مصطفوی انقلاب، ایک مختصر جائزہ


چھٹی صدی عیسوی کے نصف تک کا دور تاریخ عالم میں ڈارک ایج تھا۔ جس میں علم و دانش یا تو چند شاہی خاندانوں تک محدود تھی یا کچھ مذہبی رہنماؤں تک، جو کہ گوشہ نشینی اختیار کرچکے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین کو بھی صدیاں ہو چکی تھیں۔

دنیا فارس اور روم کی دو سپر طاقتوں میں بٹی ہوی تھی۔ جہاں علم و ادب عام آدمی کی پہنچ سے دور تھا۔ خاص کر فارس کے زیر اثر ممالک میں تو ذات پات کی بنیاد پر انسانیت تقسیم ہو کر رہ گئی تھی۔ عرب کے علاقے قبائلی عصبیت میں باہم دست و گریباں تھے۔ تاہم مکہ کے قریش کو دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کہ وہ اس کعبہ کے متولی تھے، جہاں تقریباً ہر مذہب کی مقدس شخصیات کے نوادرات یا مورتیاں رکھی ہوی تھیں۔

تقریباً تمام مذاہب کے لوگ حج کے دنوں میں یہاں جمع ہوتے تھے۔ مختلف مذاہب کے علماء راہب اپنی مذہبی معلومات کی بنیاد پر نبی آخر الزماں کے منتظر تھے۔ آخر کار صدیوں پر مشتمل طویل انتظار ختم ہوا اور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔

حرم مکہ سے ہدایت کا سورج طلوع ہو گیا۔ مذہبی رہنماؤں نے تو پہچانا ہی مگر مکہ کے بت پرست بھی آپ ﷺ کی عظمت کے قائل ہوئے۔ چچا ابو لہب نے جشن مناتے ہوئے اپنی باندھی کو آزاد کر دیا۔ پورا مکہ خوشی سے سرشار جناب عبد المطلب کو مبارکباد دینے لگا۔ یہ سن 571 ع اور ربیع الاول کا مہینہ تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے پورا بچپن اور جوانی قریش مکہ کے سامنے گزارا۔ آپ کی پاکیزگی اور حسن اخلاق کو دیکھ کر حضرت خدیجہ رضہ جیسی مکہ کی معروف و پاکباز تاجرہ (جو کہ عمر میں بھی بڑی تھیں ) نے نکاح کا پیغام بھیج ڈالا۔ کعبہ کی تعمیر نو کے وقت حجر اسود کی تنصیب کے معاملے پر قریش میں کشت و خون ہوتے ہوتے بچا۔ یہ آپ ﷺ کی فراست اور شخصی عظمت تھی کہ چادر میں حجر اسود رکھ کر سب کو ایک ایک کونہ پکڑ کر چلنے کا حکم فرمایا۔ پھر اپنے مبارک ہاتھوں سے کعبہ میں حجر اسود نصب فرمایا تو سب نے اس فیصلے کو تسلیم کیا۔

جب آپ ﷺ نے چالیس سال کی عمر میں انہی لوگوں کو نبوت کا پیغام پہنچایا، تو یہی صادق و امین کہنے والے جان کے دشمن بن گئے۔ ان کے ظلم و ستم سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ مگر یہ ظلم و انکار نبوی مشن کو نہیں روک سکا۔ جس معاشرے میں لکھنے پڑھنے کا بھی رواج نہ تھا، اسی معاشرے سے آپ ﷺ نے انقلاب کا آغاز کر دیا۔

صرف تئیس برس کی محنت سے مختلف بادشاہ تک مسلمان ہو گئے۔ وہی مکہ جس میں آپ ﷺ پر مظالم کی انتہا کر کے ہجرت پر مجبور کیا گیا، جب آپ ﷺ اسی مکہ کی سر زمین پر آخری حج کے لیے داخل ہوتے ہیں، تو اردگرد سوا لاکھ اصحاب رضہ کا مجمع ایک ایک لفظ سننے کو بیتاب ہے۔

یہ انقلاب اگرچہ امام الانبیاء ﷺ کی تربیت سے ہی ممکن ہوا، تاہم اس کے اسباب و طریقہ کار کا جائزہ لینے سے ایک انقلابی و تبدیلی پسند کو رہنمائی میسر آتی ہے۔

آپ ﷺ نے سب سے پہلے ایک نصب العین مقرر فرمایا۔ مختصر، بے سروسامان رفقاء پر اسی محنت کا آغاز فرمایا۔ جس کالب و لباب یہ ہے کہ انسان کو اپنے اصل مقام کی پہچان ہو جائے، اور انسان کا اس کے حقیقی خالق و مالک سے تعارف و تعلق قائم ہو۔

