امریکہ میں زیر غور قانون سازی۔ سوشل میڈیا کے سر پر جوابدہی کا منڈلاتا خطرہ
امریکہ میں الیکشن کا دور چل رہا ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے آن لائن اور سوشل میڈیا کی اہمیت پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے، ایسے میں سوشل میڈیا کے بڑے نام ٹویٹر، فیس بک اور گوگل پر بھی کڑا وقت آیا ہوا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی جو کمیونیکشن ایکٹ کی دفعہ 230 میں تبدیلی لانے کے بل پر غور کر رہی ہے۔ دفعہ 230 ٹویٹر اور دیگر آن لائن پبلشرز کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ مواد کو سینسر کر سکیں اور ان پر آزادی اظہار کی پابندی جو کہ آئین میں دی گئی ہے کی خلاف ورزی نیز ہتک عزت وغیرہ کا مقدمہ بھی نہیں ہو سکتا
اس قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طرف تو ٹویٹر اور فیس بک وغیرہ نے غیر ممالک کے ساتھ معاہدوں کے تحت ان ممالک کی طرف سے نا پسندیدہ قرار دیے جانے والے اکاؤنٹ اور مواد کو بے دریغ سینسر کیا، جس کی بڑی مثال، ہندوستان کے ساتھ معاہدے اور دباو پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق خبروں اور مواد کو سینسر کرنا، اور ہندوستانی پنجاب میں سکھوں کی آزادی کی تحریک کے متعلق مواد کو سینسر اور اکاؤنٹس اور پیجز کو بلاک کرنا، سعودی حکومت کی طرف سے سعودی حکومت کے ناقدین کو ناطقہ بند کرنا، وغیرہ شامل ہیں
اس میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بہت سا تشدد پسند اور تشدد کو کھلی دعوت دینے والا یا مغربی حکومتوں کے نزدیک ناقابل قبول مواد ان پلیٹ فارمز پر کھلے عام چل رہا ہوتا ہے جس کی بڑی مثال ایران سے آیت اللہ کی طرف سے اسرائیل کو نیست نابود کردینے اور صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی کال کا ٹویٹر فیس بک وغیرہ پر بلا روک ٹوک چلنا ہے
اس سب کے ساتھ امریکہ کی اندرونی سیاست کے اعتبار سے بھی سوشل میڈیا خصوصاً ٹویٹر نے اپنے اختیارات کا استعمال بعض معاملات میں ایسے کیا جس سے ٹویٹر کا لبرل یا اینٹی رپبلکن جھکاو محسوس ہوا
دفعہ 230 میں ترمیم کا بل ریپبلیکن پارٹی کی طرف سے پیش ہوا اور سینیٹ جہاں ریپبلیکن پارٹی کی اکثریت ہے کے کمیٹی چیرمین ٹیڈ کروز نے ایک موقع پر ٹویٹر کے مالک کو کمیٹی سماعت کے دوران آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا:
”Mr۔ Dorsey، who the hell elected you and put you in charge of what the media are allowed to report and what the American people are allowed to hear، and why do you persist in behaving as a Democratic super PAC silencing views to the contrary of your political beliefs؟“
مسٹر ڈورسی، تمہیں کس نے منتخب کیا اور اس بات کا اختیار دیا کہ تم فیصلہ کر سکو کہ کون سی خبر امریکی عوام کو پہنچنی چاہیے اور کون سی نہیں، اور تم مستقلا ڈیموکریٹک پارٹی کے بھونپو کی طرح عمل کرتے ہوئے اپنی سیاسی رائے سے مختلف خیالات پر روک لگا رہے ہو ”
ڈیمو کریٹک پارٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ سماعت اور ترمیم کی کوشش دراصل الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے
سوشل میڈیا کو کئی حوالوں سے خود کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ وہیں سے شروع ہو سکتا ہے جس سرزمین سے سوشل میڈیا کا آغا ہوا۔
جہاں تک پاکستان اور تیسری دنیا کے ممالک ہیں، ان کے ساتھ سوشل میڈیا خصوصاً ٹویٹر اور فیس بک نے بتدریج ایسے خوفناک اور انسانیت اور عزت سے عاری معاہدے کر لیے ہیں کہ بس اللہ دے اور بندہ لے۔
غور کریں کہ ٹویٹر فون نمبر کے بغیر اب صارف کو اکاؤنٹ بنانے اور چلانے نہیں دیتا اگرچہ فیس بک نے ابھی یہ لازمی نہیں کیا۔ ٹویٹر صارف کا فون نمبر صارف کے ملک کی حکومت کو فراہم کر سکتا ہے جس سے مقامی حکومت کے لیے ٹویٹر صارف کو ٹریس کرنا آسان بن جاتا ہے اور یوں سوشل میڈیا جائنٹس حکومتوں کو صارف کی ذاتی تفصیلات دے کر اس کے لیے سیکیورٹی رسک بھی بنا دیتے ہیں
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں حکومتوں کی دلچسپی مداحین سے زیادہ ناقدین کو ڈھونڈ کر ان کی آواز دبانے میں ہوتی ہے چنانچہ ایسے صارف کا ڈیٹا اس کی حکومت کو فراہم کردینے سے اظہار رائے کا حق تو متاثر ہو ہی جاتا ہے۔


