پاکستان امریکی دوستی کے کیسینو میں کیسے داخل ہوا؟


میں ایک مرتبہ ملیشیا گیا تھا۔ لٹانے کے لئے پیسے تو نہیں تھے لیکن یہ شوق چرایا کہ یہاں ایشیا کے ایک بہت بڑا کیسینو ہے اسے دیکھنا توچاہیے۔ کوالا لامپور سے بس میں بیٹھ کر جینٹنگ ہائی لینڈ روانہ ہوئے۔ یہ نہایت خوبصورت پہاڑی علاقہ تھا۔ بس تیزی سے سفر کرتی ہوئی کیسینو کے اندر داخل ہوئی اور ہمیں عمارت کے اندر اتار دیا۔

چائے پی کر خیال آیا کہ باہر چہل قدمی کرتے ہیں۔ ایک راستے پر چل پڑے جو بظاہر عمارت سے باہرجا رہا تھا۔ لیکن کچھ دیر میں اس کیسینو کے ایک اور حصہ میں پہنچ گئے جہاں دلچسپی کا ایک اور سامان لوگوں کو اپنی کمائی لٹانے کی ترغیب دے رہا تھا۔ بار بار نکلنے کی کوشش کی لیکن ہر مرتبہ یہ راہداریاں کیسینو کے کسی اور حصے پر اختتام پذیر ہوجاتیں۔ پاکستان اور امریکہ کی دوستی اس عمارت کی طرح ہے ہم اس میں داخل تو ہو گئے ہیں لیکن ہر مرتبہ باہر نکلنے کا راستہ ایک اور خام امید پر ختم ہوتا ہے۔

یہ سطور لکھتے وقت تک امریکہ کے انتخابات کا فیصلہ کن نتیجہ تو سامنے نہیں آیا۔ لیکن آثار یہی ہیں کہ جو بائڈن امریکہ کے اگلے صدر ہوں گے۔ جب بھی وہائٹ ہاؤس میں کوئی نیا صدر داخل ہو بہت سے پاکستانی کچھ رومانوی خیالات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گویا امریکہ کے صدر کی تبدیلی کے ساتھ ہماری قسمت بھی بدل جائے گی۔

ہماری اس خوش فہمی نے بار بار ہمارے قومی المیوں کو جنم دیا ہے لیکن ابھی تک ہماری ثابت قدمی پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ جو بھی صاحب صدر کا منصب سنبھالیں گے یقینی طور پر ان کی ترجیحات میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا بالکل نہیں ہوگا۔

وہ یقینی طور پر پاکستان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور اس غرض کے لئے کبھی کسی وزیر اعظم کو وہائٹ ہاؤس میں چائے کافی پلادی جائے گی یا اس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ایک دو تصویریں کھنچوا لی جائیں گی۔ اور پاکستان میں ایک شور مچ جائے گا کہ امریکہ نے ہماری اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اب دن پھر گئے۔

اس کالم میں ہم یہ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ آزادی کے بعد پاکستان امریکہ کے کیمپ میں کس طرح پہنچا؟

جب پاکستان معرض وجود میں آیا اور اقوام متحدہ کا ممبر بنا تو اس وقت اقوام متحدہ میں فلسطین کا مسئلہ پیش ہوا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کے قیام کی حمایت کر رہے تھے۔ پاکستان نہ صرف اس کی مخالفت کر رہا تھا بلکہ پاکستان کے وزیر خارجہ اس سب کمیٹی کے صدر تھے جو کہ فلسطینیوں کے حمایت میں تجاویز مرتب کر رہی تھی۔

بہر حال جب ہندوستان نے پاکستان کو اس کے حصے کے اثاثوں کی منتقلی میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کیں تو اس سے پاکستان کی حالت مزید پتلی ہو گئی۔ آغاز میں ہی پاکستان نے امریکہ سے دو بلین ڈالر کی عسکری اور سولین مدد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد 1949 میں وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب کا امریکہ کا دورہ ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ اور پاکستان کی طرف سے یہ پہلو بار بار زور دے کر بیان کیا جاتا رہا کہ پاکستان کمیونسٹ یلغار کے سامنے ایک دیوار کی حیثیت رکھتا ہے۔

لیاقت علی خان صاحب کے دورے کے بعد بھی یہ حالت تھی کہ جب امریکہ نے کوریا میں جنگ کے لئے فوج کے حصول کی کوشش کی تو پاکستان نے اپنی ضروریات کا حوالہ دے کر یہ سہولت مہیا نہیں کی۔ جولائی 1952 میں پاکستان نے امریکہ سے کچھ اسلحہ خریدنے کی کوشش کی لیکن امریکہ نے یہ اسلحہ مہیا کرنے سے انکار کر دیا۔ 1954 کے آغاز تک امریکہ نے پاکستان سے زیادہ اسلحہ بھارت کو فروخت کیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں اب تک پاکستان امریکی اتحادیوں کے کیسینو میں داخل نہیں ہوا تھا۔

(Crossed Swords by Shuja Nawaz p 93-100)

یہ صورت حال اس وقت تبدیل ہونی شروع ہوئی جب جنوب مشرقی ایشیا میں مغربی طاقتوں کے اتحادیوں کے اتحاد سیٹو کے قیام کی کوششیں شروع ہوئیں۔ اس کے لئے ستمبر 1954 میں مختلف ممالک کے نمائندوں کا اجلاس منیلا [فلیپائن ] میں ہو رہا تھا۔ پہلے تو ارادہ یہ تھا کہ پاکستان کو اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا جائے گا۔ لیکن پھر چرچل اور آئزن ہاور کے مذاکرات کے بعد پاکستان کو اس اجلاس میں بلایا گیا۔

اس وقت پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد صاحب اور وزیر اعظم محمد علی بوگرہ صاحب تھے۔ وزارت خارجہ کا قلمدان ابھی تک پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے پاس تھالیکن وہ اپنا استعفیٰ پیش کر چکے تھے لیکن وزیر اعظم نے ان سے اصرار کیا کہ وہ اس اجلاس میں پاکستان کے نمائندگی کریں۔ اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی بحیثیت وزیر خارجہ ان کا آخری کام تھا۔

پاکستان کی حکومت کو اس اتحاد میں کیا دلچسپی ہو سکتی تھی؟ تجویز کردہ معاہدے کی شق نمبر چار کی رو سے اگر کسی ممبر ملک کے خلاف کوئی اور ملک جارحیت کرے گا تو اس اتحاد میں شامل طاقتیں اس ممبر ملک کی مدد کو آئیں گی۔ پاکستان کو یہ دلچسپی تھی کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا تو اس معاہدے کی صورت میں یہ اتحاد پاکستان کی مدد کو آئے گا۔ لیکن جب کارروائی شروع ہوئی تو امریکہ کے وزیر خارجہ ڈلس نے یہ واضح کر دیا کہ امریکہ دستخط کرتے ہوئے یہ نوٹ دے گا کہ امریکہ صرف اس وقت اس علاقے میں اپنی فوجیں بھجوائے گا جب کہ اس اتحاد کے ممبر ملک کے خلاف جارحیت کمیونسٹ بلاک کی طرف سے ہو۔ برطانیہ نے واضح کر دیا کہ اگر دولت مشرکہ میں شریک دو ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو ہم چپ سادھ لیں گے۔

پاکستان کے لئے اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان اس اتحاد میں اپنے فرائض تو ادا کرے گا لیکن اگر اسے ہندوستان کی طرف سے جارحیت کا سامنا کران پڑا تو اس کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ پاکستان کے لئے یہ اتحاد بے معنی تھا۔ پاکستانی وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے امریکہ کے موقف کی شدید مخالفت شروع کی۔ اور اس اجلاس میں ان کا امریکی وزیر خارجہ ڈلس سے اس مسئلہ پر شدید بحث بھی ہوئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

ظاہر ہے امریکہ اپنے موقف پر قائم رہا اور اس نے اس معاہدے پر اس نوٹ کے ساتھ ہی دستخط کیے کہ ہم تو اس وقت ہی حرکت میں آئیں گے جب کسی کمیونسٹ ملک کی طرف سے حملہ ہو۔ جب پاکستان کے دستخط کرنے کا وقت آیا تو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس پر یہ نوٹ لکھا۔

” یہ دستخط اس لئے کیے جا رہے ہیں کہ یہ معاہدہ میری حکومت کو بھجوایا جائے گا۔ وہ اس پر غور کر کے اس کے بارے میں پاکستان کے آئین کے مطابق فیصلہ کرے۔“

وزیر اعظم پاکستان محمد علی بوگرہ نے یہ بیان جاری کیا کہ اس معاہدے میں شرکت کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ شامل نہ ہونے کی وجہ واضح تھی۔ پاکستان کو اس میں شامل ہو کر کیا ملے گا؟ اسی مرحلہ پر وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے وزارت خارجہ قلمدان بھی خود سنبھال لیا۔ اور جلد ہی یہ مزاحمت دم توڑ گئی اور 19 جنوری 1955 کو پاکستان نے مزید مراعات حاصل کیے بغیر اس معاہدے میں شامل ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔

(Seato: The Failure of an Alliance Strategy by Leszak Buszynski p 32-40)

پاکستان کا پہلا موقف یہ تھا کہ پاکستان اس معاہدے میں تبھی شامل ہوگاجب یہ واضح ہو کہ جب پاکستان کو جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو اتحادی اس کی مدد کو آئیں گے۔ یہ موقف کیسے تبدیل ہوا؟ اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS