زندگی کا کھیل اور ہمارا رویہ: کچھ سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حرف، لفظ اور مضمون ہمارے لیے کیا ہیں۔ علم اور جاننے کے بارے میں دراصل کون سی تعریف ہمارے ذہنوں پر مسلط ہے اورکسی بھی وجہ سے کیوں ہم صلہ رحمی، رواداری، امن، سکون، ادب، ثقافت، تہذیب، زبان، شعر، گیت، موسیقی، کھیل اور زندگی کی صریح مخالف سمت میں کھڑے ہونے پر مصر ہیں۔

میرا مضمون شاید اس خطے کے بارے میں کہ پتہ نہیں کیوں جسے جنوبی ایشیا کہا جاتا ہے اور میں ابھی تک اس سوال کا جواب ڈھونڈتا ہوں کہ یہ کس طرح ایشیا کا جنوب ہے اور اگر نہیں تو پھر اسے کیا کہنا مناسب اور صداقت ہے۔ مگر رائج نام کے طور پر خطے کو جنوبی ایشیا ہی کہا جاتا ہے تو میرا مضمون کافی حد تک اس خطے کے مختلف علاقوں سے منسلک اگر نظر ائے تو شاید پوری طرح غلط نہ ہو گا کہ اپنے جنوبی ایشیائی تعلق (ساوٰتھ ایشین کنکشن) کو میں کیسے نظر انداز کروں مگر شاید یہ اس ہی خطے تک محدود بات نہیں۔ اک سوال کے طور پر لکھا یہ مضمون ہمیں بہت سارے حالیہ معاملات، متحارب فریقوں، مناقشوں، الجھے معاملات اور تہذیبی تصادم جیسی وضع کردہ اصطلاحات کے ضمن میں بھی سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

اگر ہم معاشرے سے بحیثیت مجموعی مخاطب ہونے کی کوشش کریں تو شاید نہیں بلکہ لازمی طور پر بہت سے سوال ہیں جن کو پوچھا جانا چاہیے۔ حالاں کہ سوال پوچھنا اس معاشرے میں نہ جانے کیوں اب ایک غلط رسم کے طور پر جانا جانے لگا ہے اور جن باتوں کو سوال پوچھنا کہا جاتا ہے، اگر غور کیجئے تو شاید وہ سوال نہیں عموماً اپنی رائے پر دوسروں کو قائل کرنے کی اضطراری کوششوں کے طور پر پہچانے گئے فقرے ہوں۔

ہو سکتا ہے کہ کچھ سوال غلط ہوں تو اگر سوال غلط ہیں تو صحیح جواب ان بند تالوں کی کنجی ہیں۔ غلط فہمی، اندھیرا، نفرت، تعصب، دشمنی، تشدد، سازش اور بہت سے غلط سوال کیوں صحیح جواب سے مخاطب نہیں کیے جاتے؟ کیا غلط سوال کا غلط جواب معاشرے کے مسائل اور ہمارے باہمی اختلافات کے حل کے لیے درست راستہ ہے۔

جس سے ملو، جس سے بات کرو۔ تو بہت سی محرومی کی داستانیں ہیں جن کو مکمل یا ادھورا، کم یا زیادہ سننا ہی پڑتا ہے اور اس سے غرض نہیں کہ آپ سننا چاہئیں یا نہیں

اب جناب کو کون سمجھائے کہ زندگی ایک کھیل ہے جس کے تین اجزا ہیں : آزادیاں، رکاوٹیں اور مقاصد۔ کیا یہ بات ایسی نہیں کہ اس پر غور کیا جائے اور سمجھ کر اپنی زندگی کے کھیل میں ان اجزا کے تناسب اور وجود کے معاملے کے حوالے سے بہت سے سوالوں کے جوابات جانے جائیں۔

کون ہے جس کی زندگی میں صرف خوشیاں ہیں اور کوئی غم یا مشکل نہیں۔ بلکہ زندگی کی دلچسپی ہی رکاوٹوں، مقاصد اور آزادیوں سے عبارت ہے۔ اب جو یہ سمجھ جاتے ہیں ان کے لیے زندگی ایک کھیل کی صورت میں سامنے آتی ہے اور جو کہ درحقیقت ایک کھیل ہی ہے۔

وہ الگ بات ہے کہ اپنی تعلیم کے ایک خاص روٹافیکیشن کے معمول سے سالوں نبردآزما ہونے کے بعد (جسے عرف عام میں رٹا فیکییشین بھی کہا جاتا ہے ) کسی بھی شخص کی تخلیقی صلاحیتوں کو ایک خاص قسم کا دھچکا لگتا ہے جس سے تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہوجاتی ہیں۔

لفظ جب تک سمجھے نہ جائیں مضمون کیسے سمجھ ائے گا۔ حرف کی شناخت کے ابتدائی مرحلے سے لفظ کی ساخت، جملے کو ترتیب دینا اور مختلف الفاظ کی اپنی حیثیت کو اس وقت اور مضمون کی ضرورت کے حوالے سے جاننا۔ لفظ کے کئی معنی اور مطالب میں سے موزوں کا انتخاب۔ یہ سب وہ طریقے ہیں جو سمجھ و فہم کے در کھولتے ہیں اور سوچ و فکر میں کشادگی کی سمت لے جاتے ہیں۔

سمجھنے کی جستجو، جاننے کی خواہش یہ تو فطری اور قدرتی طور پر ہر اک کے اندر موجود ہے۔ اب سیکھنے کے سفر میں کیا اور کس طرح سیکھا گیا اور سکھایا گیا۔ اس سارے عمل کا کردار شخصیت سازی اور سمجھنے کے پورے سلسلے میں بہت ہی اہم ہے۔ اگر ہم اپنی اس قدرتی صلاحیت کو استعمال ہی نہ کریں یا نہ کرنا چاہیں تو پھر نتیجہ سامنے ہے۔

اور فطری سی، کچھ قدرتی سی بات ہے کہ جب آپ اپنی کسی صلاحیت کو استعمال نہ کریں تو اس صلاحیت پر آپ کا بہت قابو (کنٹرول) نہیں رہتا اورضرورت کے وقت آپ اس صلاحیت کو استعمال نہیں کرپاتے اور زندگی کے بہت سے معاملات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپاتے ہیں۔

غور کیجیئے کہ کیا آج کل کا ہمارا ہر قسم کا تعلیمی نظام سوچ وفکر رکھنے والے انسان، تحقیق و جستجو کا مادہ رکھنے والے ذہن اور فہم و علم سے دلچسپی رکھنے والے طالب علم و اساتذہ کی تخلیق کر رہا ہے یا یاداشت کے بل پر بغیر سوچے سمجھے بس رٹ لینے والے ایسے روبوٹ یا زومبی پیدا کر رہا ہے جو کہ معاشرے کی ہر اک پرت اور پہلو کو ادھیڑنے اور تباہ کرنے کی جنگ میں مشغول ہیں۔

کسی بھی غلط فہمی پر مبنی مقصد، اپنے فرسودہ اور تجارتی مفادات اورآنکھوں پر بندھی تعصب کی دبیز پٹی کے زیراثر کیا آج اس خطے میں ہم تہذیب کے خاتمے کا سوان سونگ (اختتام سے پہلے کا آخری نغمہ) گانے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

حرف، لفظ اور مضمون ہمارے لیے کیا ہیں۔ علم کی کون سی تعریف ہمارے ذہنوں پر مسلط ہے اور کسی بھی وجہ سے کیوں ہم صلہ رحمی، رواداری، امن، سکون، ادب، ثقافت، تہذیب، زبان، شعر، گیت، موسیقی، کھیل اور زندگی کی صریح مخالف سمت میں کھڑے ہونے پر مصر ہیں۔

اب کوئی بھی رائے اور اظہار شاید مکمل تو نہیں، مگر اس کی سمت اور اسلوب سے نیت اور مزاج کو پرکھا جانا اک معیار ہے جو ادب اور زندگی میں رائج ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کیا ہم اک سے زیادہ الجھن میں گرفتار معاشرے کے طور پر دنیا کے سامنے نہیں ہیں کہ اپنی تاریخ، تہذیب، ثقافت اور حقیقت سے خود ہی اغماض برتتے ہوئے یا انحراف کرتے ہوئے ہم ان باتوں پر اصرار کرتے ہیں جو ہم نے دراصل جاننے کے بجائے صرف سنی ہیں اور سماعتوں کے اس کھیل سے گزرے ہیں جہاں معنی اور مطلب سے زیادہ لہجے، زور و شور اور اصرار کو سبقت دی گئی ہے۔

اب بس سنے ہوئے فقروں کے سحرمیں گرفتار ہم لوگ کہ خود پڑھنے، سمجھنے اورتحقیق واستفسار کے فن سے گویا نابلد و ناآشنا ہونے کا علم نہ رکھتے ہوئے صرف پھٹی ہوئی آنکھوں، گلے کی پھولی ہوئی رگوں، بے قابو سانسوں اور سمجھ و فہم سے دور تعصب اور تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے کیا یہ سوچتے ہیں کہ دنیا ہم سے خوف زدہ ہو کر ہماری بات مانے گی۔

کیا ہمارے پاس دنیا اور دوسرے معاشروں، تہذیبوں، ثقافتوں، مذاہب اور ملکوں سے مخاطب ہونے کے لیے ایسے پیرایئے اور اسلوب موجود نہیں جو آسانی اور دلچسپی سے سنے اور سمجھے جاسکیں اور اک مثبت یا حقیقی تاثر مرتب ہو سکے۔

اک گزرے ہوئے ماضی کے سحر میں صرف گرفتار اور اس ماضی کے بارے میں ایسے ذرائع سے جاننے کا دعوی رکھنے والے ہم کہ جنہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ سچائی کے کتنے پہلو یا زاویے ہیں۔ اور پھر اصرار کہ ہماری بات سنو۔ بجائے اپنے لہجے میں شدت سمونے کے اگر دلیل اور مکالمے کو آواز، لفظ اور مضمون کا روپ دیا جائے تو کیا بات اپنے اندر زیادہ اثر نہ پیدا کرلے گی۔

وہ جس کا ہم دعوی کرنے کا دعوی کرتے ہیں اور جو علم ظاہری طور پر اپنے ہاتھوں میں اٹھائے رکھنے کا دکھاوا سا کرتے ہیں۔ اس تمام کی عملی سمجھ اور حقیقی پیروی کے معیار ہم سے کوسوں دور کیوں ہیں۔ کہ جو ہم کہتے ہیں کرتے ہی نہیں اور اس پہ اصرار کہ ہماری بات مانی جائے۔

اظہار کے پیرائے اور تکلم کے اسلوب میں سوال کرنا، سوال سننا اور سوال کا جواب کسی بھی طور سے گناہ نہیں تو ہم کیوں اس سے خود کو ایک انتہائی فاصلے پر رکھے رکھنے پر ہی مصر گروہ کے طور پر اصرار کریں۔ سوچ اور فکر کے اس شتر کو حقیقت کے صحرا میں دریافت کرنے کی اجازت دیں۔ غور و فکر اور جستجو کے راستے کو اختیار کریں۔

کسی بھی بات کو درست سمجھنے کے لیے پہلے اپنے ذہن کو تعصب اور کسی بھی قسم کی جانب داری سے کچھ لمحوں کے لیے آزاد کر کے دیکھنا شاید ایک ایسا عمل ہو جو تحقیق اور جستجو کے طالب علموں کے لیے ایک کلید (چابی) کی مانند ہے۔

ایک لکھاری کے طور پر میرا کام اپنی سوچ، خیال اور فکر کو بہت سے موزوں یا درست الفاظ کے روپ میں ڈھال کر آپ کے سامنے اک سوال یا اک سے زیادہ سوالات کے طور پر پیش کرنا ہے کہ جس سے آپ کے ذہن میں اک فکر کا سلسلہ شروع ہو اور جاننے کی دیانت دارانہ

کوشش کو رواج ملے بجائے کہ صرف سنی ہوئی باتوں کو ماننے اور ان پر اصرار کرنے کی خودکش اور تباہ کن عادت ہمیں اور کھوکھلا اور بے وزن کرتی چلی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •