موافق حکومتی پالیسیویں کی وجہ سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کے لئے مواقع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت پاکستان کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی موافق پالیسیوں اور پڑوسی ملک چین میں موجود بین الاقوامی مواقع سے بھر پور فائد ہ اٹھاتے ہوئے پاکستان تاجر اپنی مصنوعات کی برآمدات بڑھا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے چین کی تیسری انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں شریک پاکستانی تاجروں کے تجربات نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ اگر ہماری مصنوعات اعلیٰ معیار کی حامل ہوں، ان کی قیمت مناسب ہو اور انہیں بہتر انداز میں پیش کیا جائے تو وہ کسی بھی عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔

کسی بھی ملک میں صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے اس کی چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتیں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں جو ملک میں 80 فیصد تک ملازمتیں مہیا کرتی ہیں۔ کوریا، چین، جاپان، بھارت وہ ممالک ہیں جنہوں نے ایس ایم ایز کو فروغ دے کر صنعتی ترقی حاصل کی۔ پاکستان میں ایس ایم ایز اور وینڈر انڈسٹری بدقسمتی سے فروغ نہیں پاسکی جس کی اہم وجوہات میں بجلی کے مہنگے نرخ، بینکوں کی بلند شرح سود اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادائیگی ہے جو ایس ایم ایز کی پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث ہے۔ بینک چھوٹے درجے کی صنعتوں کو قرضے نہیں دیتے کیونکہ یہ چھوٹی صنعتیں زیادہ تر کرائے کی جگہ پر ہوتی ہیں اور قرضہ حاصل کرنے کے لئے ان کو بینکوں کے پاس گروی (مارگیج) نہیں رکھوایا جاسکتا۔

حال ہی میں وزیراعظم نے 3 نومبر کو چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی ایکسپورٹ میں اضافے کے لئے یکم نومبر سے چھوٹے درجے کی صنعتوں کی اضافی بجلی کی کھپت پر 2030 تک 50 فیصد اور بڑے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی اضافی بجلی کی کھپت پر 2023 تک 25 فیصد رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان صنعتوں پر شام 7 سے 11 بجے تک 25 فیصد اضافی Peak Hoursچارجز بھی ختم کردیے گئے ہیں اور اب ان صنعتوں پر 24 گھنٹے عام ٹیرف لاگو ہوگا۔ یقیناً یہ وہ اقدامات ہیں جو ملکی ایکسپورٹس میں اضافے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

اقوام متحدہ اور عالمی تجارتی تنظیم کے تحت قائم مشترکہ ادارے، ”انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر“ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلانچا گونزالیز نے کہا کہ چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو دنیا کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کو چینی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ موجود ہ ایکسپو کے دوران 30 کم ترقیاتی یافتہ ممالک اپنی مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔ ان ممالک کی اشیا کی نمائش کا رقبہ 4000 مربع میڑ سے زیادہ ہے۔ یہ ایسے وقت میں بہت اہم ہے جب کووڈ۔ 19 کی وبا نے عالمی معیشت اور تجارت کو اپنے گہر ے دباؤ میں لے رکھا ہے۔

تیسری چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو پاکستانی تاجروں کے لئے بھی نئے مواقع لے کر آئی ہے۔ موجودہ نمائش کے دوران کشمیری نیلم نے بہت سے صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ اس نایاب پتھر کے مالک پاکستان سے تعلق رکھنے والے عقیل احمد ہیں۔ عقیل احمد گزشتہ ایکسپو میں بھی شریک تھے تاہم موجودہ ایکسپو کے دوران انہوں نے اپنی کمپنی ونزا کی جانب سے بہت سی نئی مصنوعات متعارف کروائی ہیں۔ چین میں موجود مواقع کی وجہ سے انہوں نے گزشتہ ایکسپو کی نسبت بڑے سٹال کی درخواست دی۔ ان کی جانب سے متعارف کروائے گئے جواہرات میں کشمیری نیلم، سوات کے زمرد، یاقوت اور ہاتھ سے بنے ہوئے بہت سے بیش قیمتی زیورات تھے۔ چائنا میڈیا گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو پاکستانی مصنوعات کو بہتر انداز میں متعارف کروانے کا ذریعہ بنے گی۔

موجودہ ایکسپو کے دوران پاکستانی دستکاریوں کو متعارف کروانے والے کامل نے کہا کہ وہ یہاں ان ڈیلرز کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے جو پاکستانی دستکاریوں کو زیادہ بہتر انداز میں چینی منڈی میں متعارف کروا سکیں۔ نمائش میں شریک صابرجان جو کہ، ایک پاکستانی خریدار ہیں اور گزشتہ 25 برس سے چین میں کاروبار کر ر ہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ چین بھر میں مختلف نمائشوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ موجود ایکسپو کے دوران انہوں نے چین کے شہر گانسو سے تعلق رکھنے والے ایک زرعی کاروباری ادارے کے ساتھ تعاون کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

وہ گانسو سے پاکستان کو اعلیٰ معیار کے سیب فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صابر جان نے کہاچائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں شرکت کرنے کا یہ ان کا پہلا موقع ہے۔ وہ بہت پرجوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی بھی اتنے بڑے اور اعلیٰ معیار کی نمائش نہیں دیکھی۔ دنیا کے دوسرے ممالک کے کاروباری اداروں کے لئے، یہ چینی مارکیٹ میں داخل ہونے کا سنہری موقع ہے۔ یہ چین میں کاروبار کو وسعت دینے کا ایک بہترین موقع ہے۔

ماہرین معاشیات کے نزدیک پاکستان کے موجود ہ مسائل کا حل برآمدات میں اضافے میں پنہاں ہے۔ بیجنگ میں پاکستان سفارت خانہ اس حوالے سے قابل ذکر کردار ادا کر رہا ہے۔ تیسری چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں سفیر پاکستان جناب معین الحق بنفس نفیس خود شریک ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف وہاں شریک پاکستان کاروباری حلقوں کی حوصلہ افزائی کی بلکہ مستقبل کے لئے نئے افق تلاش کرنے میں بھی سرگرم نظر آئے۔

پاکستان کے کمرشل قونصلر بدرالزمان بھی چین میں پاکستان مصنوعات کی باسہولت رسائی کے لئے سر گرم عمل نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں نئی منڈی کی تلاش کرنے میں پرجوش دکھائی دینے والے چینی شہریوں کو ویزا سیکشن جناب خرم فرحان چشتی صاحب کی قیاد ت میں بھر پور سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

اگرچہ موجودہ عالمی وبا کی صورتحال شدید ہے اور متعدد کمپنیوں کی کاروباری صورت حال شدید انداز میں متاثر ہوئی ہے۔ لیکن تیسری چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں ایسی لاتعداد کمپنیاں موجود ہیں جو دوبارہ اس ایکسپو میں شریک ہو رہی ہیں۔ ان میں فارچون 500 میں شامل کمپنیاں بھی ہیں۔ یہ تمام ادارے چین میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھا نا چاہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •