عوام کی امید نہ ٹوٹنے پائے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کا مقابلہ ایسے مافیاز سے ہے، جنہوں نے مہنگائی در مہنگائی کر کے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ حکومت کی حکمت عملی میں ایسی کیا خامی ہے کہ عوام کے مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں اور ابھی تک ان رکاوٹوں کو دور بھی نہیں کیا جا سکا ہے، حالانکہ وزیراعظم خلوص نیت سے چاہتے ہیں کہ عوامی مسائل حل ہوں، مہنگائی کی شرح میں اضافہ نہ ہو، عام آدمی کی مشکلات میں کمی واقع ہو جائے، لیکن حکومت مہنگائی مافیاز کے سامنے تاحال بے بس نظر آتی ہے، اس تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ کوئی متوازی نظام موجود ہے جو حکومت کی عملداری کو للکار رہا ہے۔

حکومتی دلاسوں پر دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا، اس کے باوجود عوام کے صبر کو داد دینی چاہیے کہ انھوں نے غربت، بیروزگاری، مہنگائی اور کورونا کے مصائب کو سہنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور حکومت کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کی ہے، لیکن حکومت کو بھی خود احساس کرنا چاہیے کہ مہنگائی، بیروزگاری جب حد سے بڑھ جائے تو ایک اضطراب اور مایوسی جنم لیتی ہے، جس کے باعث عوام میں ایک بار پھر تبدیلی کی تمنا جاگنے لگتی ہے۔

تحریک انصاف حکومت تبدیلی کے دعوؤں کے ساتھ برسر اقتدار آئی ہے، تاہم دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود عوام کو سہانے خواب دکھانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے، وزیراعظم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پوری کابینہ نے بھی گمان کر لیا ہے کہ عوام کا پیٹ چکنی چپڑی باتوں سے بھر جاتا ہے، اس کا واضح ثبوت وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کا بیان ہے کہ درآمدی چینی مارکیٹ میں آ چکی ہے، جو 15 سے 20 روپے فی کلو سستی ہوگی۔

وزیر تحفظ خوراک سید فخر امام نے بھی ہمنوائی کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمت میں اضافے کی وجہ پیداوار میں 20 لاکھ ٹن کمی ہے، لیکن اب درآمدی گندم سے قیمت میں کمی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ یہ بیانات سنتے ہی قوم سجدے میں گر گئی ہوگی، لیکن شاید وفاقی حکومت اور وزرا کو اب بھی لوگوں کی تکالیف کا حقیقی ادراک نہیں ہے، قوم ایسے بیانات اور دعوے پہلے سے سنتی چلی آ رہی ہے، مگر اس کے دکھوں اور تکالیف میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ تحریک انصاف پہلی بار برسر اقتدار آئی ہے، لیکن کابینہ میں ایسے افراد کی خاصی تعداد موجود ہے جو کئی بار وزیر رہے ہیں، انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ انتظامی مشینری سے حکومت کیسے کام لیتی ہے۔ اس کے باوجود دیکھا گیا کہ رواں برس میں گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آنے سے چند ہفتے قبل یکا یک گندم کی قلت پیدا ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ سرکاری گوداموں میں گزشتہ سال کی جمع گندم کو اضافی سمجھ کر برآمد کر دیا گیا۔

افراتفری کی حالت میں گندم کی درآمد کے آرڈر دیے گئے، جس قیمت پر اپنی گندم برآمد کی تھی، اس سے زیادہ نرخوں پر خریدنا پڑی، لیکن اس کے باوجود گندم اور آٹے کے نرخ اوپر جا رہے ہیں۔ چینی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، ایک بڑی مقدار میں چینی درآمد کی گئی ہے، تاکہ چینی کی مقامی پیداوار میں کمی سے ظاہر ہونے والی خرابی دور کی جا سکے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے ملک میں گندم اور چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں، لیکن عملی حالت یہ ہے کہ دونوں ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ اگر درآمدی گندم اور چینی کی دستیابی کے باوجود قیمتوں میں کمی نہیں آ رہی تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ بحران قدرتی نہیں، بلکہ کچھ مفاد پرست عناصر کا پیدا کردہ ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کے پاس زرعی ’صنعتی اور پیداواری وسائل کی کمی نہیں، ملکی ضروریات سے زیادہ خوراک پیدا ہوتی ہے، لیکن انتظامی بد تدبیری کی نذر ہوجاتی ہے۔ حکومت اعلانات کرتی رہتی ہے کہ غریب آدمی کے مسائل حل کیے جائیں گے، وزیراعظم بھی بارہا فرما چکے ہیں کہ عام آدمی کے لیے سہولت پیدا کرنے سے معذور نظام کو بدل دیا جائے گا، مگر جب مہنگائی کی نئی لہر آتی ہے تو تمام سرکاری نظام بے بسی کا شکار دکھائی دینے لگتا ہے۔

پرائس کنٹرول نظام ’مجسٹریٹ‘ ضلعی انتظامیہ ’حکمران جماعت کی تنظیم اور مارکیٹ کمیٹیاں عملی طور پر غیر فعال ہو جاتی ہیں۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ وزیراعظم اور ان کے ساتھی خلوص نیت کے ساتھ ملک کی خدمت کر رہے ہیں، لیکن ہر روز بڑھتی مہنگائی یاد دہانی کراتی ہے کہ سرکاری نظام میں بڑی تبدیلی لائے بغیر عوام کی زندگی آسان نہیں بنائی جا سکتی ہے۔

بلا شبہ سر کاری نظام میں تبدیلی لا نا اور عوام کو مہنگائی، بیروز گاری سے نجات دلانا حکومت وقت ہی کی ذمہ داری ہے، تاہم اپوزیشن کو تند و تیز لہجے میں جواب دینے والے وزراء اور مشیر اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ان کا مقابلہ دراصل اپوزیشن سے نہیں، بلکہ روز بروز بڑھتی مہنگائی پیدا کرنے والے مافیاز سے ہے، اس مہنگائی مافیا نے عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور ان کی مشکلات کی وجہ سے ہی عام آدمی حکومت سے نالاں نظر آ رہا ہے۔

عوام نے جس تبدیلی کی خواہش پر تحریک انصاف کو ووٹ دیے تھے، کیا پوری ہو سکے گی، یہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے، اس کا جواب حکومت نے اپنی بہتر کارکردگی سے دینا ہے۔ وزیراعظم اور ان کے رفقاء نے عوام کو نیا پاکستان بنانے کا خواب دکھایا تھا، اسے ٹوٹنے سے بچانا ہے، کیونکہ خواب ٹوٹ کر بکھر جائیں تو امیدیں بھی دم توڑ دیتی ہے، حکومت کو عوام کو بے یقینی اور بے امیدی کی کیفیت سے بچانا ہے، اگر اس بار بھی عوام کی امید ٹوٹ گئی تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •