ہم کیوں سوتے، جاگتے ہیں؟


سال 2020 اپنے آپ میں اس لیے بھی منفرد رہا کہ اس دوران ایک ایسی نادیدہ وبا نازل ہوئی جس نے ہم سب کو گھروں میں محصور کر کے رکھ دیا۔ گھر اور کام سے فرصت پا کر معمول سے کچھ زیادہ کتب پڑھنے کا وقت میسر آ گیا۔ ان میں سے دو کا خلاصہ ذیل میں موجود ہے۔

انٹرنیٹ کو نیند نہیں آتی۔ ایسے ہی دنیا میں ہر شخص اور چیز فون، کمپیوٹر اور ٹیبلٹ سے ایک نہ رکنے والے رابطے میں ہے۔ ایسے میں نیند زمانہ جاہلیت کی ایک بے کار سرگرمی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں نیند کی اہمیت سے ہرگز انکار نہیں کرنا چاہیے۔ نیند، خوراک اور ورزش کے بعد صحت کا تیسرا ستون ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ نیند ایک ستون سے زیادہ صحت کی بنیاد کا درجہ رکھتی ہے۔ نیند ذہن کو آرام دینے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ اگر آپ الارم کی مدد کے بغیر جاگ نہیں سکتے، آپ کو پڑھا ہوا یاد نہیں رہتا، یا دن میں مستعد رہنے کے لئے کافی کا استعمال کرنا پڑتا ہے، تو سمجھ لیں کہ آپ بے آرامی کا شکار ہیں۔

نیند کی دو اقسام ہیں :

نان ریپڈ آئی موومنٹ (NREM) : رات کے پہلے حصے پر غالب رہتی ہے۔ معلومات کو دیر پا یاداشت میں محفوظ کرتی ہے۔

ریپڈ آئی موومنٹ (REM) : رات کے آخری حصے پر غالب رہتی ہے۔ نئے تجربات کو پرانوں سے جوڑتی ہے۔ تکلیف دہ جذبات کی شدت میں کمی لاتی ہے۔ یاداشت کو پختہ بناتی ہے۔ تخلیقی صلاحیت کو پروان چڑھاتی ہے۔

جاگتے ہوئے ہم جن تجربات کا ادراک کرتے ہیں NREM اس کا عکس اتارتی ہے اور REM اسے جذب کرتی ہے۔

بہت سے معاشروں میں صرف رات کی ایک طویل نیند لینے کا رواج ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ عادت ہماری عمر گھٹاتی ہے۔ رات کی نیند کے ساتھ دن کا قیلولہ صحت اور عمر میں اضافہ کرتا ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ نیند کے معیار اور دورانیے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اچھی نیند اچھی پرفارمنس کی ضامن ہے۔ نیند کی کمی سے بہت سے نفسیاتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

خواب تھراپی کی مانند ہوتے ہیں۔ ان میں ہم دن میں پیش آئے تجربات کی تخلیقی انداز میں تشریح کرتے ہیں۔
صحت مند نیند کے لئے کچھ نکات:
1۔ نیند کا ایک وقت مقرر کیجئے۔
2۔ رات کے وقت کمرے کی لائٹس دھیمی کر دیں اور روشنی کے آلات کا استعمال روک دیں۔
3۔ کمرے کا درجہ حرارت معتدل رکھیں۔
4۔ ورزش سونے سے دو گھنٹہ قبل کر لیں۔
5۔ کافی، سگرٹ نوشی اور الکوحل سے پرہیز کریں۔
6۔ رات کے کھانے اور سونے کے درمیان مناسب وقفہ رکھیں۔
7۔ سونے سے پہلے ریلیکس ہو جائیں۔ نہانا بھی بہتر عمل ہے۔
8۔ بستر میں جاگتے نہ رہیں۔

دماغ ایک بے چین اور ناشکری مخلوق ہے جو ہر وقت خود کلامی میں مصروف رہتا ہے۔ یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتا اور ہمیشہ خود کو بہلانے کا سامان کرتا رہتا ہے۔ یہ خود کو آسودہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ خوبصورت مناظر، آوازوں اور احساسات کا منتظر رہتا ہے۔ یہ لذت کا تواتر اور درد سے پرہیز چاہتا ہے۔ لیکن ہر دکھ سکھ وقتی ہوتا ہے اور اس کا تعلق حقیقت سے زیادہ ہمارے ذہن سے ہوتا ہے۔ المختصر، ہمارا دماغ ہی ہماری کل کائنات ہوتا ہے۔

کیا خوشی کی کوئی صورت محض لذت کی سیرابی اور درد سے دوری کے علاوہ ممکن ہے؟ اگر غور کیا جائے تو ہماری زندگی کی حقیقت لمحہ موجود میں واقع ہوتی ہے۔ ہم ایک کام سکون، صبر اور توجہ کے ساتھ بھی سر انجام دے سکتے ہیں اور بے چینی اور جلد بازی میں بھی۔ ہم بیشتر وقت اپنے ماضی کے بارے میں سوچنے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے میں گزارتے ہیں۔ لیکن ہم جتنا حال میں چوکسی سے جیتے ہیں اتنا ہماری زندگی کے معیار میں اضافہ ہوتا ہے۔

ہم کون ہیں؟ ہماری ’میں‘ کیا شے ہے؟ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ’میں‘ ہمارا شعور ذات ہے۔ جو ایک اکائی کی مانند ہماری آنکھوں سے دیکھتی ہے اور ذہن سے سوچتی ہے۔ درحقیقت ہم کئی ذاتوں کا مرقع ہیں۔ ہمارے دماغ کے بھی دو حصے ہیں : دایاں اور بایاں دماغ۔

ہم غور و فکر اور مراقبے کے ذریعے اپنے شعور کے اجزا سے واقف ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے ہم اپنی سوچوں اور فکروں کو خود سے علیحدہ کر پاتے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ حقیقت کا پرتو نہیں بلکہ محض ہمارے ذہن کی تخلیق ہیں۔

روحانیت اور مذہب دو مختلف چیزیں ہیں۔ روحانیت کا سائنس سے بھی اتنا تعلق ہے جتنا مذہب سے۔ ہر مذہب کا روحانی تجربہ مختلف ہوتا ہے۔ ہم کسی بھی مذہبی اور نظریاتی وابستگی کے ساتھ مراقبہ کر سکتے ہیں اور خود کو خوابیدہ حالت سے بیدار کر سکتے ہیں۔

مراقبے کے چار بنیادی اجزا ہیں : جسم، جذبات، دماغ اور احساسات۔ اس روحانی مشق کے ذریعے ہم لمحہ موجود میں آزاد ہو سکتے ہیں۔ بغیر کوئی لیبل چسپاں کیے اور مزاحمت دکھائے اپنے جذبات کا باریک بینی سے مشاہدہ کریں۔ یہ جذبات کہاں سے جنم لیتے ہیں اور اپنے تئیں کب تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہم شعور میں ابھرنے والے احساسات کے تلاطم کا براہ راست نظارہ کر سکتے ہیں۔ ویڈیو گیم کی طرح سوچیں پردہ سکرین پر آتی ہیں اور غائب ہو جاتی ہیں۔

مراقبے کے لیے چند ہدایات:

سکون کے ساتھ کمر کو سیدھا کر کے آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائیں۔ آنکھیں بند کر لیں اور گہرے سانس لیں۔ اپنے جسم کے فرش کے ساتھ رابطے کو محسوس کریں۔ اپنی سانس کے زیر و بم پر توجہ دیں۔ ذہن کے آئینے پر جو سوچ اور احساس ابھرے اس کا مشاہدہ کریں۔ اگر آپ ان میں گم ہونے لگیں تو پھر اپنی توجہ سانس کی طرف موڑ دیں اور مراقبہ جاری رکھیں۔

یاد رکھیں ’میں‘ صرف ہمارے دماغ میں موجود ہوتی ہے۔ حقیقت انا کے بغیر وجود رکھتی ہے۔ کچھ دیر کے لیے اپنے ذہن کو فراموش کر دیں۔ آپ کو لگے گا کہ دوسری چیزوں کی طرح ہم بھی اس کائنات کا حصہ ہیں۔ اور یہ ادراک اس بات کا شاہد ہے کہ کائنات ہمارے وجود کا حصہ ہے۔

 


فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid