انسان، حاکمیت اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب انسان نے فصل لگانا سیکھ لی تو انہوں نے گروہوں کی شکل میں ایک ہی مقام کو اپنا مستقل ٹھکانا بنا لیا۔ اس سے پہلے انسان شکار کی تلاش میں اپنے خاندان سمیت مستقل سفر کی حالت میں رہتا تھا۔ فصلوں سے پیداوار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے خوراک کے لئے استعمال ہونے والے جانوروں کو بھی پالنا شروع کر دیا۔ اس طرز زندگی سے انسان کی نا صرف خوراک کی ضروریات پوری ہونے لگیں بلکہ خوراک کا ذخیرہ بھی ہونے لگا۔ کبھی بارش نہ ہونے، قدرتی آفات سے فصل تباہ ہو جاتی، جانور مر جاتے، کوئی نقصان ہو جاتا تو وہ کسی غیر مرئی طاقت کو مختلف طریقوں سے عبادت کر کے راضی کرنے کی کوشش کرتے۔

اس نظام زندگی میں انسان کو ہر وقت محض خوراک کی ہی تگ و دو میں رہنے سے نجات ملی۔ انسان کی توجہ دیگر امور کی طرف راغب ہوتی گئی، کام کاج کو اچھے طریقے سے کرنے کی اشیاء ایجاد ہونے لگیں۔ اسی دور میں غیر مرئی طاقت کی عبادت کے لئے مخصوص شخص اور مخصوص جگہ کا قیام عمل میں آ گیا۔ وہ شخص لوگوں کو غیر مرئی طاقت کے غیض و غضب سے ڈراتا اور انہیں تلقین کرتا کہ غیر مرئی طاقت کو راضی رکھنے کے لئے چڑھاوے چڑھائے جائیں۔

لوگ اپنے ذخیرے میں سے فصلوں کی پیداوار، جانور اور دوسری اشیاء اس مذہبی آدمی کے مخصوص مقام پر چڑھاوے کے طور پر اسے دے آتے۔ عبادت گاہ کہیں یا مقدس قرار دی گئی اس جگہ چڑھاوے کی اشیاء کی مقدار بہت زیادہ ہونے پر اس جگہ توسیع کی گئی، چڑھاوے کے سامان کی رکھوالی کے لئے مسلح افراد مخصوص ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ انسانی ارتقاء کے اس مرحلے میں مذہبی آدمی ہی وہاں کا حاکم ہوتا تھا، اس نے فیصلے صادر کرنا بھی شروع کر دیے، اس کے پاس مسلح افراد بھی ہوتے جس سے اسے اپنے احکامات پر عملدرآمد پر مشکل نہ آتی۔ ویسے بھی لوگ اس مذہبی آدمی کی باتوں پہ ایمان رکھتے تھے۔

ارتقاء کے اس مرحلے میں انسانی آبادی تیزی سے بڑھنے لگی، علاقوں کو اپنے زیر قبضہ رکھنا اور بھی ضروری ہو گیا۔ انسانی آبادیوں میں طاقت ور خاندان سامنے آنے لگے جو تعداد کے لحاظ سے طاقت میں ہوتے۔ کئی صدیاں اسی طرح کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے شکلیں بدلتے بدلتے حکمرانی بادشاہت کی شکل میں سامنے آئی۔ بادشاہ خدا کا مقدس انسان قرار دیا گیا جس کا فرمان خدا کے حکم کے مترادف ہوتا۔ اسی کی اولاد سے اگلا حکمران بنتا۔ کمزور بادشاہتوں کو طاقتور بادشاہوں نے ختم کر نا شروع کیا۔ دنیا کی مختلف تہذیبوں میں کئی مختلف بادشاہتیں قائم ہوئیں جن میں چند کی تعداد ہزار سال سے بھی زیادہ ہے۔

پہلی اور دوسری عالمی جنگ نے حکمرانی کے بادشاہی نظام کو کمزور کر دیا۔ طباعت کی صورت علم عام ہونے سے ملکوں کے شہریوں میں اپنے حقوق سے آگاہی اور اس ضرورت کے لئے متحرک ہونے کا رجحان پیدا کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں ملکوں کی تقسیم کی نئی حد بندی طے کی گئی۔ گزشتہ چند عشروں میں مزید نئے ممالک بھی وجود میں آئے۔ دنیا میں ہر ملک کے لئے جمہوریت کا نظام انسانی بہتری کے حوالے سے ایک اصول کے طور پر سامنے آیا۔

تاہم دنیا کی بڑی طاقتوں کی تقسیم میں افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطی کو بادشاہت کے نظام سے ملتے جلتے نظاموں کی حکومتوں کا محتاج کیے رکھا ہے۔ بادشاہت، آمریت، نیم بادشاہت، نیم آمریت کی طرح کے نظام حکومت افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطی کے اکثر ملکوں کی قسمت بنایا ہوا ہے۔ ایسے ملکوں میں اس طرح کی حاکمیت کو برقرار رکھنے کے لئے طبقاتی تقسیم سے کام لیا جاتا ہے، چاہے یہ طبقاتی تقسیم نسلی حوالے سے ہو یا معاشی مفادات کے لحاظ سے، اس ملک کو لوگوں کو مفادات کی ٹکراؤ میں ہی مشغول اور محدود رکھا جاتا ہے، ناقص حاکمیت کی وجہ سے وہ ملک ترقی، استحکام سے محروم رہتے ہوئے علاقائی طور پر اپنے مفادات کا تحفظ تو دور، خود اپنے تحفظ کے قابل بھی نہیں رہتا، اور ہمیشہ طاقتور ملکوں کے مفادات کے لئے ہر وقت مہیا رہتا ہے۔

یہی صورتحال پاکستان کو درپیش ہے کہ آزادی کے اعلان کو 73 سال گزر جانے کے باوجود بھی مملکت خدا داد پاکستان کے عوام اس آزادی کی تلاش میں ہیں جو انہیں اپنے ملک پہ اپنے اختیار کی حاکمیت سے نواز سکے۔ پاکستان میں طبقاتی نظام کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کے ساتھ ہی پاکستان کے عوام کو مختلف حوالوں سے اتنا تقسیم کر دیا گیا ہے کہ اب شاید ہی کوئی ایسا عنوان باقی بچا ہو کہ جسے عوام کو تقسیم کرنے کے لئے استعمال نہ کیا گیا ہو۔

اقتصادی ابتری اور عوامی مورال کی پستی کی اس صورتحال میں طبقات اتنے مضبوط ہیں کہ ان کا پاکستان شاد باد اور مضبوط ہے، ان کا ہی نہیں ان کی نسلوں کا مستقبل بھی تابناک ہے، عوام کے لئے ملک بھی غریب ہے، وسائل بھی نہیں ہیں اور اس ملک کا بوجھ اسی طرح عوام اور ملک نے ہی اٹھانا ہے۔ اس بات پہ اختلاف رائے ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانا مقصد تھا یا یا سیکولر ریاست، لیکن اس بات پہ کوئی اختلاف نہیں ہے کہ پاکستان کا قیام عوامی فلاح و بہبود کے مقصد سے ہی عمل میں لایا گیا تھا، پاکستان کا قیام سیاسی کارنامہ تھا، عسکری نہیں۔ اب کے دور میں معاشرے کا ہر شعبہ برابری کا دعویدار ہے اور انسانوں کو ان کی مرضی کے خلاف کمتر درجے کے مقام پر رکھا جانا کسی ملک کے لئے ہی نہیں بلکہ عالمی انسانی معاشرت کے لئے بھی تباہ کن نتائج کا موجب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •