گیتا موہن داس (افسانہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ پچھلے مہینے کی بات ہے، میرا دل ہسپتال کی فضا، کرونا اور مریضوں سے تکدر کا شکار ہوا تو صبح کی سیر کو نکل پڑا چلتے چلتے ایک قبرستان پہنچ گیا۔ انگلینڈ کے قبرستان پاکستان کے مقابلے میں زیادہ منظم اور صاف ہوتے ہیں لیکن پاکستان کے مقابلے میں ویرانی زیادہ ہوتی ہے کہ سالوں کسی ذی روح کا وہاں سے گزر نہیں ہوتا۔ وہاں کی خاموش پر سکون تروتازہ فضا سے مجھے فرحت بخش احساس ہوا، سینکڑوں برس پرانے درخت اور جا بجا بکھرے خزاں رسیدہ رنگین پتے بھلے محسوس ہو رہے تھے۔

میں کتبوں کی پیشانیوں پر ادھ مٹی تحاریر پڑھتے آگے بڑھنے لگا، چند انیسویں صدی کی قبریں تھیں میں نے ان کے پتھروں کو چھوا اور مجھے دو سو سال پہلے کے صاحب قبر اور کتبہ ساز سے غیر مرئی قربت کا احساس ہوا۔ آگے چل کر حالیہ دور کی قبروں کی قطار تھی جن کے کتبے سنگ مرمر کے تھے۔ دفعتاً ایک سسکی کی آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ کچھ فاصلے پر گھٹنوں میں سر دیے ایک آدمی ایک قبر کے سرہانے زمین پر اکڑوں بیٹھا تھا۔

میری آہٹ پا کر اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا، وہ غالباً تیس پینتیس برس کا آدمی تھا جس کے چہرے کے نقوش کچھ ایسے تھے جیسے ہمارے ہاں وسطی پنجاب میں بکثرت نظر آتے ہیں۔ اس نے اپنے آنسو پونچھے اور ایک غمگین مسکراہٹ سے میری طرف دیکھا۔ پر دیس کے قبرستان میں دیسی چہرہ دیکھ کر مجھے کچھ اشتیاق ہوا۔ اپنے طبعی میلان سے مجبور، کہ دیار غیر میں وطن کا کوئی بھی نشان ملے تو دل کھچا چلا جاتا ہے، میں نے ایک کشش محسوس کی۔ اس کشمکش میں کہ کسی کے ذاتی لمحات میں مخل ہوا جائے یا نہ میں ٹھٹک کر رک گیا، پھر اس خیال کے تحت کہ شاید بے چارے کا دکھ بانٹنے والا یہاں کوئی اور نہ ہو، اس کے پاس چلا گیا۔

صاحب سلامت کے بعد احوال پوچھا اور تعارف ہوا، میں نے اپنا نام بتایا، کامران نام سن کر اس نے پوچھا ’پاکستان؟‘ میں نے کہا جی ہاں، اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملا اٹھے۔ اس نے کہا ’میرا نام زوہیب ہے‘ ۔ میں نے قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’مجھے افسوس ہے‘ اس نے بتایا کہ وہ اس کی بیوی تھی اور ساتھ ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا جیسے کسی اپنے کو دیکھ کر اندر کا غم باہر امڈ آئے۔ بظاہر تیس پینتیس برس کے جوان کی بیوی؟ یقیناً وہ بھی جواں سال ہو گی، اس سانحہ پر میرا دل بھی دکھی ہو گیا۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسا دیا۔ چند لمحات کی خاموشی کے بعد میں نے کہا کہ میں مقامی ہسپتال میں کام کرتا ہوں اور نزدیک ہی میرا گھر ہے اگر وہ چاہے تو ایک کپ چائے پی جائے۔

اس نے کہا ’ارے آپ ڈاکٹر ہیں؟ پھر تو میں آپ سے ضرور ملوں گا لیکن آج نہیں کل‘ ۔ اس نے اگلے دن ملنے کا وعدہ کیا، موبائل نمبروں کا تبادلہ ہوا اور وہ چلا گیا۔

میں اگلے دن اتوار شام چھ بجے ٹاؤن سنٹر کے ’کوسٹا کیفے‘ میں اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ آج وہ کچھ بشاش نظر آتا تھا۔ کافی کا گھونٹ لے کر خلا میں گھورتے ہوئے وہ گویا ہوا ’میں لندن کے مضافاتی علاقے وے برج میں رہتا ہوں اور پاکستان میں میرا تعلق راولپنڈی سے ہے‘ مجھے خوشی ہوئی کہ وہ میرے ہی علاقے سے تعلق رکھتا تھا۔

اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’میری بیوی کا نام گیتا تھا، ڈاکٹر گیتا موہن داس‘ مجھے یہ نام سن کر قطعی حیرانی نہ ہوئی کیونکہ انگلستان کے کثیرالثقافتی ماحول میں بین المذاہب شادیاں کوئی انہونی نہیں البتہ اب مجھے اس کی کہانی میں دلچسپی پیدا ہوئی اور میں مزید انہماک سے سننے لگا۔ ’جی بتائیے میں سن رہا ہوں‘ میں نے کہا۔

یہ دس سال پہلے کی بات ہے جب وہ ابھی کالج میں اے لیول کر رہی تھی اور میں گاڑیوں کے ایک شو روم کے شعبہ اکاؤنٹس میں چھوٹی سی نوکری کرتا تھا۔ ہماری ملاقات ساؤتھ لندن کے ایک بس سٹاپ پہ ہوئی جہاں سے ہم دونوں روزانہ ایک ہی وقت پہ سوار ہوتے، رفتہ رفتہ ہماری ملاقاتیں ہونے لگیں۔

اس کے والدین اسی کی دہائی میں، سری لنکا کے تامل ٹائیگرز کے ہاتھوں امن و امان کے بگڑتے حالات سے جان بچا کر ولائت ہجرت کر آئے تھے۔ اس کے والد ڈاکٹر موہن داس جنرل پریکٹیشنر تھے اور والدہ ارادھنا داس ہسپتال میں نرس تھیں، اس کے دو بڑے بہن بھائی ان دنوں یونیورسٹی میں پڑھتے تھے، انتہائی مہذب اور شائستہ خاندان تھا۔ میری گیتا بہت خوبصورت اور نفیس شخصیت کی مالک تھی اس کی پیدائش یہیں انگلینڈ میں ہوئی تھی لیکن پھر بھی مشرقیت اس کی شخصیت کا واضح خاصہ تھی۔

اے لیول میں وہ اچھے گریڈ نہ لے سکی تو اس نے ہیلتھ کیئر کا کورس کیا اور معمر افراد کے کیئر ہوم میں نوکری شروع کر دی، لیکن اسے ڈاکٹر بننے کا بہت شوق تھا۔ ہمیں ملتے ہوئے تین سال ہو گئے تھے، اس دوران اس کو اسلام سے دلچسپی پیدا ہوئی اس نے اس کے بارے پڑھنا شروع کر دیا۔ کامران صاحب میں کوئی خاص مذہبی انسان نہیں ہوں اور نہ ہی میں نے اسے اسلام کی طرف مائل کرنے کی کوئی کوشش کی لیکن وہ بڑی اچھی روح تھی اس نے خود ہی اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اس نے سکائپ پہ قرآن کلاسیں لیں اور دینی تعلیم حاصل کی۔ اب اگرچہ شادی کے لئے میرے گھر والوں کا بڑا اعتراض دور ہو گیا تھا مگر پھر بھی بڑی دقت ہوئی، لیکن آخر کار میں نے انہیں منا ہی لیا، کیونکہ صاحب اس نے اپنے خاندان اور مذہب کی قربانی دی تھی جو کہ کوئی چھوٹی بات تو نہ تھی۔ ہم نے پاکستان جا کر شادی کی۔ بے چاری وہاں کے کھانے کھا کر بیمار پڑ گئی، دو ہفتے شفاء ہسپتال اسلام آباد میں گزارے اور بڑی مشکل سے جان بچی۔

ہم واپس انگلینڈ آ گئے اور زندگی اچھی گزرنے لگی، تب اس نے پھر سے پڑھنا شروع کر دیا اور کنگز میڈیکل کالج لندن میں اس کا داخلہ ہو گیا، میری آمدنی قلیل تھی سو وہ رات کو نوکری کرتی اور دن کو کالج میں پڑھتی، بڑی محنتی تھی۔ پچھلے سال اس کی گریجوایشن مکمل ہوئی۔ ہم دونوں نے یہ سارا عرصہ محنت کرتے اور ایک دوسرے کی ہمت بڑھاتے گزارا۔ اس سال کے آغاز میں جب کہ اب ہماری شادی کو چھ سال مکمل ہو چکے تھے میں نے کہا گیتا رانی مجھے بہت عرصے سے خواہش تھی کہ ایک ننھا سا پھول ہو جو ہمارے پیار کی نشانی ہو، اب ہمارا ایک بچہ ہونا چاہیے۔

تب تک میں نے یہ خواہش دبا کر ہی رکھی تاکہ اس کی پڑھائی کا سلسلہ نہ ٹوٹے۔ اب جب کہ مالی حالات بھی پہلے سے بہتر ہو گئے تھے، اس کی تعلیم بھی مکمل ہو گئی تھی اور اس نے ہسپتال میں فاؤنڈیشن ائر ون (ہاؤس جاب) کی ٹریننگ شروع کر دی تھی تو اس میں کوئی مضائقہ نہ تھا۔ وہ پانچ وقتہ نمازی تھی اور باقاعدگی سے قرآن پڑھتی، خدا پہ اس کا ایمان مجھ سے زیادہ مضبوط تھا۔

2020 پوری دنیا کے لئے نحوست کا سال شروع ہوا اور کرونا کی وبا پھیل گئی اچانک ساری دنیا کا کاروبار رک گیا، لوگ دھڑا دھڑ اس کا شکار ہو کر مرنے لگے۔ گیتا اپنی نوکری فرض سمجھ کر کرتی لیکن میرا بہت خیال رکھتی اور بہت پیار کرتی۔ اس لئے گھر آ کر نہا کر کپڑے تبدیل کرتی اور ہسپتال کے کپڑے علیحدہ رکھ دیتی، باہر سے آنے والی ہر شے کو سپرے کر کے صاف کیا جاتا اور الکحل سینی ٹائزر سے بار بار ہاتھ صاف کیے جاتے۔ فروری میں ہمیں پتا چلا کہ وہ حاملہ ہے میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی لیکن کرونا کی وجہ سے ہمیں تشویش ہوئی۔ یہاں ہسپتال والے حاملہ ملازمین سے بہت تعاون کرتے ہیں، انہوں نے اس کی ڈیوٹی کرونا وارڈ سے تبدیل کر کے دوسرے وارڈ میں لگا دی۔

حمل کا دوسرا مہینہ تھا جب اسے کھانسی اور بخار ہوا ہسپتال نے دو ہفتے سیلف آئسولیشن کا مشورہ دیا۔ اور میں بھی اس کے ساتھ گھر پہ پڑ گیا، لیکن گھر پہ حالت بہتر نہ ہوئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارے وزیراعظم بورس جانسن بھی کرونا کا شکار ہوئے اور لندن کے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ آٹھویں روز گیتا کی سانس اکھڑنے لگی میں نے بوکھلا کر ایمبولینس بلا لی اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس کا کرونا ٹسٹ پوزیٹیو آ گیا، علاج شروع ہوا مگر حالت بہتری کی بجائے بگڑتی گئی، تین دن بعد آئی سی یو منتقل کرنا پڑا اور ایک دن مجھے ہسپتال بلاوا آ یا، میں ڈر گیا، ڈاکٹر نے بتایا کہ انفیکشن پھیل جانے کی وجہ سے ہمارا بچہ ضائع ہو گیا ہے۔ میں نے دل پہ پتھر رکھ کر صبر کر لیا میرے لئے تو میری گیتا کی زندگی سب سے اہم تھی۔

میں نے عرصے بعد مسجد کا رخ کیا اور گڑگڑا کر خدا کو واسطے دیے کہ جس کے دین کی خاطر گیتا نے اپنا سب کچھ چھوڑ اوہ اسے بچا لے، اس کے والدین بھی اس کی صحت کی خاطر مندر کی گھنٹیاں بجاتے اور دھن و نتری ماتا کے چڑھاوے چڑھاتے رہے مگر کوئی تدبیر کام نہ آئی اور ٹھیک چودھویں روز گیتا چل بسی، میری دنیا اندھیر ہو گئی۔ اس کی لاش ہسپتال کے مردہ خانے میں دھری تھی کہ ایک اور مسئلہ درپیش ہوا، اس کے والدین بضد تھے کہ انتم سنسکار ہو اور ارتھی کو شمشان گھاٹ میں جلایا جائے جب کہ مجھے کچھ ہوش نہ تھا میری گیتا جا چکی تھی اب اسے جلایا جاتا یا دفنایا، وہ واپس تو نہ آ سکتی تھی۔

خیر چند دوستوں کی بھاگ دوڑ اور اس کے تبدیلی مذہب کے دستاویزی ثبوت کے ساتھ اسے اسلامی طریقے سے یہاں مٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ میرا بچہ اور میری گیتا کرونا کے شہید ہیں۔ یہ کرونا کی بیماری میرے لئے صرف ایک وبا نہیں بلکہ ایک سانحہ ہے۔ مجھے یقین ہے وہ جنت کی وادیوں میں ہوں گے، میرے پاس گیتا کی یادیں ہیں، قبر کی مٹی ہے اور ایک کتبہ جس پہ کندہ ہے ’محترمہ گیتا موہن داس زوجہ زوہیب خان تاریخ وفات 30 اپریل 2020‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •