معاشرے میں صحافی کی اہمیت اور کردار


آج کل کے دور میں ہر انسان اپنے اردگرد کے ماحول کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہے اور بدلتے حالات اور بدلتی دنیا میں اپنا مقام، اپنی اہمیت، اور ضرورت کا اندازہ لگانا چاہتا ہے۔ اور یہ سب معلومات اور آگاہی اسے میڈیا کے ذریعے ملتی ہے۔ دنیا میں ہونے والے کسی بھی اہم واقعے کی اطلاع یا خبر ہمیں میڈیا کے ذریعے ملتی ہے۔ صحافت ہی ہمارے تجسس کو پورا کرتی ہے۔

آج کے دور میں صحافت یا میڈیا کی تین اقسام ہیں۔ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا۔

ایک صحافی معاشرے کی زبان ہوتا ہے۔ صحافی اپنے قلم کے ذریعے معاشرے کے مسائل کو منظر عام پر لاتا ہے۔ اور ان کے حل پر زور دیتا ہے۔ صحافی اپنی آواز سے عام لوگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ عام لوگوں کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچاتا ہے۔ وہ عوام کی توقعات اور خواہشات کو موثر انداز سے پیش کرتا ہے۔ ایک صحافی کا کام آسان نہیں ہوتا اسے پورا پورا دن اور پورا پورا ہفتہ یعنی جسے 24 / 7 کہتے ہیں کام کرنا پڑتا ہے۔ صحافی اپنی جان خطرے میں ڈال کر معاشرے کے ناسوروں کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔

وہ کرپٹ، بے ایمان اور بلیک میلرز کے کالے کرتوتوں سے پردہ اٹھانے کی سعی کرتا ہے۔ وہ ملاوٹ کرنے والے اور غیر معیاری اشیا بنانے والے اور عام لوگوں کو مختلف ہتھکنڈوں میں الجھا کر لوٹنے والے مجرموں کے خلاف عوام کا خیر خواہ بن کر سامنے آتا ہے۔ صحافت ہر دور میں اہم رہی ہے اور اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ قیام پاکستان کی جدوجہد ہو تو صحافت کے کردار کو کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے۔ نامور قلم کار اور صحافیوں نے اپنے اپنے اخبارات سے جہاں مسلمانوں میں نئے وطن کے حصول کا شعور اور جذبہ اجاگر کیا, وہیں انہوں نے غیر ملکی حکمرانوں کی چیرہ دستیوں کا بھی پردہ چاک کیا۔

قیام پاکستان کے بعد بھی صحافت ہر دور میں نچلے طبقے کی ترجمان رہی ہے۔ صحافت نے حکمرانوں کا احتساب کیا۔ صحافت نے حکمرانوں کی غلطیوں پر ان کی گرفت کی۔ اور حکمرانوں کی من مانیوں پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ صحافت نے حکمرانوں کو عوامی مسائل حل کرنے پر مجبور کیا۔ بے شمار ایسی مثالیں ہیں کہ میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے بے شمار ایسے اقدامات کیے گئے جن سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچا۔ اور کئی ایسے اقدامات روکے گئے جن سے عوام کو نقصان ہونے کا اندیشہ تھا۔ آج کے حالات میں دیکھیں تو میڈیا ہمیں ہر طرح کی معلومات فراہم کر رہا ہے۔ کرونا وائرس جیسی خطرناک بیماری کے متعلق تمام معلومات ہمیں میڈیا سے ملی ہیں۔ کرونا وائرس کیا ہے، یہ کیسے پھیلا، اس کے علامات کیا ہیں، اس سے بچنا کیسے ہے۔ کیا کیا حفاظتی تدابیر اختیار کرنی ہیں۔ یہ تمام معلومات ہمیں صحافت (میڈیا) کے ذریعے ہی ملی ہیں۔

صحافت کو استعاراتی سطح پر ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ بے شک اگر صحافت کے کردار کو نظرانداز کر دیا جائے تو ریاست کے باقی تین دستوری ستون بھی اپنی اہمیت کھو دیں گے۔ عوام اور حکومت کا باہمی تعلق اور رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ عوام کے مسائل حکومتی حلقوں تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ اور حکومتی فیصلوں یا اقدامات سے عوام بے خبر رہے گی۔ کسی ظلم یا نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا تو عدالتیں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر پائیں گی۔

یہ صحافت کی ہی طاقت ہے کہ ایک عام سے صحافی سے بڑے سے بڑے افسر بھی ڈرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحافی ان کی بدعنوانیوں کو منظر عام پر لے آئے گا تو ان کی نوکری اور اختیار چلا جائے گا۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا چونکہ باقاعدہ ایک پالیسی اور ایڈیٹوریل بورڈ کے تحت کام کرتے ہیں۔ اس لیے ان ذرائع سے ہمیں مصدقہ اور ضروری معلومات اور خبریں ملتی ہیں۔ جبکہ سوشل میڈیا ابھی تک بے لگام گھوڑے کی طرح ہے۔ جس کی طاقت تو بے مثال ہے مگر اسے کنٹرول کرنے کا کوئی مناسب اور موثر حل ابھی تک میسر نہیں ہے۔

لہذا بحیثیت انسان اور پاکستانی ہم سب کا یہ فرض بنتا ہے کہ سوشل میڈیا پر بے جا، فضول اور نفرت انگیز مواد شامل کرنے کے بجائے ایسا مواد شامل کریں جس سے عام انسانوں کی بھلائی ہو اور انسانیت کی بہتری ہو۔ صحافت کا پیشہ ایک مقدس پیشہ ہے۔ صحافی کے قلم کی سیاہی شہید کے خون کے برابر حیثیت رکھتی ہے۔ بشرطیکہ صحافی حق کا دامن نہ چھوڑے اور اپنے فرض کو پوری ذمہ داری سے پورا کرے۔

Facebook Comments HS