تیرہ برس آپ ﷺ نے اسی پر محنت کی۔ دار ارقم کو مرکز بنا کر اس انقلاب کا آغاز فرمایا۔

وحی الہٰی کے ذریعے قریش کے اہل علم کو ان کی ماضی کی طرف متوجہ فرمایا اور ان کے نزدیک حضرت ابرہیم علیہ السلام اور دیگر شخصیات کا حقیقی مشن سمجھایا۔ جو قوم سورج، چاند وغیرہ کو مافوق الفطرت دیکھ کر پوجنے پہ تلی ہوی تھی، تو آپ ﷺ نے وحی الٰہی کی روشنی میں ان کی حقیقت بیان فرمائی کہ یہ چاند و سورج پوجنے کے لیے نہیں بلکہ وقت و تاریخ کے تعین کے لئے ایک قدرتی نظام ہے۔ اسی طرح کائنات کے باقی رموز کے بارے میں حقائق پر روشنی ڈالی گئی۔ قریش کے جاہل سردار وغیرہ مدمقابل آئے تو ان کو عدم تشدد کے ذریعے ڈیل فرمایا گیا۔

جب مدینہ منورہ کی صورت میں مسلمانوں کو ایک پرامن مقام میسر آ گیا، تو آپ ﷺ نے وہاں پر باقاعدہ ایک فلاحی ریاست کی بنیاد ڈالی۔ مکہ کے مہاجرین مسلمانوں کو مدینہ کے مقامی انصار سے بہائی چارے کے ذریعے ایڈجسٹ فرمایا۔ مدینہ کے یہودیوں سے تقریباً 52 دفعات پر مشتمل مدینہ چارٹر بنا کر داخلی و خارجی دفاع کا مسئلہ حل فرمایا۔ سڑکوں، بازاروں اور ڈرینیج سمیت پورے شہر کا نقشہ پیش فرمایا۔ اس میں کسی کی حد دخلی کا تصور بھی نہیں تھا۔ نظام زکوٰۃ کے ذریعے مدینہ کے نادار افراد کے لیے معاش کا مسئلہ حل فرمایا گیا اور یہ سارا نظام گورنمنٹ کی تحویل میں رکھا گیا۔

رنگ و نسل کے امتیازات ختم کردیے گئے۔ غلامی کے خاتمے اور ان کے انسانی حقوق کے لیے قوانین پیش فرمائے گئے۔

اسی طرح انقلاب مصطفیٰ ﷺ عملی صورت میں دنیا کے آگے پیش ہوا۔

جن مذہبی گروہوں کو اشکالات و اعتراضات تھے، وہ وحی الٰہی کی روشنی میں واضح کردیے گئے۔ مگر پھر بھی کفار مکہ اور بعد میں یہود و نصارٰی نے جارحیت دکھائی تو بذریعہ جہاد ان کا جواب دیا گیا۔

جنگوں میں بھی قانون پیش فرمائے گئے، تاکہ بے گناہ افراد، بچے، بوڑھے اور عورتیں قتل ہونے سے محفوظ رہیں۔ چند جنگوں کے نتیجے میں انگلیوں پر گنتی کے قابل لوگ قتل ہوئے۔ بدلے میں نہ صرف اسلامی دنیا محفوظ ہو گئی، بلکہ دنیا بھر مظلوم اور نیک دل طبقے کے لیے اسلام قبول کرنے کے لیے راستہ صاف ہو گیا۔ تئیس برس کی اس محنت کے بعد نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے آخری حج کے موقع پر پورے اسلام کا خلاصہ سوا لاکھ صحابہ رضہ کے سامنے پیش فرمادیا۔ جسے تاریخ میں ہیومن رائٹس ڈکلیئریشن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ سے قرآن پاک میں ”ورفعنا لک ذکرک“ کا جو وعدہ فرمایا یا ہے، آج دنیا اس کی تکمیل اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ 1994 میں جب انگریز مؤرخ مائکل ہارٹ (عیسائی ہونے کے باوجود) دنیا کی سو عظیم شخصیات پر کتاب لکھتا ہے تو پہلا نمبر میرے پیارے نبی پاک ﷺ کا آتا ہے۔

خاتم النبیین کے تاجدار، سرور کائنات ﷺ اربوں مسلمانوں سمیت انسانیت کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ بلکہ انسانیت آپ ﷺ کے احسانات کی مقروض ہے، ورنہ آج بھی ہم علم سے بے بہرہ ہو کر ظلم کی چکی میں پس رہے ہوتے۔

Facebook Comments HS