ماڈل ٹاؤن کچہری اور وکیل صاحب
پہلے تو ہم کبھی تاویلیں دیا کرتے تھے، کبھی شرمندہ ہو کر کھسیانی ہنسی ہنس دیا کرتے تھے اور کبھی چپ ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن یقین کریں جب کچھ نام نہاد وکلا اپنے کارنامے دکھاتے ہیں تو اب ہمیں منہ چھپانے کو جگہ نہیں ملتی۔ پچھلے کچھ سالوں میں کچھ انپڑھ لوگوں نے اپنے کالے اعمال اور طرز عمل سے کالے کوٹ کے تقدس کی وہ بھد اڑائی ہے کہ اگر اس کوٹ کی زبان ہوتی تو ہم سب کو عاق کر دیتا۔ وہ بھی گندی اولاد کہہ کر!
ماڈل ٹاؤن کچہری واقعہ ہی دیکھ لیجیے۔ وہاں پہ ایک وکیل نما صاحب اور ان کے چیلوں نے بیچ کچہری جو وکلا اور اپنی عزت کا تماشا لگایا ہے اس کے بعد گھر گھر چرچے تو ہونے ہیں کہ یہ معاشرے کا سب سے پڑھا لکھا اور قانون کی بات کرنے والا طبقہ ہے اور یہ ہے ان کا ”مہذب“ طرز عمل۔
اور جن صاحب نے یہ کیا ہے ان کا حوصلہ اور دیدہ دلیری دیکھیے۔ وہ کون سی بات ہے جس نے ان کو اتنا بے ڈر بنا دیا اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی جرات دی ہے؟ وہ بھی سر عام اور بیچ کچہری؟ ہم بولیں گے تو برا لگے گا۔ کڑوا لگے گا اور انتہائی برا بھی لگے گا کیونکہ ہم تو گھر کے بچے ہیں۔ ہمارا یہ فرض سمجھا جاتا ہے کہ ان کے کالی کرتوتوں پہ چپ رہیں یا پردہ ڈالیں یا پھر ان کا دفاع کریں۔ مگر یقین کریں ہماری اب بس ہو چکی ہے۔ اس لیے ہم بولیں گے اور ضرور بولیں گے۔ معاشرے میں وہ پیشہ جو مقدس ترین پیشوں میں آتا ہے کچھ لوگ ذاتی مفادات کی آڑ میں اس کا تقدس پامال کریں گے تو ہم ضرور بولیں گے۔
تو سنیے پھر، ہماری ضلعی بارز، صوبائی بارز کونسلز، پاکستان بار کونسل، ان کا نظام اور ہمارا الیکشن سسٹم اور ووٹوں کی دوڑ۔ ان حالات کا اکیلا ذمہ دار ہے۔
ایسے حضرات کو یقین ہوتا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے بار ہمارے پیچھے ہوگی۔ کیونکہ بارز میں جو بیٹھے ہیں ان کو ووٹ چاہئیں۔ اور جن کے ووٹ چاہیے ہیں ان کے قائدین کے اپنے مفادات ہیں۔ اور ان قائدین میں ہی بہت سارے ایسے ہیں جن کی ایک مثال کل ماڈل ٹاؤن کچہری میں نظر آئی۔
ان صاحب کے اپنے ہی الفاظ پر غور کریں۔ یہ فرماتے ہیں ”میرا لائسنس سسپنڈ ہو جائے گا“ یعنی ان کو اپنی زیادہ سے زیادہ سزا بھی پتا ہے کہ کچھ دن لائسنس سسپنڈ ہوگا پھر بحال ہو جائے گا۔ بس۔ اور ایسا ہی ہوتا انھوں نے دیکھا ہے اس لیے ان کو بھی پتا ہے کہ کریمنل چارج نہ بارز نے ہونے دینا نا عدالتوں میں دم ہونے ایسا کرنے کا۔ اوپر سے الیکشن سر پر ہیں اس لیے آج کل تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اصل میں یہی اکثر قائدین کا ایک چہرہ ہے۔ ان کے ہاتھ میں ووٹ ہیں۔ نوجوان وکلا کے ووٹ۔ وہی نوجوان وکلا جن کے فیصلے یہ بند کمروں میں کر دیتے ہیں۔ اور اپنے نام نہاد اور کالے دھندوں اور مفادات کا تحفظ یہ بیچ کچہری تماشے لگا کرتے ہیں۔ وہ نوجوان وکلا جن کو سیکھنے اور پیر جمانے کے لیے ان صاحب جیسے قائدین کی مدد چاہیے۔ اور چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے بھی کسی سینئر کی مدد چاہیے۔ اوپر سے ہمارے لا کالجز میں اتنا دم تو ہوتا نہیں کہ فلی فرنشڈ اور ویل انفارمڈ وکلا پیدا کریں کہ ان کے اپنے مسائل اور مفادات ہیں کیونکہ قانون کی تعلیم اب کاروبار بن چکا۔ اب بھلا ایک کاروباری شخص منافع کمائے کہ قانون کے طالب علموں کی پروفیشنل تربیت کا سر درد پالے۔ نتیجہ کیا ہے؟ معیار کم ہوتا جا رہا ہے، تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اور یہی قانون اور پیشے سے نابلد طبقہ جب بار میں آتا ہے تو پھر ان صاحب جیسے لیڈرز اور سینیئرز کا منہ دیکھتا ہے جن کا ذکر اوپر آیا ہے۔
اور یہ لوگ پھر انھی نوجوان وکلا کو اپنی طاقت بنا کر ان کو ہر جگہ نہ صرف لڑواتے مرواتے ہیں بلکہ الیکشن سسٹم میں اپنا ووٹ بینک بھی ظاہر کرتے ہیں۔ ان جیسے سینیئرز جو علم اپنے جونئیرز کو سکھاتے ہیں اس کی ایک جھلک تو کل دیکھ ہی لی سب نے۔ کہتے ہیں جب علم اور دلیل ختم ہوتی ہے تو پھر ہاتھ اور زبان چلتے ہیں۔ اور یہی علم پھر اگے منتقل ہوتا چلا جاتا ہے۔
اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اب لوگوں نے وکالت کا لائسنس اپنے سیاہ اور سفید کاروبار اور مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ جس گھر میں ایک وکیل ہے اس کا کاروبار، گھر، خاندان سب محفوظ۔ پوری بار پیچھے ہوتی ہے۔ تو نظارہ یہ ہے کہ ہر دکان، ہر سپر سٹور، جنرل سٹور، میڈیکل سٹور، ہر ہوٹل، ہر ڈھابے، سیاستدان، پراپرٹی ڈیلر اور زمیندار نے خود یا اس کے کسی بھائی بیٹے نے وکالت کا لائسنس لے رکھا ہے۔ وکالت تو کیا کرنی ہے مگر کاروبار کر رہے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو جو لوگ ابھی پنجاب بار کا الیکشن لڑ رہے ہیں ان ہی سے پوچھ لیں کے کہاں اور کس کس سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ مجھے ایک پنجاب بار کے امیدوار پرسوں بتا رہے تھے کہ میرے آفس میں آنے سے پہلے وہ شہر کی کوئی بیس دکانوں سے ووٹ مانگ کر آئے ہیں۔
لوگوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے وکیل بنا لیے ہیں۔ کیونکہ ان کو بھی پتا ہے کہ جب بغیر پڑھے لکھے، اور قانون کو سمجھے اور عدالت میں کیس لڑے، صرف کالا کوٹ پہن کر ہاتھ پاؤں، ڈنڈوں سوٹوں اور زبان کے حسین امتزاج سے وکالت ہو سکتی ہے تو پھر لائسنس اپنا ہی لے لینا چاہیے۔ اوپر سے بارز کی حمایت بھی مل جائے گی۔ بھئی ووٹر جو بن گئے۔ پروفیشنل وکالت کی تیل لینے۔
بس پھر نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ پروفیشنل وکیلوں کی ماہانہ انکم بھی دیکھ لیں اور اور مذکورہ صاحب جیسے قائدین کی بھی۔ فرق صاف ظاہر ہے۔ پھر آج کل کے لا کالجز سے فارغ التحصیل نوجوانوں کی اکثریت کے رول ماڈل بھی یہی بنتے ہیں اور ان کی طاقت کا یہ مصنوعی سائیکل چلتا رہتا ہے۔
کمائیاں بھی ہو رہی ہیں وکالتیں بھی چل رہی ہیں۔ ہاں بس ایک چھوٹا سا المیہ ہوا ہے کہ وہ جو معاشرے میں احترام تھا وہ کم ہوتا جاتا ہے۔ وکیل صاحب کو دیکھتے ہی جو علم و ادب اور شائستگی کا تاثر ابھرتا تھا وہ ناپید ہوتا جاتا ہے۔ وہ جو دل سے عزت کا عنصر تھا اس کی جگہ ڈر نے لے لی ہے۔ اور وہ جو عدالت میں جاتے ہی کہتے تھے کہ قانون یہ کہتا ہے اب وہ کہتے ہیں کہ جج صاحب مہربانی کریں۔
اور یقین کیجیے یہ وکیلوں کی اکثریت نہ بلکہ یہ چند لوگ ہیں، شاید چند فیصد سے بھی کم جنھوں نے پورے پیشے کو بدنام کر دیا ہے۔ پورے سسٹم میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔ یہ تو صرف ”چند لوگ“ ہیں اور باقی سب وکیل ہیں بلکہ ”وکیل صاحبان“ ہیں۔
ان چند لوگوں نے یہ سب کیا ہے اس نام نہاد ووٹ بینک، جونئیرز اور ساتھی وکلا کی طاقت پر انحصار کر کے۔ تو اگر آپ بھی کسی ایسے صاحب کی طاقت کا حصہ ہیں تو اپنی وہ طاقت وہاں سے منفی کر لیجیے۔ امید ہے ان صاحب جیسے قائدین کو افاقہ ہوگا اور وہ پھر سے وکیل بن جائیں گے۔ میرا مطلب ہے ”وکیل صاحب“ ۔
اور اگر آپ یہ نہیں کر سکتے اور صرف یہ شکایت کرنی ہے کہ ”ہنڑ ناں اوہ اگلیاں وکالتاں رہیاں تے ناں عدالتاں“ تے مڑ اپنا منہ بند کرو تے جو ہندا ودا اے اوہ ہونڑ دیو (اب نہ وہ اگلی وکالتیں رہیں نہ عدالتیں، تو اپنا منہ بند رکھو اور جو ہوتا ہے وہ ہونے دو)


