امریکی صدارتی انتخاب 2020: 10 لاکھ سے زائد پول ورکرز الیکشن ڈیوٹی سرانجام دیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ میں دو روز بعد 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں دو لاکھ سے زائد پولنگ اسٹیشنوں پر ایک ملین سے زائد پولنگ سٹاف (پول ورکرز) اپنی انتخابی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ کرونا کی وجہ سے امریکہ بھر میں بیک وقت صدارتی انتخابات منعقد کروانے کے لیے مختلف ریاستوں کو پولنگ کے عملے کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔

امریکہ میں انتخابات منعقد کروانے کے لیے کسی مرکزی الیکشن کمیشن کی بجائے ہر ریاست کا اپنا الگ اور آزاد الیکشن کمیشن ہوتا ہے۔ جو ہر کاونٹی کی سطح پر مقامی، ریاستی اور فیڈرل انتخابات کروانے کا ذمے دار ہے۔

امریکہ میں یوں تو فیڈرل سطح پر ایک انتخابی ادارہ ”یو۔ ایس الیکشن اسسٹنس کمیشن“ (US EAC) موجود ہے۔ جس کے عملے کی تعداد تیس اراکین پر مشتمل ہے۔ اور اس کا صدر مقام میری لینڈ کا شہر سلور ہے۔ اس ادارے کا کام شفاف اور منصفانہ انتخابات کروانے کے عمل میں مختلف ریاستوں کے مقامی الیکشن کمیشنز کو معلومات بہم پہنچانے کی حد تک اعانت فراہم کرنا شامل ہے۔

دیگر کئی ممالک کے برعکس امریکہ میں پولنگ ڈیوٹی سرانجام دینے والا سٹاف بہت کم سرکاری ملازمین پر مشتمل ہوتا ہے۔ عام طور پر کوئی پرائیویٹ شخص بھی اپنا نام پیش کر کے پول ورکرز کا حصہ بن سکتا ہے۔ جس کا ووٹ درج ہو، وہ امریکی شہری ہو یا کم از کم وہ امریکہ کی مستقل سکونت کا اہل ہو۔

پولنگ سٹاف کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے ان کے الگ الگ نام ہیں۔ امریکہ میں پولنگ اسٹیشن کے انچارج کے لیے پرزائیڈنگ افسر کی بجائے ”کوآرڈینٹر“ کی اصلاح استعمال کی جاتی ہے۔ جبکہ دیگر پولنگ کے عملے کے اراکین کے لئے الیکشن کلرک، اسیسی بیلٹی کلرک، الیکشن ججز، انسپکٹرز، سکیننگ انسپکٹرز، اور کمشنرز کے نام استعمال کیے جاتے ہیں۔ اور ان سب کے لیے ”پول ورکرز“ کی اصلاح مستعمل ہے۔ ایک پولنگ اسٹیشن کے لیے اوسطاً آٹھ کے قریب پولنگ اسٹاف کی ضرورت ہوتی ہے۔

روایتی طور امریکہ میں الیکشن ڈیوٹی سرانجام دینے والے عملے کا زیادہ تر تعلق بڑی عمر کے افراد سے ہوتا ہے۔ اور زیادہ تر رئٹائرڈ شہری یہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ جن میں خواتین کی کثیر تعداد شامل ہوتی ہے۔ مگر ہوا یوں کہ رواں سال کرونا کی وجہ سے امریکہ میں اکثر ایسے پول ورکرز نے اس دفعہ انتخابی ڈیوٹی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی ہیلتھ ادارے سی۔ ڈی۔ سی نے بھی بڑی عمر کے ایسے پول ورکرز کو کرونا کے حوالے سے ہائی رسک قرار دیا ہے۔

امریکی ادارے پیؤ ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2018 کے وسط مدتی انتخابات میں الیکشن ڈیوٹی ادا کرنے والے ساٹھ فیصد پولنگ عملے کی عمریں 60 سال سے زائد تھیں۔ ان ساٹھ فیصد میں سے پنتیس فیصد کی عمریں اکسٹھ سال سے ستر سال اور پچیس فیصد کی ستر سال سے اوپر تھیں۔ موجودہ انتخابات میں اب کم و بیش چالیس فیصد پولنگ ورکرز کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

الیکشن ماہرین کے ایک اندازے کے مطابق دو ماہ پہلے تک کوئی ساڑھے چار لاکھ سے زائد پول ورکرز کی کمی کا سامنا تھا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے یکم ستمبر کو امریکہ بھر میں ”نیشنل پول ورکرز ڈے“ کے طور پر منایا گیا۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ الیکشن ڈیوٹی کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرا سکیں۔

امریکہ میں پول ورکرز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سٹیٹ، لوکل حکومتوں، پروفیشنل ایسوسی ایشنز، سیاسی جماعتوں، نان پرافٹ و سیوک آرگنائزیشنز، ہائی سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں نے بہت زیادہ کام کیا ہے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ستر ملٹی نیشنل کمپنیوں، جن میں گیپ، ٹارگٹ، اولڈ نیوی اور سٹاربکس بھی شامل ہیں، نے اپنے ملازمین کو ایکسٹرا سیلری کی ترغیب دے کر رضاکارانہ طور پر انتخابات میں ڈیوٹی کے لیے آمادہ کیا ہے۔ اس طرح امریکہ بھر میں ان کمپنیوں کے ساڑھے تین لاکھ ملازمین قبل از وقت اور تین نومبر کے صدارتی انتخاب میں پولنگ سٹاف کی ڈیوٹی سرانجام گے۔

امریکہ میں پول ورکرز کے حوالے سے یہ بات بھی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ تر خواتین رضاکارانہ طور پر پولنگ سٹاف کی ڈیوٹی کے لیے آگے آتی ہیں۔ اسی لیے انتخاب کے دن پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین پول ورکرز کا تناسب زیادہ نظر آتا ہے۔

تین نومبر کے انتخابات میں بڑی عمر کے پول ورکرز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سکولوں اور کالجوں نے بھی نوجوان طلباء کو رضاکارانہ طور پر الیکشن ڈیوٹی کے لیے ابھارا ہے۔ طلباء کو کمیونٹی سروس کی مد میں الیکشن ڈیوٹی کے ایکسٹرا کریڈٹ بھی دیے جائیں گے۔

اس کمی پر قابو پانے کے لئے بعض ریاستوں نے پول ورکرز کی عمر کی حد میں نرمی کرتے ہوئے عمر کی حد سولہ اور سترہ سال کر دی ہے۔ جبکہ بعض ریاستوں میں پولنگ سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لیے آرمی نیشنل گارڈز کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔

امریکی الیکشن اسسٹنس کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ایک لاکھ سولہ ہزار نو سو پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔ جن پر نو لاکھ سترہ ہزار چھ سو چورانوے پولنگ سٹاف نے اپنے فرائض سرانجام دیے تھے۔ جبکہ 2018 کے وسط مدتی انتخابات میں دو لاکھ پولنگ اسٹیشن پر نو لاکھ ستانوے ہزار سات سو پولنگ کا عملہ تعینات کیا گیا۔

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں پولنگ اسٹاف کو دیے جانے والے معاوضے کی شرح بھی الگ الگ ہے۔ بعض ریاستوں میں پول ورکرز کو سترہ ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے ادائیگی کی جاتی ہے۔

نیویارک میں پول ورکرز کو الیکشن کے دن سولہ سترہ گھنٹے ڈیوٹی (صبح 5 تا رات 10 ) کا معاوضہ 200 ڈالر دیا جاتا ہے۔ جو تقریباً ساڑھے بارہ ڈالر فی گھنٹہ بنتا ہے۔ مگر رواں سال معاوضہ بڑھا دیا گیا ہے۔ جو اب 250 ڈالر فی دن ہو گا۔ جس کی شرح پندرہ ڈالر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ اس میں پچیس ڈالر آن لائن ٹریننگ مکمل کرنے کے الگ سے دیے جاتے ہیں۔

فلاڈیلفیا میں معاوضہ کم از کم 200 ڈالر فی دن ادا کیا جاتا ہے۔ اکثر ریاستیں اس الیکشن کے موقع پر پول ورکرز کو ریگولر معاوضے کے علاوہ اضافی بونس بھی آفر کر رہی ہیں۔

امریکہ میں رہتے ہوئے گزشتہ کئی سال سے میں بھی بطور ایک مشاہدہ کار اور خصوصی طور پر بطور پولنگ ورکر کام کرتا چلا آ رہا ہوں۔ یہ سروس ایک لحاظ سے احساس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ لیڈرشپ اور ٹیم ورک کا جذبہ پیدا کرنے کا بھرپور موقع فراہم کرتی ہے۔

پول ورکرز ووٹر جمہوری عمل کو پروان چڑھانے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ وہ ووٹروں کو گائیڈ اور چیک کرنے، معذور افراد کو ووٹ ڈالنے میں اعانت مہیا کرتے ہیں۔ انہیں بلٹ پیپرز کی فراہمی سے لے کر رائے شماری تک کے عمل کی نگرانی کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔

امریکہ میں پولنگ ورکرز کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ”یہ رائے شماری کے ایسے موسیقار ہیں جو انتخابات کو زندہ کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بتاتے ہیں کہ وہ عوام اور اس کے منتخب کردہ ممبران کے لیے کام کریں ”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •