خاموش قاتل کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذیابیطس کو ایک خاموش قاتل مانا جاتا ہے کیونکہ یہ مرض اس قدر خاموشی سے لاحق ہوتا ہے کہ مریض کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو گیا ہے، ذیابیطس کا ذکر ہزاروں سال پرانی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ کچھ اطباء نے اسے گوشت گھلانے والی بیماری کے نام سے بھی پکارا ہے۔ بیسویں صدی سے قبل ذیابیطس کا علاج دریافت نہیں ہوا تھا، لوگ غذاؤں اور ورزش سے اس مرض کا سدباب کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ 1921 ء میں سائنس دان فریڈرک گرانٹ بینٹنگ نے اپنے ساتھیوں چارلس ہربرٹ بیسٹ اور جان جیمز ریکڈ میکلیوڈ کے ساتھ مل کر انسولین ایجاد کی جس پرا نہیں نوبل انعام بھی ملا۔ ان کی اس عظیم دریافت نے ذیابیطس میں مبتلا بے شمار انسانی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سائنس دان فریڈرک گرانٹ بینٹنگ 14 نومبر 1891 ء میں کینیڈا کے شہر ایلیسٹن میں پیدا ہوئے۔ فریڈرک کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے یوم پیدائش کے روز یعنی 14 نومبر کو ہر سال ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ہر سال اس دن کے لیے ایک موضوع کا بھی اعلان کیا جاتا ہے۔ اس سال اس دن کا موضوع ہے، ”نرس اور ذیابیطس“ ۔ نرسیں چونکہ ذیابیطس کی بیماری کی تشخیص اور کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اس لئے نرسوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس سال کا تھیم نرسوں کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

جب کوئی فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے تواسے اپنے مرض کے حوالے سے بہت سی معلومات درکار ہوتی ہے اس حوالے سے نرسیں مریض کو مکمل رہنمائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ شعور بھی پیدا کرتی ہیں کہ صرف دواوں سے ہی اس کا علاج نہیں کرنا بلکہ لائف سٹائل کو تبدیل کر کے اور احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس مرض کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ نرسیں نہ صرف ذیابیطس بلکہ دیگر شعبہ امراض میں بھی سب سے زیادہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں نرسوں کی تعداد 28 ملین ہے جبکہ ذیابیطس اور دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کی خدمات کے لئے مزید 6 ملین نرسیں درکار ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2014 میں دنیا بھر میں 422 ملین بالغ افراد ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے جبکہ 1980 میں یہ تعداد 108 ملین تھی۔ پچھلی ایک دہائی کے دوران، کم آمدنی والے اور متوسط آمدنی والے ممالک میں زیادہ ذیابیطس کی شرح میں زیادہ آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے باعث دنیا میں اس وقت 463 ملین افراد ذیابیطس کا شکار ہوچکے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر پانچ سیکنڈ میں ایک فرد اس مرض میں مبتلا ہو رہا ہے جبکہ ہر دس سیکنڈ میں ایک فرد اس مرض کے باعث موت کے منہ میں جا رہا ہے۔

2019 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 19 ملین افراد ذیابیطس کا شکار تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہونے والی ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہ ذیابیطس ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس خاموش قاتل سے نمٹنے کے لئے علاج کے ساتھ ساتھ غذا، جسمانی سرگرمی اور صحت سے متعلق عالمی حکمت عملی اپنانے پر بھی زور دیا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو متواتر شوگر ٹیسٹ، بلڈ پریشر، پیروں اور وزن کی جانچ کراتے رہنا چاہیے جبکہ ہر چھ ماہ بعد ذیابیطس سے متعلق ٹیسٹ HbA 1 c اور کولیسٹرول، گردے، پیشاب کے ضروری ٹیسٹ کرواتے رہنا چاہیے۔

جب کوئی فرد ذیابیطس کا شکار ہوجاتا ہے تو جذبات سے مغلوب ہونا، غمگین ہونا اور غصہ آنا جیسی علامات پیدا ہو جاتی ہیں جو کہ مریض کی صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتی ہیں اس لئے ان سے بچنے کے لئے خود ترغیبی کا عمل کرنا ہوگا کیونکہ ایک طرف ذیابیطس کا مرض مریض کو کمزور کر رہا ہوتا ہے تو دوسری جانب مزاج کی بدلتی ہوئی منفی کیفیات اس کی صحت پر بری طرح اثر انداز ہو رہی ہوتی ہیں۔ ذیابیطس کے مریض کو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق خوراک اور ادویات کا باقاعدہ استعمال یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ نیند پوری کرنا، ہلکی پھلی ورزش یا چہل قدمی اور خوش رہنے کی ضرورت ہے تاکہ اس مرض کو کنٹرول کیا جاسکے۔ ذیابیطس کے حوالے سے اب پاکستان میں بھی گھر بیٹھے مفت آن لائن رہنمائی و معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ حکومت نے ٹیلی میڈیسن آن لائن سروس شروع کی ہے جہاں رابطہ کر کے ذیابیطس اور کورونا سمیت دیگر تمام امراض سے متعلق ماہرین صحت کی رائے لی جا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •