عوامی سیاست کا استعارہ، قیصر احمد شیخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن پہلے مجھے ایک محبت بھرے دوست چوہدری وسیم جٹ کے ولیمے پر فیصل آباد جانے کا اتفاق ہوا سفر پر روانگی سے پہلے میں چنیوٹ شہر کے وزٹ کا ارادہ کر چکا تھا اور یہ ہماری خوش بختی تھی کہ چنیوٹ کی سیاسی شخصیت قیصر احمد شیخ صاحب اس دن گھر موجود تھے اور ہماری ملاقات کا ٹائم طے پا گیا طے شدہ ٹائم پر دوستوں کے ساتھ شیخ صاحب کے گھر پہنچے اور سیر حاصل گفتگو رہی۔ ویسے تو شیخ صاحب کا تعلق پاکستان کی مشہور و معروف کاروباری برادری ’جسے چنیوٹی شیخ برادری کہا جاتا ہے‘ سے ہے۔ لیکن موصوف کی اصل شناخت عوامی سیاست کے ذریعے اقتدار کا حصول ہے۔

شیخ صاحب نے اپنی سیاست کا آغاز تو کراچی چیمبر آف کامرس کی صدارت سے کیا لیکن جلد ہی احساس ہوا کہ انہیں ملکی سطح کی سیاست کرنی چاہیے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے چنیوٹ کا انتخاب کیا کیونکہ چنیوٹ ان کے آبا و اجداد کا شہر تھا لیکن یہاں سے الیکشن لڑنا ایک چیلنج بھی تھا کیونکہ چنیوٹ کو جاگیر داریت کا قلعہ سمجھا جاتا تھا یہاں قابل قدر بات یہ ہے کہ شیخ صاحب نے مقتدر طاقتوں کی بجائے عوامی طاقت کے ذریعے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا جبکہ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا زیادہ تر کاروباری شخصیات مقتدر طاقتوں سے مل کر ہی ایوان اقتدار تک پہنچتی ہیں اس کی مثال ان کی اپنی برادری میں شیخ فیصل مختار اور شیخ الطاف سلیم کی ہیں جنہوں نے سیاست تو کرنی چاہی لیکن اس کے لیے مشرف کا کندھا استعمال کیا

ایک سوال کے جواب میں شیخ صاحب نے بتایا کہ مقتدر طاقتوں کے ذریعے اقتدار کا حصول شارٹ کٹ تو ہے لیکن اس طرح کوئی بڑی تبدیلی لانا ممکن نہیں بڑا کام کرنے کے لیے دیرپا سیاست کی ضرورت ہے اور دیرپا عوامی سیاست کا رستہ ہی ہے۔

1993 میں شیخ صاحب نے پہلی بار نون لیگ کے ٹکٹ پر چنیوٹ سے الیکشن لڑا اور کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ جاگیردارانہ نظام کے اس قلعہ میں شگاف ڈالنا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن شیخ صاحب کشتیاں جلا کر کراچی سے سیاست کرنے آئے تھے لہذا مزید پانچ سال حلقے میں کام کرنے کا فیصلہ کیا اور حلقے میں جڑیں مضبوط کیں۔ 1997 کا الیکشن آیا تو نون لیگ نے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا کیونکہ شیخ صاحب گزشتہ الیکشن میں سیٹ نکالنے میں ناکام ہو گئے تھے لہذا شیخ صاحب نے آزاد الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا شیخ صاحب نے بتایا کہ اس الیکشن میں اللہ تعالی نے بھرپور کامیابی عطا کی نون لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کے امیدواروں کے ووٹ ملا کر بھی مجھ سے کم تھے یوں آزاد الیکشن جیتنے کے بعد نون لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا تب سے اب تک اسی پارٹی کا رکن ہوں۔ اس کے بعد 2002 کا الیکشن جیتنے کے باوجود مجھے ہرا دیا گیا اور 2008 کا الیکشن بھی جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ لیکن 2013 اور 2018 کے الیکشنز میں اللہ تعالی نے پھر کامیابی سے ہمکنار کیا ”۔

شیخ صاحب کا کہنا تھا کہ پانچ بار الیکشن لڑ چکا ہوں صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جب تک پڑھے لکھے اور کاروباری لوگ سیاست میں نہیں آئیں گے تو ملک ترقی نہیں کر سکتا میں نے سیاست سے کوئی ذاتی مفاد حاصل نہیں کیا وقت پیسہ اور کاروبار یہ سب اس لئے اس میدان میں جھونکے کہ اس دھرتی کو دیانت دار قیادت کی ضرورت ہے۔

شیخ صاحب کی سب سے بڑا کارنامہ چنیوٹ میں کروڑوں کی لاگت سے بننے والی فاسٹ یونیورسٹی کا قیام ہے۔ اتنی جدید یونیورسٹی کے قیام کا خیال اسی کے ذہن میں ابھر سکتا ہے جس میں عوامی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو اس کے علاوہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کا کیمپس چنیوٹ میں موصوف کی ہی خدمات کا اعتراف ہے۔

لڑکوں کے لئے کالج لڑکیوں کے لیے مدرستہ لبنات اور اپنی جیب سے 6 ایکڑ پر مشتمل آکسفورڈ اسکول اور ایل۔ آر۔ بی۔ ٹی ہسپتال یہ وہ سب شاہکار ہیں جو چنیوٹ شہر کے ماتھے کا جھومر ہیں اور شیخ صاحب جیسے عوامی سیاستدان کی خدمات کا اعتراف ہیں۔

شیخ صاحب نے نالی، سولنگ بھینسیں چوری کروا دو اور بھینسیں واپس دلوا دو کی سیاست ختم کر کے سیاست کو نئے خطوط پر استوار کیا اور عوامی خدمت کی سیاست متعارف کروائی شیخ صاحب سے ملاقات کے بعد میں سیاست میں آنے والے نئے نوجوانوں کو نصیحت کرنا چاہوں گا کہ وہ شیخ صاحب کو رول ماڈل بنائیں اور عوامی خدمت کا علم اٹھائیں۔ اس طرح آپ کی سیاست سب سے بڑی عبادت بن جائے گی یہ راستہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ملکی تقدیر کو تبدیل کرنے کے لیے یہی راستہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رانا نوید راج کی دیگر تحریریں