آئمہ کرام معاشی تنگی سے بچنے کیلئے حلال تجارت کو اپنائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاملی کے گاؤں گنگیرو کے حافظ وسیم کی خودکشی کی خبریں چاروں اطراف گردش کر رہی ہے۔ خبروں کے مطابق وہ ضلع باغپت کے ایک گاؤں میں امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ لیکن لاک ڈاؤن میں مسجد ٹرسٹیان نے یہ کہتے ہوئے امامت کے منصب سے معزول کر دیا تھا کہ ان کے پاس انہیں تنخواہ دینے کے لئے پیسہ نہیں ہے۔ معاشی تنگی اور خودداری کی وجہ سے فاقوں کی نوبت آ گئی تھی جس کے بعد انہوں نے یہ سنگین قدم اٹھایا اور پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔

جبکہ یہ ایک حرام کام ہے۔ اور خودکشی کرنے والے کے تعلق سے حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص جس ہتھار سے خودکشی کرے گا وہ قیامت تک اسی سے اپنے آپ کو ختم کرتا رہے گا انصاف کے دن اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا معاف کرے گا یا سزا دے گا۔ حافط صاحب کی خبر سوشل میڈیا پر 2 روز سے گردش کر رہی ہے۔ ایسا حادثہ مسلم کمیونٹی میں اور وہ بھی علم دین سے واقفیت رکھنے والی کمیونٹی میں ہونا قابل افسوس ہے۔ اور امت کے باشعور افراد کو ملی تنظیموں کو اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور و فکر کر کے اس کا لائحہ عمل تلاش کرنا چاہیے تاکہ آئندہ ایسی خبریں ہمیں سننے کو نہ ملے۔

ایسا حادثہ امت کے لئے شرمناک ہے اب قوم کے حفاظ کرام اور علماء اکرام، اور آئمہ اکرام کو معاشی حالات کو مستحکم کرنے کے لئے ہنر سیکھنا چاہیے مسلم معاشرے کا یہ ذہن بنا ہوا ہے کہ امام آج کے دور میں تجارت نہیں کر سکتا ہے کیونکہ اس میں جھوٹ بولنا پڑتا ہے اور امام جھوٹ بول کر تجارت کیسے کرینگا یہ سوچ غلط ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی تجارت کی ہے حدیث نبوی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی تجارت کی ہے اور جن کا شمار امیر ترین تجار میں ہوتا تھا۔ آج ملت کا سب سے بڑا مسئلہ دین سے دوری اور معاشی اقتصادی تعلیمی پسماندگی ہے اکثر برائیوں کے شروعات معاشی تنگدستی سے شروع ع ہوتی ہے کیونکہ نفس و شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

وہ کب فقر و فاقہ کا ڈر دیکھا کر غلط قدم اٹھانے پر مجبور کردے وہ کب نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے انسان کو بہکا دے بتا نہیں سکتے۔ ایسے حالات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ چاہے وہ علماء اکرام ہو آئمہ اکرام کو حفاظ کرام ہو اپنے آپ معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لئے حلال روزگار کو اپنائے۔ ایک صحابی نے کچھ اونٹ خریدے اور انہیں اتنی ہی قیمت میں فروخت کر دیا تو کسی نے پوچھا کہ اس میں آپ کو کیا منافع ہوا تو صحابی نے کہا جتنے اونٹ تھے ان کی رسیاں آج کا میرا منافع ہے۔

تجارت کو حلال طریقے پر کرنے میں بہت سارے فائدے ہیں کہ جب ایسے ایماندار افراد تجارت کے میدان میں قدم رکھیں گے تو ان کی ایمانداری اور امانتداری کو دیکھتے ہوئے برداران وطن کافی حد تک متاثر ہوں گے۔ اور اسلام کے تعلق سے ان کی غلط فہمیاں بھی دور ہوگی۔ آپ ﷺ نے بھی تجارت کی ہے تو ہم کس کھیت کی مولی ہے۔ یہ الگ موضوع ہے کہ اماموں کے تنخواہیں ان کے گزر بسر کے حساب سے ان کے اہل خانہ اور بال بچوں کی ضروریات کے لئے ناکافی ہوتی ہے۔

اس پر بھی مسجد کے ذمہ دران اور بستی کے ذمہ اہل خیر حضرات کو خاص توجہ دینی چاہیے۔ اور ایمہ کرام کو خودکفیل بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ مسجد کا امام نائب منبر رسول ﷺ ہے اس کے اوپر پوری بستی اور علاقے کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دین کی صحیح تعلیمات پہچانے کے لئے آزاد ہو ناکہ کسی سیٹھ صاحب کے دباؤ میں آ کر حق بات کہنے سے رکنے پر مجبور ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •