فلمی پلے بیک اور غزل گلوکارہ اقبال بانو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غیر منقسم ہندوستان کے شہر روہتک میں گلوکارہ زہرہ بائی کے ہاں 1935 میں پیدا ہونے والی بچی کو آگے چل کر زمانے نے گلوکارہ اقبال بانو کے نام سے یادکیا۔ ان کے تذکروں میں دہلی میں، دہلی گھرانے کے مشہور استاد صابری خان سے کلاسیکی اور نیم کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ خاکسار نے کراچی میں دہلی گھرانے کی نامور اور معتبر شخصیت استاد مظہر امراؤ بندو خان سے جب اس سلسلے میں استفسار کیا تو انہوں نے بتایا۔ : ”پلے بیک سنگر اور غزل کی گائیک اقبال بانو دہلی گھرانے کے استاد چاند خان کی باقاعدہ گنڈہ بند شاگرد تھیں“ ۔

اقبال بانو نے جب کبھی ریڈیو پاکستان میں کوئی غزل، نغمہ، ملی ترانہ یا دادرا اور ٹھمری انگ میں کوئی گیت ریکارڈ کرایا، تو سب ہی پر ان کی مکمل گرفت محسوس ہوئی۔ انہوں نے بے شک ٹوٹ کر ریاضت اور محنت کی یوں اپنا اور اپنے استاد کا نام بلند کیا۔ ان کے بعض تذکروں کے مطابق استاد چاند خان نے انہیں آل انڈیا ریڈیو دہلی میں متعارف کرایا تھا۔ وہ وہاں کتنی دیر تک رہیں اور اس دور کے مشہور گیت کون سے ہیں؟ ان کا علم نہ ہو سکا۔ پھر وہ 1952 میں پاکستان ہجرت کر گئیں۔ جلد ان کی ملتان کے ایک با اثر زمیندار گھرانے میں شادی ہو گئی اور وہ ملتان شہر میں جا بسیں۔

پاکستانی فلمی دنیا میں ان کی آمد فلمساز اور ہدایتکار انور کمال پاشا کی فلم ”گمنام“ ( 1954 ) کی مرہون منت ہے۔ گیت نگار سیف الدین سیفؔ کے اس لازوال گیت کو موسیقار ما سٹر عنایت حسین نے موسیقی سے سجایا: ’پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے، تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے ’۔

ہدایتکار انور کمال پاشا کی فلم ”قاتل“ ( 1955 ) میں قتیلؔ شفائی کی غزل ’الفت کی نئی منزل کو چلا، تو باہیں ڈال کے باہوں میں۔‘ کی دھن بھی موسیقار ماسٹر عنایت حسین نے بنائی۔

ان ہی دو فلمی گانوں سے اقبال بانو کا اقبال بلند ہوا۔ وہ پہلے بھی اچھی فنکارہ تھیں لیکن ان کو اور ان کے فن کو جاننے والے بہت محدود تھے۔ اب فلمی پلے بیک سنگر کے طور پر ان کی شہرت پاکستان سے نکل کر بھارت تک پہنچ گئی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اقبال بانو کو اقبال بانو بنانے والے ان دونوں فلموں کے ہدایتکار انور کمال پاشا اور فلمساز آغا جی اے گل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اول الذکر شاعر سیف الدین سیفؔ اور دوسرے قتیل ؔ شفائی کی اہمیت کسی طور بھی کم نہیں۔ پھر موسیقار ماسٹر عنایت حسین، ماسٹر صاحب کے میوزیشن، گراموفون کمپنی آف پاکستان لاہور اسٹوڈیو اور فلم اسٹوڈیو کے ساؤنڈ ریکارڈسٹ کی پیشہ ورانہ مہارت ہی تو تھی جس کی وجہ سے پاکستانی اور بھارتی عوام نے اقبال بانو کے نام کا ڈنکا بجا کر ان کو مشہور تر کر دیا۔

منطق یہ ہے کہ اقبال بانو پلے بینک سنگر بننے سے پہلے مشہور نہیں تھیں۔ ان دو فلمی گانوں نے ان کے نصیب کھولے۔ اس کے بعد بتدریج وہ آسمان شہرت کی جانب اونچی ہوتی چلی گئیں۔ یہ ایک جانا مانا اصول ہے کہ خواہ کوئی فنکار کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، کتنی ہی ریاضت کیوں نہ کر رکھی ہو، موسیقی کا کتنا ہی علم کیوں نہ رکھتا ہو، جب تک اسے کوئی مناسب موقع نہیں ملتا وہ گمنام ہی رہتا ہے۔ موقع ملنا اور پھر اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا ہی کامیابی کی اولین شرائط ہیں۔ اقبال بانو کے عروج کے زمانے میں ان سے بہتر نہیں تو کم از کم ا ن جیسا گانے والی فنکار ضرور ہوں گی جن کو کبھی بھی مواقع نہیں ملے۔

لکھنے کا مطلب اقبال بانو کے قد کاٹھ کو کم کرنا قطعاً نہیں۔ بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ اقبال بانو جیسے بین الاقوامی فنکار کو اس پائے کے فنکار بنانے میں شاعر، موسیقار، میوزیشن، ساؤنڈ رکارڈسٹ، وغیرہ کسی بھی طور اس فنکار سے کم نہیں۔ افسوس کہ ہمارے ہاں ان ”ہیروں“ کی سرے سے کبھی بھی کوئی پذیرائی نہیں ہوتی۔ پھر سو باتوں کی ایک بات یہ کہ ابتدائی فلمساز اور ہدایتکار ہی تو اس فنکار کے ”واسکو ڈی گاما“ ہوتے ہیں۔ جنہوں نے اس ’‘ نئے فنکار ”کو دریافت کیا ہوتا ہے۔

اقبال بانو کو کلاسیکی موسیقی سکھلائی گئی اور انہوں نے سیکھنے میں بہت محنت بھی کی۔ لیکن وجہ شہرت نیم کلاسیکی موسیقی اور غزلیات ہوئیں۔ عوام الناس نے شاید ہی اقبال بانو کی آواز میں خالصتاً کوئی کلاسیکی نمونہ سنا ہو جیسے ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم، موسیقی کا ایک انگ ”دھرپد“ سناتی تھیں۔

ا یور ریڈی پکچرز کے پلٹ فارم سے فلمساز جگدیش چند آ نند المعروف جے سی آ نند اور ہدایتکار منشی دل کی سپر ہٹ فلم ” عشق لیلیٰ“ ( 1957 ) میں موسیقار صفدر حسین ( جو موسیقار رشید عطرے کے سگے بھانجے تھے ) نے خاص طور پر اقبال بانو کو سامنے رکھتے ہوئے قتیلؔ شفائی کے گیت کی سدا بہار دھن بنائی: ’ستارو تم تو سو جاؤ، پریشاں رات طاری ہے‘ ۔

ہدایتکار خلیل قیصر اور فلمساز وزیر علی ( اداکار رتن کمار کے بڑے بھائی ) کی سلور جوبلی فلم ”ناگن“ ( 1959 ) میں انہی موسیقار، صفدر حسین نے دوبارہ اقبال بانو کے لئے قتیلؔ شفائی کے ایک اور گیت کی دھن بنائی: ’امبوا کی ڈاریوں پہ جھولنا جھلا جا۔‘

مستند تذکروں کے مطابق بعض وجوہ کی بنا پر اقبال بانونے فلم اور ریڈیو سے اپنا وہ تعلق قائم نہ رکھا جو ان کو رکھنا چاہیے تھا۔ اب وہ زیادہ تر محدود محفلوں ہی میں شرکت کرنے لگیں۔

فیضؔ کی نظم دشت تنہائی:
دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے تیرے ہونٹوں کے سراب

اقبال بانو نے ریڈیو پاکستان کراچی سے جب فیض احمد فیضؔ کی مندرجہ بالا نظم ریکارڈ کروائی تو شاید انہوں نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ یہ مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دے گی۔ فیضؔ کا نام تو پہلے ہی مستند تھا۔ لیکن اس نظم کو مقبول کرنے میں اپنی ذات میں ایک ادارہ، نامور موسیقار، شاعر، اپنے لحن کی نوعیت کے یکتا گلوکار اور ریڈیو پاکستان کراچی مرکز کے سینئر پروڈیوسر، سید افتخار مہدی المعروف مہدی ظہیر صاحب بھی ہیں۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان کراچی کی ملازمت کے دوران ان گنت حمد و نعت، نظموں اور گیتوں کی طرزیں ترتیب دیں۔ بعض خود اپنی او رکچھ دوسرے فنکاروں کی آواز میں ریکارڈ کروائیں۔

اب کچھ اقبال بانو کی آواز میں فیض احمد فیض ؔکی ”دشت تنہائی۔“ کا ذکر ہو جائے۔ اس نظم کی صدا بندی سے متعلق خود مہدی ظہیر صاحب نے مجھے ایک دلچسپ انہونی سنائی۔ وہ یہ کہ نظم کے بولوں اور طرز کی مناسبت سے ایک ساز ’وائبروفون‘ بکثرت استعمال کیا جانا تھا مگر کسی وجہ سے اس کی موٹر خراب ہو گئی جس سے ’گونج‘ جاتی رہی۔ دلبرداشتہ ہو کر ساز کی موٹر ٹھیک ہونے کے انتظار میں بیٹھے رہنے کے بجائے انہوں نے جہاں اور جیسے ہے کی بنیاد پر ایک نئے انداز سے اس کو استعمال کر کے تاریخ رقم کر لی۔

ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ اس بات کی اہمیت کو نظر انداز کر دیں مگر ایسے ہی موقع پر انسان کے فنکارانہ جوہر پہچانے جاتے ہیں۔ واجبی موسیقی او ر کانوں کو اچھی لگنے والی موسیقی میں فرق کرنے والے افراد کو اگر وائبروفون گونج کے ساتھ اور بغیر گونج کی حالت میں الگ الگ سنایا جائے تو زمین آسمان کا فرق محسوس ہو گا۔ اب اس کو ایسے استعمال کرنا کہ ساز کا بھر پور تاثر، تنہائی کی اداسی کا ماحول قائم کر دے، یہ مہدی ظہیر صاحب کا خاصا تھا۔

انٹرنیٹ پر اس نظم کی ریڈیو پاکستان والی اصل ریکارڈنگ پہلے تو میسر تھی لیکن شاید اب نہیں ہے۔ ”دشت تنہائی“ سے متعلق ایک مقبول عام خیال ہے کہ ا قبال بانو کی ادائیگی اور آواز نے اس نظم کو دوام بخشا۔ یہ صحیح ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مذکورہ بالا دوام مہدی ظہیر کا مرہون منت ہے۔ جی ہاں! اس نظم کی طرز ان ہی کی بنائی ہوئی ہے۔

فی زمانہ زندہ اور گزری ہوئی مشہور شخصیات کی سالگرہ منائے جانے کا خاصا زور ہے۔ ان میں سیاستدانوں کے ساتھ فنکار بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں گوگل پاکستان نے 28 دسمبر 2019 کو اقبال بانو کی 81 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے صفحہ پر ( اس کو گوگل ڈوڈل کہا جاتا ہے ) آرٹسٹ کی بنائی ہوئی تصویر لگائی۔ یہ گوگل کی جانب سے اقبال بانو کو خراج تحسین تھا۔ اس میں اقبال بانو اپنے مخصوص انگ میں غزل سرا ہیں۔ ان کے ایک طرف طبلے کا بایاں اور دوسری طرف ہارمونیم ہے۔ اور سامنے کچھ پھول پتے نظر آ رہے ہیں۔ بعض تذکروں میں ان کی تاریخ پیدائش 27 اگست بھی ملتی ہے۔

اقبال بانو کی فلمی د نیا میں جب آ مد ہوئی تب ہمارے ہاں تین گیت نگار بہت زیادہ فعال تھے : حضرت تنویرؔ نقوی، سیف الدین سیفؔ اور قتیلؔ شفائی۔ اپنی آپ بیتی ”گھنگرو ٹوٹ گئے“ میں قتیلؔ شفائی نے میں پورا ایک باب اقبال بانو پر لکھا ہے۔ جس میں اس زمانے کے گیت نگاروں کے مابین بغیر حسد کے گیت لکھنے کے صحت مند مقابلوں کا ذکر ملتا ہے۔ یہ بھی کہ قتیلؔ صاحب کی خواہش تھی کہ فلم ”گمنام“ میں سیفؔ صاحب کے گیت سے اچھا اور مقبول تر گیت لکھوں۔

اس آپ بیتی میں وہ لکھتے ہیں : ”میں بے چین تھا کہ ( سیفؔ کے ) اس گانے نے اپنے سے پہلے کے گانوں کو بالکل ہی دبا کر رکھ دیا ہے۔ کچھ ایسا ہو کہ اس سے اچھا گانا آئے جو اسے بھی پچھے چھوڑ جائے۔ انور کمال پاشا صاحب کی فلم“ قاتل ”بن رہی تھی۔ اس کے لئے مجھے گانے لکھنے ک دعوت دی گئی۔ ایک سچوئیشن ایسی آئی جس کے لئے میرے ذہن میں منصوبہ بنا کہ اس گانے کو اقبال بانو گائے۔ چناں چہ میں نے گانا لکھا۔ ماسٹر صاحب سے پہلے ہی کہہ دیاکہ میں نے یہ گانا اقبال بانو کو ذہن میں رکھ کر لکھا ہے۔ ماسٹر صاحب نے بھی اس گانے کی بہت اچھی دھن بنائی۔ تب کہیں جا کر فلم ”قاتل“ کا گیت بنا: ’الفت کی نئی منزل کو چلا۔‘

موسیقی میں خدمات کے صلے میں انہیں 1974 میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

پاکستانی فلمی د نیا کی یہ بڑی پلے بیک گلو کارہ، 21 اپریل 2009 کو لاہور میں ایک مختصر علالت کے بعد اس دنیا سے کوچ کر گیئیں۔ بلا شبہ وہ اپنی مخصوص طرز گائیکی میں یکتا تھیں۔ پاکستان اور بھارت میں نئے اور پرانے سننے والے یکساں انہیں سنتے اور پسند کرتے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ خاکسار خود ہے : میں نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مختلف ریاستوں کے چھوٹے بڑے شہروں میں موسیقی کی محفلوں میں اقبال بانو کے گیت لوگوں کو گاتے ہوئے سنا۔ جب تک غزلوں اور گیتوں کے سننے والے موجود ہیں تب تک اقبال بانو بھی ان میں موجود رہیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •