کچھ تھلوچستان کے بارے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف کالم نگار وشاعر منصور آفاق ہمارے میانوالی مطلب تھلوچستان کے فرزند ہیں۔ موصوف کی کالم میں تلواریں اور ہمدردیاں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ کپتان کے وسیم اکرم پلس وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے لیے دیکھنے کو ملتی ہیں۔ منصور آفاق کی بات لے کر چلے ہیں تو ضروری ہو گیا ہے کہ پہلے ان کا ایک شعر آپ کی خدمت میں پیش کیاجائے۔

ویسے ہی تمہیں وہم ہے، افلاک نشین ہیں
تم لوگ بڑے لوگ ہو، ہم خاک نشین ہیں

منصور آفا ق کے مداح اور ہمارے میانوالی کے دوست و ڈپٹی کمشنر طارق خان نیازی نے منصور آفاق اور تھلوچستان کے معروف شاعر افضل عاجز کے بارے اپنی محبتوں کا اظہار یوں کیاہے کہ افضل عاجز اور منصور آفاق دونوں میانوالی سے تعلق رکھنے والے اعلی درجہ کے ادیب تھے، ایک کی شاعری کو تبدیلی کھا گئی جبکہ دوسرے حب شریف میں اپنے فن کی کریا کرم کرنے والے ہیں۔ افضل عاجز کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے منصور آفاق کی اپنے کالم میں یاد آوری کی نوبت کیوں پیش آئی ہے، اس بارے میں بات مکمل کرلوں۔

ہوا یوں ہے کہ پچھلے دنوں منصورآفاق نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ سکول، کالج، یونیورسٹیاں بنانا، موجود ہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، مطلب سردار عثمان بزدار وزیراعلی پنجاب کی ترجیحات میں تعلیم اولین ترجیح ہے۔ منصور آفا ق کے کالم کے باقی حصوں کو تو میں جیسے تیسے ہضم کر گیا لیکن یہ ایک جملہ گلے میں ہڈی کی طرح اٹک گیا کہ وزیراعلی عثمان بزدار کی ترجیحات میں سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بنانا شامل ہے۔

یہ جملہ ہڈی کی شکل میں کیوں آ گیا تھا، ایسا کی وجہ تھی؟ یوں میں اپنی دھرتی کے معروف شاعر اور کالم نگار کی بات تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اپنے آپ کو سمجھانے کی کوشش کے باوجود کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ منصور آفاق کو وزیراعلی عثمان بزدار نے کوئی راز کی بات بتائی ہوکہ وہ تعلیم کے شعبہ میں انقلاب برپاکرچکے ہیں۔ لیکن ساری تسلی کی کہانیوں کے باوجود دل تھا کہ مانتا ہی نہیں تھا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی ترجیحات میں تعلیم اولین ترجیح ہے۔ ایسا ہے کہ منصور آفا ق، افضل عاجز، طارق خان نیازی اور راقم الحروف کا تعلق تھلوچستان (خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ، جھنگ، چینوٹ) سے ہے۔ اس بات کو منصور آفاق سے بہتر کون جانتاہے کہ تھلوچستان کے 7 اضلاع میں قیام پاکستان کو 72 سال گزرنے کے باوجود ایک بھی میڈیکل کالج تک نہیں ہے، یادرہے کہ ان گزرے 72 سالوں میں تخت لہور کے موجود ہ بلوچ حکمران سردار عثمان بزدار کا آج تک کا دور اقتدار بھی شامل ہے، اس بات کو منصور آفا ق کے علاوہ افضل عاجز، طارق خان نیازی بالخصوص تھلوچستان کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ ہماری دھرتی کے ساتھ سوتیلی ماں سے بھی بدترین سلوک ساتھ روا رکھا گیا تھا اور رکھا جا رہا ہے۔ پھرسوال یہ پیدا ہوتاہے کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار جو کہ 2018 ء کے جنرل الیکشن کے بعد پنجاب کے حکمران چلے آرہے ہیں، ان کو اس بات کا کریڈٹ کس طرح دیاجاسکتا ہے کہ ان کی ترجیحات میں سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بنانا، اولین ترجیح ہے۔

تھلوچستان کے ساتھ روا رکھے گئے ظلم کی کہانی درد ناک ہے۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سمیت تخت لہور اور اسلام آباد کے حکمرانوں نے 72 سال کے دوران تھلوچستان کو اضافی فنڈز دینے تو درکنار اس کو اپنے حق اور وسائل سے بھی دن دیہاڑے محروم رکھاہے۔ نتیجہ تھلوچستان جو کہ 7 اضلاع پر مشتمل قدرتی حسن اور دولت سے مالامال ہے، بدترین پسماندگی کا شکارہو چکاہے۔ یہاں کی آبادی بڑی تیزی کے ساتھ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، کراچی اور دیگر بڑے شہروں کی طرف اس لیے بھاگ رہی ہے کہ اپنے بچوں کو تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں تو دے سکیں۔

ان کو اس بات کا بھی خوف ہے کہ اگر اس جنگل جیسے ماحول میں مزید رہے تو اس بات کا قومی امکان ہے کہ تھلوچستان کی آنے والی نسلیں بھی تعلیم جیسے زیور سے محروم رہیں گی۔ یوں بڑے پیمانے پر نقل مکانی جا رہی ہے لیکن ریاست اور حکومت کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے۔ تھلوچستان کی کہانی ایک میڈیکل کالج کے نہ ہونے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے 7 اضلاع (خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ، جھنگ اور چینوٹ) میں ایک ڈینٹل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال بھی نہیں ہے۔

اندازہ کریں، تھلوچستان کے 7 اضلاع کی قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 19 ہے۔ ادھر تھلوچستان کی پنجاب اسمبلی میں 37 نشستیں ہیں۔ ہمارے خیال میں تھلوچستان آبادی کے تناسب میں کراچی کے برابر کھڑا ہے اور بے پناہ وسائل کے باوجود اس کو پسماندگی سے نکالنے کی بجائے دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی کرتاچلوں کہ تھلوچستان دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے درمیان کا خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ ہے۔ تھلوچستان کو سونا کے پہاڑ سے تشبیہ دی گئی ہے لیکن تخت لاہور کی پالیسوں کی بدولت اب یہاں غربت اور بے روزگاری کا راج ہے۔

اس کے ساتھ لاوارث سے بھی نچلی سطح کا سلوک کیاجا رہا ہے۔ تھلوچستان کے 7 اضلاع میں تو میڈیکل کالج قائم کرنے تخت لاہور اور اسلام آباد کو ضرورت محسوس نہیں ہوئی لیکن ملتان میں نشتر میڈیکل کالج، بہاولپور میں قائداعظم میڈیکل کالج، رحیم یار خان میں شیخ زاہد میڈیکل کالج، ڈیرہ غازی خان میں غازی میڈیکل کالج، فیصل آباد میں پنجاب میڈیکل کالج قائم کرنے کا کام پہلی فرصت میں کیا گیا۔ ادھر تخت لاہور میں تو میڈیکل کالجز کی بارش یوں کردی گئی کہ اس وقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مطابق 26 میڈیکل کالج ہیں۔ اسی طرح اتنے ہی ٹیچنگ ہسپتال ہیں۔ تھلوچستان کے عوام کے ساتھ میڈیکل کی تعلیم میں ہی نا انصافی کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے بلکہ انجئنیرنگ کی تعلیم بھی تھلوچستان کے بچوں کے لئے مقامی سطح پر یوں بین ہے کہ اس وقت تک تھلوچستان میں ایک بھی انجئیرنگ یونیورسٹی نہیں ہے۔

اسی طرح تھلوچستان کے 7 اضلاع میں ایک وویمن یونیورسٹی نہیں ہے، پورے تھلوچستان میں ایک بھی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، ذکریایونیورسٹی ملتان، غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان اور پنجاب یونیورسٹی لاہور جیسی ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے۔ تھلوچستان کے ساتھ روا رکھے گئے اس استحصالی سلوک میں کوئی ایک پارٹی یا گروپ تک بات محدود نہیں ہے بلکہ پیپلز پارٹی سے لے کر مسلم لیگ نواز او ر پھر جنرل مشرف کی چھتری تلے وجود میں آنے والی ق لیگ اور پاکستان تحریک انصاف تک سب نے اس کو پسماندگی میں دھکیلنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا اور رکھا ہوا ہے۔

تھلوچستان کے بارے میں سب کا سیبلس ایک ہے۔ پورے تھلوچستان میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد جیسی ایک بھی یونیورسٹی نہیں اور ظلم یہ ہے کہ مستقبل قریب میں بھی کوئی فیصل آباد اور راولپنڈی کی طرح زرعی یونیورسٹی بنانے کی امید تک بھی نظر نہیں آتی۔ تھلوچستان کے باہم متصل اضلاع کو ایک ڈویژنل ہیڈ کوارٹر تک نہیں دیا گیا۔ لیہ اور مظفر گڑھ کو ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے کمانڈ اور کنٹرول میں دے دیا گیا ہے، بھکر، میانوالی اور خوشاب کو سرگودھا ڈویژن رپورٹ کرنے کا تخت لاہور نے شاہی حکم صادر کیاہے۔

ادھر جھنگ اور چینوٹ کی عوام کو فیصل آباد ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں دے دیا گیا ہے ، رہے نام اللہ کا۔ یوں تھلوچستان کے لوگ سارا دن پیچھے مڑ اور گھوم جا کی حالت میں ہوتے ہیں۔ ملتان اور لاہور کا فاصلہ موٹروے بننے کے بعد ساڑھے تین گھنٹہ کا رہ گیا ہے جبکہ بھکر اور میانوالی کے لوگ اپنے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر سرگودھا، اتنے وقت میں نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ تھلوچستان کے مرکز ی روڈ جو کہ مظفرگڑھ، میانوالی روڈ (ایم ایم روڈ ) کے نام سے پہچان رکھتا تھا، اب قاتل روڈ کے نام سے شہرت پا چکاہے جہاں کہ روڈ کی خستہ حالت کے باعث آئے روز بدترین ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ادھر تخت لاہور اور اسلام آباد کے حکمران اس مرکزی روڈ ایم ایم پر کوئی پیشرفت کرنے کی بجائے سیاست کر رہے ہیں۔ جھوٹ بول رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے دوراقتدار میں بھی نعروں اور وعدوں کے باوجود اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ یہاں اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ ایم ایم روڈ جس وقت قاتل روڈ کی پہچان پا چکا ہے، اس وقت ملک کے باقی علاقوں میں موٹروے کا جال بچھادیا گیا ہے ۔

فوری اور سستے انصاف کے نعروں کی حقیقت یوں آکریہاں کھلتی ہے کہ تھلوچستان میں ایک بھی ہائی کورٹ کا بنچ نہیں ہے جبکہ ملتان جو کہ چار ضلعوں پر مشتمل ڈویثرن ہے، وہاں ہائی کورٹ کا بنچ ہے، بہاول پور تین ضلعوں پر مشتمل ڈویثرن ہے، وہاں ہائی کورٹ کا بنچ ہے لیکن تخت لاہور اور اسلام آباد کو اس بات سے پرواہ نہیں ہے کہ تھلوچستان کے ( 7 ) اضلاع میں ہائی کورٹ کا بنچ نہیں ہے۔ ادھرپورے تھلوچستان میں ایک بھی ائرپورٹ نہیں ہے جبکہ ملتان، بہاول پور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان میں ائرپورٹ بنائے گئے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ چاروں اضلاع ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور سب کو ائرپورٹ کی سہولت دی گئی ہے، اسی طرح فیصل آباد میں ائرپورٹ ہے لیکن نہیں ہے تو تھلوچستان کے 7 ضلعوں میں نہیں ہے۔

انڈسٹری نام کی کوئی چیز تھلوچستان میں نہیں ملتی- تھلوچستان کے دکھوں کی کہانی ایک کالم میں ختم نہیں ہو سکتی ہے۔ فی الحال اپنی بات اس امید کے ساتھ ختم کر رہا ہوں کہ ہمارے منصور آفاق تخت لاہور کے بلوچ حکمران عثمان بزدار سے یہ سوال ضرور کریں گے کہ تھلوچستان میں لاہور چھوڑیں بہاول پور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے برابر تعلیمی ادارے قائم کرنے کی طرف پیشرفت تک کیوں نہیں کی گئی ہے؟ ادھر آؤ مل کر تھلوچستان کے عظیم شاعر افضل عاجز کا مشہور گیت مل کر گنگناتے ہیں، جو کہ اس دھرتی کے عظیم گلوکار عطا االلہ عیسی خلیوی نے گایا تھا۔ اللہ کریسی چنگیاں وے۔ مک ویسین تنگیاں ڈھولنا وے۔ دل چھوٹا نہ کروے ڈھولنا۔ اللہ کریسی چنگیاں وے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •