انصاف کے ساتھ ترقی کا نیا دور! نتیش کمار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہار میں ایک بار پھر ترقی پسند وزیر اعلی نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے کی واپسی ہوئی ہے۔ حالانکہ این ڈی اے کی اہم حلیف جماعت جنتادل یونائیٹڈ کی کاکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔ مگر قابل شمار ضرور ہے۔ تمام ایگزٹ پول اور قیاس آرائیوں سے پرے این ڈی اے نے جادوئی اعداد و شمار کو پار کر لیا ہے۔ قومی جہموری اتحاد نے انصاف کے ساتھ ترقی کا نعرہ بلند کرنے والے بہار میں بہار لانے والے نتیش کمار کے قافلہ سالاری میں اپنے دم پر مینڈیٹ کے لئے لازمی اعداو شمار کو پار کر لیا ہے۔

جبکہ راشٹریہ جنتادل کے لیڈر تیجسوی یادو کی قیادت میں عظیم اتحاد بلکہ راجد نے انتخابی دنگل میں شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور آرجے ڈی ریاست بہار کی واحد بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ مگر حکومت کی تشکیل کے لئے ضروری اعداد و شمار سے چوک گئے ہیں۔ نوجوانوں میں ایک آس اور امید جگانے والے تیجسوی کو مزید کڑا وقت گزارناہوگا۔ این ڈی اے کی جیت کا بازی گر بھارتیہ جنتا پارٹی ہے جس نے جنتادل یونائیٹیڈ سے زیادہ سیٹ پر جیت درج کی ہے۔

جس کا سہرا وزیراعظم نریندر مودی کے سر جاتا ہے۔ این ڈی اے کی غیر متوقع جیت کو تھری ایم مودی، مسلم اور مہیلا کو بتایا جا رہا ہے۔ مختلف ایجنسیوں اور میڈیا کی سروے میں عظیم اتحاد کو واضح اکثریت دکھایا جا رہا تھا۔ بلکہ رائے دہندگان کے موڈ اور مزاج کو دیکھتے ہوئے ایسالگ رہا تھا کہ عظیم اتحاد کلین سویپ کرے گا۔ لیکن الیکشن کیمپین میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعلی نتیش کمار کے مورچہ سنبھال لینے کے بعد ہوا کارخ تبدیل ہو گیا۔

پی ایم مودی نے تقریباً ایک درجن ریلیاں کیں کئی انتخابی ریلی میں مودی اور وزیراعلی نتیش کمار ایک ساتھ نظر آئے۔ اور وزیراعظم نے نتیش کمار کے پندرہ سالہ دور قیادت کی جم کر تعریف کی اور لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ: بہار کو نتیش کمار کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت کی جانب سے عوام کے فلاح وبہبود کے لئے چلائے جا رہے اسکیموں کی تعریف، قومی مدوں پر اپوزیشن کو گھیرنا یا پھر راجد کے دور حکومت کو جنگل راج بتلاتے ہوئے تیجسوی پر تنقید کرنا وغیرہ۔

این ڈی اے کی جیت کا ایک اہم فیکٹر صوبہ کی خواتین رائے دہندگان ہیں۔ مختلف وجوہات کے سبب خواتین رائے دہندگان کو نتیش کمار کا حامی گردانا جاتا ہے۔ جو ہمیشہ خاموش انداز میں نتیش کمار کے حق میں ووٹ کرتی ہیں۔ انتخاب کے نتائج میں خواتین کا نتیش کمار کے تئیں اعتمادکو دیکھاجاسکتا ہے۔ مرکزی حکومت کی اجول اسکیم، بیت الخلا کی تعمیر اور بہار سرکار کے ذریعہ شراب بندی سمیت مختلف اسکیم ہے جس کا فائدہ خواتین کو براہ راست پہنچتا ہے۔

لہذا این ڈی اے کی فتح یابی میں نصف آبادی کا اہم رول ہے۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست کے دلچسپ انتخابی نتائج کے حتمی اعلان کے بعد خواتین رائے دہندگان کو بطور خاص شکریہ کہا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ پیغام میں لکھا ہے کہ ”بہار کی بہنوں بیٹیوں نے اس بار ریکارڈ تعداد میں ووٹنگ میں حصہ لے کر دکھا دیا ہے کہ خود کفیل بہار میں ان کا رول کتنا بڑا ہے، ہمیں اطمینان ہے کہ بہار کے مامتا کی طاقت کو نیا خوداعتمادی دینے کا این ڈی اے کو موقع ملا ہے یہ خوداعتمادی بہار کو آگے بڑھانے میں ہمیں حوصلہ بخشے گا“ تیسرا اہم فیکٹر ایم وائی سمیکرن ہے ریاست کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ یہاں کے مسلم رائے دہندگان کا لاشعوری طور پہ اور غیر مشروط طریقے سے راجد کے لئے ووٹ کرتے رہے ہیں اور راجد بھی اب تک فیصلہ کن رول پلے کرنے والے ایک بڑی تعداد کو بندھوا ووٹر یا اپنا جاگیر سمجھتا رہا ہے۔

حالانکہ وزیراعلی نتیش کمار نے اپنے قول انصاف کے ساتھ ترقی کو سچ ثابت کرتے ہوئے بہار کے مسلمانوں کے لئے عظیم خدمات انجام دی ہیں۔ جس میں اردو اساتذہ کی بحالی، مدارس ملحقہ کے اساتذہ کے ساتھ حسن سلوک، مطلقہ خواتین کی رکھوالی، قرض اسکیم، کمیونٹی سینٹر اور رہائشی اسکول کھولے گئے جس سے بہار کے مسلمانوں کے زندگی میں واضح تبدیلی آئی ہے ریاست کے تقریباً 17 فیصدی مسلم رائے دہندگان ہیں جو کسی کے بھی شکست وفتح میں اہم رول ادا کرتے ہیں بلکہ ہربار کنگ میکر کے رول میں ہوتے ہیں مثلاً ریاست کا سیمانچل خطہ جہاں کی 24 اسمبلی حلقوں میں مسلم رائے دہندگان متاثر کن ہیں مگر اس بار کے اسمبلی انتخاب میں مسلمانوں نے روایتی طریقے کو خیرآباد کہتے ہوئے الگ الگ اسمبلی حلقوں میں الگ الگ طریقے سے ووٹ کیا ہے البتہ جو ہمیشہ ان کے لئے دیوانہ رہا ان کی پذیرائی محض اس لئے نہیں کیا ہے کہ ان رشتہ این ڈی اے سے تھا یہی وجہ ہے کہ جنتادل یونائیٹیڈ نے گیارہ مسلم امیدوار کو میدان میں اتارا تھا انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے ظاہر ہے اس سے مسلمانوں کی جو ایک خواہ مخواہ امیج ہے این ڈی اے یا بھاجپا مخالف اس میں مزید پختگی آئے گی جبکہ لچک پیداکرنے کی ضرورت ہے۔

حالانکہ عقل و دانائی اور حالات و مسائل چیخ چیخ کہ رہی ہے حالات کے تناظر میں ووٹنگ عمل میں حصہ لینا چاہیے۔ اور کراس ووٹنگ سے گریز کرنا چاہیے البتہ اس الیکشن کا ایک خوشگوار جھونکا یہ ہے کہ ایک طرفہ کراس ووٹنگ بجائے مسلمانوں نے متبادل کو اپنایا ہے جس سے بہار کی سیاست میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے ریاست کے مسلمانوں نے اپنے ووٹ کی طاقت کا احساس بھی کرایا ہے۔ جس کی گونج دونوں دھڑے میں یکساں طور پہ سنائی دے رہی ہے۔

اور سیمانچل کے پانچ مسلم اکثریتی اسمبلی حلقہ میں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے امیدواروں کو اپنا نمائندہ منتخب کیا ہے۔ جس کا فائدہ با الواسطہ طور پہ این ڈی اے کو ہونے جا رہا ہے جس کے ذمہ دار بھی عظیم اتحاد کے سربراہان ہیں ایم وائی سمیکرن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی جل دے گیا اور آرجے ڈی کی ٹکٹ پر انتخاب میں اترنے والے بیشتر مسلم امیدوار اپنی سیٹ گنوا بیٹھے ہیں یعنی تیجسوی اور ان کی پارٹی کو وہ پتے ہوا دینے لگے جس پہ تکیہ تھا اور یہ بھی صاف ہو گیا کہ سیکولر فرنٹ کے غیر مسلم امیدوار کو مسلمان تو ووٹ کرتے ہیں مگر غیر مسلم مسلمان امیدوار کو کبھی ووٹ نہیں کرتے ہیں لہذا سیکولر فرنٹ کو اپنے ووٹ بنک کے نٹ بولٹ کو چست درست کرنے کا جتن کرنا چاہیے۔

محض مسلم رائے دہندگان کے بھروسا کانگریس یا اس قبیل کے دوسری پارٹیاں بہت زیادہ دن سروائیو نہیں کر سکتی ہیں۔ غور طلب ہے کہ ریاست میں اس بار این ڈی اے کو 125 سیٹ ملی ہے جس میں بی جے پی کے کھاتہ میں 74، جنتادل یونائیٹیڈ کے کھاتہ میں 43، وکاس شیل انسان پارٹی کے کھاتہ میں 4 اور ہندوستانی عوام مورچہ (سیکولر) کے کھاتہ میں 4 سیٹیں گئی ہیں جبکہ عظیم اتحاد میں آرجے ڈی کو کل 75، کانگریس کو 19 اور لیفٹ پارٹیوں کو ملاکر 16 سیٹیں مل پائی ہیں مجموعی طور پہ بہار اسمبلی انتخاب 2020 کے نتائج کا ایماندارانہ تجزیہ کیاجائے تو صاف ظاہر ہے کہ بہار کی عوام نتیش کمار کے پندرہ سالہ دور اقتدار سے قطعی نالاں نہیں ہے۔

البتہ قدرے ناراضگی ضرور تھی یہی وجہ تھی کہ تیجسوی یادو نے نوجوان طبقہ کو روزگار کے وعدے کے ساتھ اپنے قریب کر لیا جس کا فائدہ ملا اور انہیں حوصلہ بخش مینڈیٹ ملا ہے۔ جس میں عوام کی امیدیں پنہاں ہیں جبکہ عوام کی ایک بڑی تعداد نے سرکار پہ اعتماد کیا ہے اور این ڈی اے کو حکمرانی سونپی ہے لہذا لازمی ہے کہ امروز فردا میں تشکیل پانے والی حکومت عوام کے توقعات اور امیدوں پر کھرے اترے گی نتیش کمار اگر وزارت اعلی کے کرسی پہ فائز ہوتے ہیں تو ان کے لئے متعصب اور انتہا پسند بی جے پی لیڈران پر لگام لگانا اور ریاست کے امن و امان کو برقرار رکھنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ جبکہ انہیں اپنی سیکولر شبیہ کو بھی مزید مستحکم کرنا ہوگا۔ جس بات کے لئے وہ این ڈی اے میں ہو کر بھی مسلمانوں میں مقبول ہیں وہ ہے ان کی انصاف کے ساتھ ترقی اور سیکولر شبیہ جس کا قائم رہنا ضروری ہے تاکہ ریاست ترقی کی جانب گامزن رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •