ملکی مبصرین کی ضرورت ہے۔
اخباری رپورٹوں کے مطابق عالی جناب صدر محترم پچھلے چار سال میں تیس ہزار جھوٹ بو ل چکے ہیں۔ جب ان کو ان کے جھوٹ کی طرف توجہ دلائی جاتی تو کہہ دیتے کہ میں تو مذاق کر رہا تھا۔ I was kidding۔ مثلا، 12 اکتوبر سے لے کر 16 اکتوبر تک مسٹر ٹرمپ نے مختلف شہروں میں تقریروں کے دوران 46 جھوٹے بے بنیاد دعوے کیے ۔ جیسے اس نے کہا کہ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول CDC نے کہا ہے کہ 85 فی صد لو گ جو ماسک پہنتے ان کو کرونا وائرس ہو گیا ہے؟ یہ با لکل غلط تھا۔ جب ان کو خود کرونا وائرس لگ گیا تو کہا کہ یہ خدا کی طرف سے انعام تھا۔ blessing from God فیس ماسک سے ان کو سخت نفرت ہے حالانکہ ان کے انر سرکل کے 34 افراد کو کرونا وائر س لگ چکا ہے۔ سائنس دان اس کی نظر میں فاتر العقل ہیں جیسے کہ اس نے حال ہی میں ان کو idiots کہا تھا۔
الیکٹرول کالج کے کل 538 ووٹ ہیں۔ آثار نظر آتے ہیں کہ بائیڈن 270 آسانی کے ساتھ حاصل کر کے انتخاب جیت لیں گے۔ ایک جرنلسٹ Trevor Noah کو انٹرویو دیتے ہوئے جوزف بائیڈن نے کہا کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جانے میں پس و پیش کیا تو فوج کے ذریعہ ان کو با ہر نکال دیا جائے گا۔ کانگریس کے ممبر ایڈم سمتھ Adam Smith نے کہا یہ کہ وہ پر امن طریقے سے پاور ٹرانسفر کر دے گا اس کا چانس زیرو فی صد 0 % ہے۔
چاہے مسٹر ٹرمپ ہار جائے امید کی جاتی ہے ملک میں پاورٹرانسفر پر امن طور پر ہو جائے گی۔ ابھی ڈرامہ جاری ہے دیکھئے پردہ کب گرتا ہے۔


