سیاسی تصادم کے خطرناک نتائج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت ملک تیزی سے بدلتی سیاسی صورتحال سے دوچار ہے، حکومت اور حزب اختلاف میں جاری کشیدگی اور لفظی جنگ کے ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا، ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات سیاسی ماحول کو مزید آلودہ کر رہے ہیں، جبکہ پارلیمانی کارروائی کے دوران ایک دوسرے کو غدار کہنے اور جارحانہ حرکات کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان این آر او دینے کے لئے تیار ہیں نہ مذاکرات کے ذریعے سیاسی ڈیڈ لاک توڑنا چاہتے ہیں، اس حکومتی طرز عمل نے حزب اختلاف کے اتحاد کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل گیارہ جماعتیں وسیع عوامی نمائندگی کے ساتھ حکومت کے خلاف صف آرا ہیں اور عوام کو یقین دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت جانے والی ہے، جبکہ شیخ رشید کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن کے اندر بہت جلد جھاڑو پھرنے والا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے سیاسی تصادم کے باعث ملک میں عدم استحکام کے بڑھنے کا خدشہ ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے بہت خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں، ایک دوسرے کو بھیجنے کے چکر میں کوئی تیسرا بھی آ سکتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ حکومت اور اپوزیشن سیاسی تصادم کی راہ پر چلتے ہوئے ملکی عدم استحکام کو نظر انداز کر رہے ہیں، اپوزیشن گلگت بلتستان انتخابات کی آڑ میں حکومت پر دباؤ ڈالنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف حکومت کا سیاسی چیلنج کمزور ہو رہا ہے، کیونکہ حزب اختلاف تنازع میں حکومتی اتحادی نہ صرف خاموش ہیں، بلکہ انہوں نے وزیر اعظم کے ظہرانے میں شرکت بھی نہیں کی ہے۔ اس تمام معاملے سے دور رہنے کی خواہش کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی کھیل میں گھسیٹا جا رہا ہے۔

حزب اختلاف کی حکمت عملی ہے کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازی کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جائے، جبکہ حکومت بھی خود کو فوج کی حمایت حاصل ہونے کے دعوے کر کے غیر ارادی طور پر حزب اختلاف کا ہی کام کر رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے گیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث اسٹیبلشمنٹ سیاسی رسہ کشی اور میڈیا میں ہونے والے مباحث کا مرکز بن گئی ہے۔ اس صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ملک میں بڑھتی کشیدگی اور سیاسی درجہ حرارت کے باعث جہاں ادارے متنازع بن رہے ہیں، وہیں ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے توجہ ہٹ رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام معاشی ترقی کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب کہ ملک پہلے ہی کورونا کی وجہ سے معاشی دباؤ کا شکار ہے، ایسی صورتحال میں حکومت کی توجہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے بجائے سیاسی رسہ کشی پر مرکوز رہے تو حکومت پر سے عوام کا اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔

تحریک انصاف حکومت اپنی آئینی و قانونی مدت کا نصف عرصہ گزار چکی ہے اور اگر مان بھی لیا جائے کہ سابقہ حکومتیں ایک تباہ شدہ مقروض ملک چھوڑ کر گئی تھی، تب بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ ملک کو مائنس میں چھوڑ کر گئی تھی تو کیا اب ”پلس“ میں آ گیا ہے۔ کیا مہنگائی کا گراف نیچے آیا ہے، اشیائے ضروریہ سستی ہو گئی ہیں، انصاف دہلیز تک پہنچ چکا ہے، بے روزگاری کم ہو گئی ہے، امن و امان کی صورت حال پہلے سے بہتر ہو گئی ہے اور حکومتی رٹ ہر ادارے پر حاوی ہو چکی ہے۔

اگر ایسا سب کچھ ہے تو پھر یقیناً حکومتی اقدامات کی وجہ سے ملک ترقی کی جانب گامزن ہے، لیکن اگر سب کچھ اس کے بر عکس ہے تو پھر عوام کو زبانی کلامی دعوؤں سے کچھ حاصل نہیں ہے۔ عوام ملک خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے دعوے بہت سن چکے اور دیکھ بھی چکے ہیں، اس لیے وزیراعظم عمران خان کو اپنے دائیں بائیں اور آگے پیچھے کھڑے مصاحبوں کا جائزہ لینا بہت ضروری ہو جاتا ہے، کیونکہ جو لوگ دوستوں اور ہمدردوں جیسی شکل بنا کر کسی بھی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں، دراصل وہی مفاد پرست منافق لوگ ہوتے ہیں، جنہیں حرف عام میں آستین کا سانپ کہا جاتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے پاس جائیں گے، جبکہ گردشی قرضوں کا بڑھ جانا، قرضوں کا انبار لگ جانا، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوجانا اور روزگار کے دروازے نہ صرف بند ہو جانا، بلکہ برسر روزگار کا بے روز گار ہو جانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یا تو معیشت کی مضبوطی کے دعوے جھوٹے ہیں یا پھر صفوں میں بہت بڑے بڑے ڈاکو چھپے ہیں جو ہونے والے ہر منافع اور آنے والی ہر رقم کو ہڑپ کر جاتے ہیں۔

اس ساری صورت حال کو سامنے رکھ کر یہ بات کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ حکومت یا تو اپنے ارد گرد جمع مصاحبوں کی جانب سے کسی غفلت کا شکار ہے یا پھر وہ سارے افراد اپنی ذات میں اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے خلاف کسی کارروائی کا عمل میں آنا حکومت کے بس سے باہر ہے، شاید ایسا ہی ہے، اسی لیے حکومت از خود مافیاؤں کے طاقتور ہونے کے اعتراف کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کے مگر مچھوں کو جان لینے کے باوجود قانونی گرفت میں لا رہی ہے، بلکہ ان کے فرار کے سارے راستے بھی کھلے چھوڑ رکھے ہیں۔ اسی وجہ سے ہر اٹھایا جانے والا قدم اور ہر تدبیر پلٹ کر خود موجودہ حکومت کے مدمقابل آ کر ڈٹتی جا رہی ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کرپٹ سیاستدان سے لے کر طاقتور مافیاز تک سب کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے، سابقہ ادوار میں احتساب بیورو کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے، اس پر انگلیاں اٹھتی رہیں، تاہم جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں با اثر شخصیات و حکومتی عہدیداروں کو احتساب کے شکنجے میں لایا گیا ہے، اس سے بلا امتیاز احتساب کا کسی حد تک تاثر ابھرا اور نیب کی محکمانہ کارکردگی بھی شفاف حیثیت سے سامنے آئی ہے، البتہ اپوزیشن جماعتیں احتساب کے شفاف اور بلا امتیاز عمل کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

اس سے نیب کی کارکردگی پر تو اثر نہیں پڑتا، تاہم پروپیگنڈا کا جواب عملی اقدامات اور احسن طریق سے دیا جانا ضروری ہے۔ اس تناظر میں جسٹس (ر) جاوید اقبال کی قیادت میں ”نیب“ کو ابھی مزید بہت کچھ کرنا ہو گا، تاکہ بلا امتیاز احتساب ہوتا واقعی نظر آئے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن قیادت احتسابی عمل کے خوف کے پیش نظر بہت جلدی میں ہے، اس کے بس میں نہیں کہ حکومت کو فوری چلتا کر دے، اپوزیشن کی سب سے بڑی غلطی ہے کہ اس نے پی ڈی ایم کے جلسوں سے غلط اندازہ لگا لیا کہ عوام اس کے ساتھ ہیں اور اس کی کال پر سڑکوں پر آ جائیں گے، عوام سڑکوں پر آئیں گے نہ کسی کے لئے استعمال ہوں گے، لیکن اس سیاسی کشیدگی میں کسی ایک کا جانا ٹھر گیا ہے، اپوزیشن یا حکومت بہت جلد پتہ چل جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •