سائنس کی دنیا سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1۔ ایک نیا دریافت کردہ کورونا وائرس (SADS۔ CoV) بھی انسانوں میں بیماری پھیلانے کے قابل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ وائرس چین کے طول و عرض میں موجود سوروں کے ریوڑوں میں پایا جاتا ہے۔

2۔ ایک تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ”O“ بلڈ گروپ کے حامل لوگوں میں کوویڈ انفیکشن کے امکانات کم ہوتے ہیں اور بیماری کی صورت میں شدید اثرات بھی کم ظاہر ہوتے ہیں۔

3۔ ایک نیا طرز علاج جس میں زبان کو برقی طور پر متحرک کیا جاتا ہے، ”ٹینائٹس“ یا کانوں کی جھنجناہٹ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ ایک دفعہ اس عمل کے اثرات پورے ایک سال تک کارآمد ہوتے ہیں۔

4۔ خون میں آکسیجن کا لیول، درجہ حرارت اور دل کی حرکت کو مانیٹر کرنے والے جدید، پہننے کے قابل برقیاتی سنسرز اب جلد پر ڈائریکٹ پرنٹ کیے جا سکتے ہیں۔

5۔ ماہرین طبیعات نے پہلی دفعہ کمرے کے درجہ حرارت پر بجلی کی تیز ترین ترسیل کا تجربہ کیا ہے جو مستقبل میں ذرائع نقل و حمل اور برقیات میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔

6۔ سائنسدانوں نے ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس سے پلاسٹک کے کچرے کو ہائیڈروجن گیس اور قیمتی ٹھوس کاربن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ حاصل کردہ ہائیڈروجن گیس ایندھن اور صاف توانائی کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔

7۔ ماہرین حیاتیات نے حادثاتی طور پر خردحیاتیاتی جانداروں ”Tardigrades“ جنہیں آبی ریچھ بھی کہا جاتا ہے، کی ایک نئی نوع دریافت کی ہے جو خطرناک بالائے بنفشی شعاعوں سے بچنے کے لئے ایک چمکدار ڈھال کا استعمال کرتی ہے۔

8۔ ایک تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ 1995 سے اب تک گریٹ بیرئیر ریف میں گھونگے کی پچاس فیصد چٹانیں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ختم ہو چکی ہیں۔

9۔ اگر انسانی استعمال میں موجود زمین کا صرف پندرہ فیصد اپنی اصلی حالت میں بحال کر دیا جائے تو مستقبل میں ساٹھ فیصد انواع کو نابودگی سے بچایا جا سکتا ہے

10۔ سیارہ زہرہ کے ماحول میں ایک امائنو ایسڈ کی دریافت سیارے پر زندگی کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

11۔ ایک تحقیق کے مطابق انفیکشن کے چھ گھنٹوں کے اندر کورونا وائرس اپنی اثر پذیری کی انتہائی حالت کو پہنچ جاتا ہے اور ساٹھ گھنٹوں کے اندر پھیپھڑوں کے ٹشوز کو تباہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔

12۔ ڈاؤن سنڈروم نامی بیماری کا شکار لوگ عام افراد سے دس گنا زیادہ ‏ ‏covid۔ 19 کی ہلاکت خیزی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

13۔ پیدائش کے وقت سے ہی انسانی دماغ کا ایک حصہ الفاظ اور حروف کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
14۔ بچوں کے ڈے کیئر سینٹرز یا کھیل کے میدانوں میں سبزے کی موجودگی ان کی قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے۔

15۔ خطرناک دماغی بیماری الزائیمر کے خلاف ویکسین کے پری کلینیکل ٹیسٹوں میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ ویکسین نے تجرباتی جانوروں میں بیماری کی بڑھوتری کو روک دیا۔

16۔ انسانی شعور کے متعلق ایک نئے نظریے کے مطابق ہمارے دماغ میں موجود الیکٹرومیگنیٹک انرجی ہمیں سوچنے سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔

17۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر میں دس لاکھ بچے قبل از وقت اور کم وزن پیدائش جیسے عوامل کا شکار ہو کر فوت ہو جاتے ہیں۔

18۔ ایک نیا ایجاد کردہ سفید ترین پینٹ سورج کی روشنی کو انتہائی حد تک منعکس کر کے روشن ترین دن میں بھی عمارت کا درجہ حرارت قابل ذکر حد تک کم کر سکتا ہے۔

19۔ ناسا کے اسیریس ریکس نامی خلائی جہاز نے کامیابی سے زمین سے انتہائی دور ایک شہابیے ”بینو“ کو چھو کر سائنسی تجربات کے لیے نمونے اکٹھے کیے ہیں۔

20۔ چالیس سال سے محو سفر ”وئیجر“ خلائی جہاز نے ہمارے نظام شمسی کے باہر خلائی کثافت میں اضافے کی نشاندہی کر کے خلا کے ویکیوم ہونے کے نظریے کو چیلنج کیا ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد محمود صادق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •