امریکہ میں زیر غور قانون سازی۔ سوشل میڈیا کے سر پر جوابدہی کا منڈلاتا خطرہ

امریکہ میں الیکشن کا دور چل رہا ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے آن لائن اور سوشل میڈیا کی اہمیت پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے، ایسے میں سوشل میڈیا کے بڑے نام ٹویٹر، فیس بک اور گوگل پر بھی کڑا وقت آیا ہوا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی جو کمیونیکشن ایکٹ کی دفعہ 230 میں تبدیلی لانے کے بل پر غور کر رہی ہے۔ دفعہ 230 ٹویٹر اور دیگر آن لائن پبلشرز کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ مواد کو سینسر کر سکیں اور ان پر آزادی اظہار کی پابندی جو کہ آئین میں دی گئی ہے کی خلاف ورزی نیز ہتک عزت وغیرہ کا مقدمہ بھی نہیں ہو سکتا

Read more

سیاسی موروثیت پر معترض دانشور

جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے خلاف آمریت پسند شکست خوردہ پاکستانی دانشور کی آخری سڑی ہوئی اور بوسیدہ دلیل ”موروثیت“ ہوتی ہے۔ بڑی جماعتوں کی قیادت میں موروثیت کو بالفرض فی نفسہ غلط تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس کی وجوہات کا جائزہ سے یہ بات بالکل واضح نظر آتی ہے کہ بڑی جماعتوں پی پی اور نون لیگ کی حد تک اس رجحان کو پالنے پوسنے اور زندہ رکھنے کی اصل ذمہ دار ملک کی مقتدرہ ہے

Read more

ڈاکٹر فضل الرحمان، رجعت پسند طبقہ اور تاریخ کا جبر

عام طور پر ڈاکٹر فضل الرحمان کے نام سے جانے جانے والے اسلامی علوم کے ماہر فضل الرحمٰن ملک کے نام سے 21 ستمبر 1919ء کو برطانوی ہند کے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خواہ) کے علاقہ ہزارہ میں واقع ضلع ہری پور کے قصبے سرائے صالح میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، شہاب الدین، ہندوستان کے مشہور دینی مدرسے دار العلوم دیوبند کے فارغ التحصیل عالم تھے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کرنے

Read more

عبیداللہ سندھی کا آزادی ہند کا چارٹر

اس واسطے گلچیں کو ہوئی مجھ سے عداوت
تزئین گلستاں میں مرا ہاتھ بہت ہے

انیس سو چوبیس آتے تک اگر چہ تقسیم بنگال کے خلاف تحریک، غدر اور باغی تحریکوں، تحریک ریشمی رومال، خلافت ہجرت، ترک موالات، مسلم لیگ اور کانگریس کے سیاسی اتحاد نے ہندوستان میں سلطنت برطانیہ کی گرفت کو زک پہنچایا تھا لیکن ابھی غیر ملکی سامراج سے آزادی کی منزل نہ صرف دور تھی بلکہ اس آزادی کی عملی صورت اور اس خد و خال بھی عوام تو کیا ملکی قیادت کے ذہن سے بھی بھی کوسوں دور تھے۔

Read more

مولانا طارق جمیل اور ففتھ جنریشن وار فیئر

مولانا طارق جمیل سنہ 1953 میں پیدا ہوئے۔ اس حساب سے آج مولانا کی عمر قریبا لگ بھگ 66 سال ہے۔ اس عرصے میں مولانا کی عمر کا بڑا حصہ بھرپور عوامی زندگی پر مشتمل رہا ہے جس میں ان کی ملاقاتیں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے رہی ہیں۔ اندرون ملک اور بیرون ملک سفر اور دنیا برتنے کے تجربہ میں شاید ہی کوئی اور پاکستانی بشمول سفارتکار، بزنس مین، شو بز کے ستارے اور

Read more

سیاسی وابستگیوں کی رنگ برنگ عینکیں

میرا خیال ہے کہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے آئین اور قانون کی رو سے چیف منسٹر صوبے کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے اور اس حیثیت میں صوبے میں تمام محکموں کی کارکردگی کا براہ راست جائزہ بھی لے سکتا ہے اور بن بلائے (سرپرایز) دورے بھی کر سکتا ہے، ان دوروں کے دوران بطور انتظامی سربراہ کے چیف منسٹر تو کھنچائی بھی کر سکتا ہے اور گو شمالی بھی ( اگرچہ وزیر اعلی کو بھی اہلکاروں

Read more