نو مسلم آرزو کی شادی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کا فیصہ


جبر شادی
پاکستان اور انڈیا میں کم عمری میں شادیاں ایک بڑا مسئلہ ہے
سندھ ہائی کورٹ نے شادی کی عمر سے متعلق قانون ’چائلڈ میریج ایکٹ‘ کی خلاف ورزی پر ایک نو مسلم لڑکی آروز کی ایک مسلمان لڑکے سے شادی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

شادی کی عمر سے متعلق ایک مقدمے کے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ اور نادرا اور دیگر سرکاری ریکارڈ سے ثابت ہو گیا ہے کہ لڑکی نو عمر ہے اور یہ شادی چائلڈ میریج ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق سماعت کے روز درخواست گذار کو پناہ شیلٹر ہوم سے عدالت میں پیش کیا گیا۔ دوران سماعت لڑکی سے یہ سوال کیا گیا کہ اس نے اپنی رضا مندی سے مذہب تبدیل کیا ہے یا اس کو جبری طور پر مسیحت سے اسلام میں شامل کیا گیا۔ لڑکی نے بتایا کے اس کو کسی نے اغوا نہیں کیا اس نے اپنی مرضی اور خوشی سے مذہب تبدیل کیا اور شادی کی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اس مقدمے کا اصل مسئلہ درخواست گذار کی عمر کا تھا۔ سندھ چائلڈ میریج ایکٹ کے تحت 18 سال سے کم عمر کا کوئی بھی فریق شادی کے رشتے میں شامل نہیں ہوسکتا۔ ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ کی رپورٹ، نادرا سمیت سکول ریکارڈ، پادری کے جنم سرٹیفکیٹ اور والدین کی گواہی سے ثابت ہوا کہ آرزو شادی کی قانونی عمر کو نہیں پہنچیں۔

اٹھارہ برس سے کم عمر میں شادی کرنا قانونی طور پر جرم ہے، لڑکی کو اس کے شوہر کا دعوی کرنے والے شخص کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ قانون کے تحت لڑکی کے پاس دو راستے تھے یا تو وہ والدین کے ساتھ چلی جاتی یا پھر وہ شیلٹر ہوم میں رہ سکتی تھی۔

تاہم لڑکی نے والدین کے پاس جانے سے انکار کر دیا جس کے بعد اسے شیلٹر ہوم بھیج دیا گیا۔ شیلٹر ہوم لڑکی کی بہتر تربیت اور حصول تعلیم کے انتظامات کرنے کا پابند ہوگا۔

عدالت نے کم عمری میں شادی کو ممنوع دینے والے قانون کی دفعات کے تحت درج ہونے والے اس مقدمے میں یہ شادی کرانے والوں کو شامل کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا اور کہا ہے کہ شادی کرانے والوں کے ناموں نشاندہی لڑکی کے والد نے کردی تھی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp