وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ عزم و ہمت کی داستان ہے جو پڑھنے میں تو چند منٹ میں ختم ہو جائے گی لیکن اسے گزرنے میں نو دہائیاں لگیں یا شاید نو صدیوں کا سفر تھا۔ ایک آہنی عزم رکھنے والی حوصلہ مند، باوقار اور باذوق خاتون کی کہانی، جس کا حرف حرف سچائی اور لمحہ لمحہ گزاری گئی داستان پر مشتمل ہے۔ ایسی داستان جس کے ایک واقعے کا حق بھی پوری تحریر ادا نہیں کر سکتی لیکن چلیں شروع کرتے ہیں۔

خاتون چار بھائیوں کی اکلوتی بڑی بہن بلکہ خاندان کی پہلی بیٹی اور اسی نسبت سے گھر میں بہت لاڈلی تھیں۔ مالیر کوٹلے کے شاہی طبیب کی نواسی جس کے نانا جوانی میں گزر گئے، پھر والد جوانی میں چل بسے، چند سال اور گزرے تو اٹھارہ سال کا جوان رعنا بھائی اچانک چل بسا۔ اور آخر میں خاوند بھی 39 سال کی عمر میں مٹی تلے جا سوئے۔ یوں فرخ تاج بیگم 35 سال کی عمر میں بیوہ ہو گئیں۔

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی

یعنی بیوگی کیا تھی، بکھو بھٹی، سیالکوٹ کے علاقے کے معروف اور نامور چوہدری کی بیوی۔ وہ گھر جہاں تعلیم میں زیادہ اور عمر میں بڑے بھائی موجود تھے وہاں عین جوانی ہی میں پورے علاقے نے محمد اکبر بھٹی کو چوہدری تسلیم کر لیا تھا۔ چوہدری صاحب کے پاس سارے علاقے کے لوگ فیصلے کرانے آتے تھے۔ یہاں تک کہ مقامی پولیس کو بھی یہ ہدایت تھی کہ چوہدری محمد اکبر کے گاؤں نہیں جانا۔ ایک نیا پولیس افسر اور ایک آرمی افسر اس حکم کی خلاف ورزی پر چوہدری صاحب سے سزا بھگت چکے تھے۔ وہ خاوند جس کا ستارہ ہی الگ اور منفرد تھا، جنگ 1965 سے دو ہفتے پہلے صرف 39 سال کی عمر میں اچانک دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اور فرخ تاج بیگم تخت سے فرش پر آ رہیں۔

گھر زیر تعمیر تھا، لوگ افسوس کے لئے آرہے تھے کہ جنگ شروع ہو گئی۔ بھارتی فوج بارڈر کراس کر رہی تھی۔ جان کی پروا نہیں تھی، عزتوں کی تھی۔ رات کے اندھیرے میں کھیتوں کے درمیان سے بچ بچا کر نکلے، کئی میل کا فاصلہ پیدل طے کر کے ریلوے سٹیشن تک پہنچے اور ٹرین پر بیٹھ کر صدیوں کی مسافت طے کر کے بہاول نگر والدہ کے گاؤں آ گئیں۔

جنگ کے بعد سیالکوٹ گئیں، زیر تعمیر مکان لوٹ کر جلایا جا چکا تھا، ملبے سے تصویر بتاں اور حسینوں کے خطوط، خاوند کی ایک ڈائری، کچھ خطوط اور ایک دھویں سے زرد تصویر ملی۔ باقی ملبے کے نیچے ہزاروں ارمان اور یادیں تھیں جو سلگتی تھیں، سو وہاں رہنا ناممکن تھا، ضلع بہاول نگر ہی کو مسکن بنا لیا۔ جہاں والدہ تھیں، ایک تایا اور ایک چچا تھے، ٹوٹے ہوئے خواب تھے، آگے کی زندگی تھی، اندیشے تھے، خاوند کی زرعی زمین تھی اور سب سے بڑھ کر چھ بیٹیاں تھیں اور پہاڑ سی زندگی۔ لیکن خاتون کی طاقت ان کا آہنی عزم تھا جو وقت کے ساتھ اور مضبوط ہوتا جاتا تھا۔

گھر تعمیر ہوا، بیٹیاں بڑی ہونا شروع ہوئیں۔ مالی وسائل زرعی زمین سے پورے ہوتے رہے لیکن روز جذباتی مسائل سر اٹھاتے۔ زندگی سے اعتبار اٹھتا تو بیٹیوں کی طرف نظر جاتی، عزم پھر جوان ہوجاتا۔ پھر زمینوں کے معاملات، بیٹیوں کی تعلیم و تربیت۔ گاؤں میں پرائمری تک سکول تھا، ٹرانسپورٹ کے محدود ذرائع تھے، قریبی قصبے تک بعض اوقات کسی سواری پر اور اکثر اوقات پیدل لے کر جاتیں تاکہ بیٹیاں تعلیم حاصل کریں۔ اردگرد سے باتیں بھی سنیں، طعنے بھی برداشت کیے ، مخالفت بھی سہی لیکن آئرن لیڈی ڈٹی رہی۔ ہاں راستے میں بیٹیوں کو نصیحت کرتی جاتیں کہ دیکھو کس حال میں اور کن مصیبتوں سے گزر رہی ہوں، مجھے کوئی شکایت نہ آئے۔

مرے ہی دم سے تو رونقیں تیرے شہر میں تھیں

مرے ہی قدموں نے دشت کو رہگزر کیا ہے

رب کے حضور ضرور آنسو بہے، بیٹیوں کے سامنے بھی کبھی دل ہلکا کر لیا لیکن خاندان میں کسی کو اپنی نم آنکھیں اور شق کلیجہ نہ دکھایا۔ پورے وقار کے ساتھ بلکہ جلال کے ساتھ حالات کا بھی مقابلہ کیا اور لوگوں کا بھی۔ کبھی کسی سے کچھ مانگا نہیں، ہاں دیا ضرور۔ خود داری، عزم، حوصلہ اور وقار ان پر ختم تھا۔ جہاں ڈٹ گئیں چٹان کی طرح ڈٹ گئیں، نرم پڑیں تو پھولوں سے زیادہ۔

بیٹیوں کی شادیوں کے مرحلے آئے تو دوسرے عزیزوں سے بہتر طریق پر ان کی شادیوں کی کوشش کی کہ انہیں باپ کی کمی محسوس نہ ہو۔ نواسے نواسیاں پیدا ہوئے تو انہیں زندگی کا محور و مرکز بنالیا۔ دنیا جہان کے لاڈ اٹھائے۔ جس شہر میں جاتیں ان کے لئے کھلونے اور جو دستیاب چیزیں تھیں تکلیف اٹھا کر لے کر آتیں۔ ہر نواسہ نواسی یہی سمجھتا ہے جو مجھ سے تعلق ہے وہ سب سے سوا ہے۔

اتنی محرومیوں کے بعد اللہ نے خوشیاں بھی دکھائیں۔ چھ کے چھ داماد عزت کرنے والے، عزیزواقارب بھی تعظیم کرنے والے۔ خاندان کے ہر غم اور خوشی میں شریک رہیں۔ غریب اور یتیم کی ہمیشہ مدد کی۔ جس نے زخم دیے اسے بھی ہنس کر پی گئیں جس نے نیکی کی اسے زندگی بھر یاد رکھا۔ زندگی میں کچھ فیصلہ کن مراحل میں چچا زاد چھوٹے بھائی نے ساتھ دیا۔ وفات سے چند دن پہلے بھی انہیں کہتی تھیں کہ تمہارا مجھ پر احسان ہے اس لئے میں تمہاری کوئی بات نہیں ٹال سکتی، تم مجھے بہت عزیز ہو۔

زندگی کے اتنے امتحانات کے باوجود بھی بہت ہی صاحب ذوق خاتون تھیں۔ سیر اور خوشبو کی شوقین تھیں، زندگی میں مہنگی سے مہنگی پرفیوم خریدی، خود بھی استعمال کرتیں اور تحفہ بھی دیتیں۔ نارتھ امریکہ اور یورپ کے متعدد سفر کیے ۔ بہت آسائش بھی دیکھی۔ ہاتھ ہمیشہ دینے والا رکھا۔

سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح

دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں

ایک دفعہ شدید بیمار ہو گئیں، حالت کافی دگرگوں ہوئی، خود بتاتی تھیں کہ مرحوم خاوند خواب میں آئے اور کہتے ہیں میں نے تمہارے لئے رب سے عمر خضر مانگی ہے۔ اللہ نے واقعی فضل کیا، لمبی زندگی پائی۔ مجھے ان عظیم خاتون کا نواسہ ہونے کا شرف حاصل ہے جو 25 اکتوبر کو 91 سال کی مشکل لیکن کامیاب زندگی کے بعد جہان فانی سے رخصت ہوئیں۔

اب کچھ دن سے کراچی سے ہمارے پاس اسلام آباد آنے کی تیاری کر رہی تھیں اور بڑی خوش تھیں۔ وفات والے دن سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کمرے میں گئیں، اسلام آباد آنے کے لئے اپنا بیگ تیار کیا، کندھے میں کھچاو محسوس کیا۔ خالہ نے دبایا، بہتر محسوس کرنے پر خود سیڑھیاں اتریں۔ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوئیں اور ساتھ ہی کہا  ”مجھے پکڑنا“ خالہ وغیرہ نے پکڑ کر بیڈ پر لٹایا تو روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی اس طرح یہ آہنی عزم والی باوقار خاتون روح و جسم پہ طاری صدیوں کی تھکن اتارنے کے لئے ہمیشہ کی نیند سو چکی تھی۔ جس نے زندگی بھر کسی کا احسان نہیں لیا نہ کسی کو تکلیف دی آخری وقت میں بھی کسی کو جسمانی اور مالی تکلیف سے دوچار نہ کیا۔

وفات سے قبل کئی لاکھ روپے رکھوائے ہوئے تھے کہ ان سے میری تجہیز و تدفین کرنا جو بیٹیوں نے نادار اور یتیم بچیوں کی شادیوں کے لیے مختص کر دیے کہ زندگی بھر اس طرح کی مالی مدد ان کا خاصہ رہا تھا۔

ان کے ہوتے بہت محبتیں، بہت شفقتیں، بہت نوازشیں ہمیں میسر تھیں۔ ہمارے لئے تو نانا بھی تھیں اور ماموں بھی کہ سارے لاڈ انہوں نے خود ہی اٹھا لئے۔ اپنی بیٹیوں سے بھی کہا کرتی تھیں کی تقدیر کے جو کام تھے ان پر تو بس نہیں چلا لیکن دنیاوی معاملات میں تم لوگوں کو کسی چیز کی کمی ہونے دی؟ پھر آگے ہماری اولادوں پر بھی نوازشیں جاری رہیں۔ ابھی مہینہ پہلے میں ان کے پاس کراچی تھا، نماز پڑھنے سے پہلے یک دم اٹھیں میرا ماتھا چوما اور کہنے لگیں  ”تم مجھے بہت عزیز ہو۔“ میں نے عرض کی  ”نانی اماں آپ بھی“ ۔

موت کے وقت چہرے پر عجب سکون تھا جیسے زندگی کے سب امتحانوں سے سرخرو ٹھہری ہوں۔ زندگی کی بے پناہ کٹھنائیاں جھیلنے والی، زندگی کے پے در پے صدموں سے شکستہ ضرور ہوئی تھی لیکن تاج کی آب و تاب مٹی کے سپرد کرنے تک قائم تھی۔

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے

شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •