موجودہ سیاسی صورتحال اور میری نظر میں اس کا حل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ آج ہم جس دنیا میں رہ رہے وہ روز اول سے ایسی نا تھی۔ پہلے پہل انسان درختوں کے پتے کھا کر پیٹ پالا کرتا تھا۔ اس دنیا میں اول اول تو لباس نام کی کوئی چیز موجود ہی نا تھی۔ پھر انسان نے اس سلسلے میں غیر شعوری طور پر ہونے والے مظالم پر سوچا تو انہیں لگا کہ لباس انسان کی ضرورت ہے۔ جس کا اہتمام کیلے کے پتوں اور اسی شکل میں جنگلی پودوں سے تیار کیا گیا۔ یہ لوگ زمین کھود کر سرد موسم سے بچنے کا انتظام کیا کرتے تھے۔ ان کا آدھا سال موسم کی شدت سے پناہ کے لیے حفاظتی اقدامات میں گزر جاتا اور آدھا سال نئے موسم کے مطابق جگہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہجرت میں۔

لیکن آج دنیا جس مقام پر موجود ہے سب جانتے ہیں۔ کھانے کے نام پہ لاکھوں انواع و اقسام کی خوراک انسان کو حاصل۔ انسان کے پیٹ کو نا صرف بھرنے بلکہ اس کی زبان کے ذائقے کو قائم رکھنے کے نام پہ اربوں ڈالرز کی صنعت آج دنیا میں قائم۔ پاپا جونز پیزا بھی اسی صنعت میں شامل ہے۔

اسی طرح لباس جس کا بنیادی کام جسم ڈھانپنا تھا آج یہ انڈسٹری کئی ممالک کی معیشت کی شہ رگ ہے۔

چنانچہ برسوں کی اس مسافت نے ہزاروں اشیاء کی ایجادات کا سفر بھی طے کیا۔ یہ زمین قبائل، سلطنت، براعظم سے بڑھ کر ممالک میں تقسیم ہوتی گئی۔ قابل غور بات ہے کہ ان ضروریات زندگی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہر ملک ہر قوم نے جدت اپنائی اور نت نئی ایجادات کو ناصرف لازم سمجھا بلکہ بارہا ان ایجادات کی کمی پر شکوہ کناں ہوئے۔

ایسا کیوں ہوا؟ محض اس لیے کہ یہ ضرورت زندگی تھی۔ حالانکہ ضرورت زندگی روٹی کپڑا اور مکان ہی تھا یہ سادہ بھی ہو سکتا تھا مگر نہیں اس سلسلے میں ہم نے زمانے کی تمام رکاوٹوں کو ہیچ جانا اور ہم پوری تگ و دو سے اس کی بلندیوں کو چھوتے گئے۔

اور اس اندھی دوڑ میں ہم اس قدر مگن ہوئے کہ ہم نے اس سے بھی بڑھ کر ایک ضروری شے کو پس پشت ڈال دیا۔ ہم یہ جان نا سکے یا پھر یوں کہنا مناسب رہے گا کہ ایک چالاک ذہن نے ہمیں اس طرف سوچنے ہی نا دیا۔

وہ ضرورت تھی ضابطہ حیات، اصول معاشرہ۔ قوم کی بطور فرد اور بطور مجموعی معاشرہ ذمہ داریوں کی حدود قیود کا تعین۔ اسی طرح ہمارے ملک میں موجود ادارے جو مکمل طور پر انسانی فلاح کے طور پر قائم ہوئے ان کے کردار اور اساس کا تعین۔

ہم اسے سادہ زبان میں آئین کہہ سکتے ہیں۔

جب ہم کوئی ایک مشین بھی نئی لیتے ہیں تو اس کے ساتھ ہمیں اس مشین کو آپریٹ کرنے کے لیے اس سے بہتر کام لینے اس کی کارکردگی کو بڑھانے اور اس مشین کو دیر تک قائم و دائم رکھنے کے لیے ہدایات کا ایک کتابچہ دیا جاتا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم ایک نیا ملک تو حاصل کرتے مگر اس ترقی دینے کے لیے ، اس میں بسنے والوں انسانوں کی فلاح کو یقینی بنانے کے لیے کوئی آئین بنائے کی سعی نا کرتے۔

یقیناً یہ آئین بنا تھا۔ ایک بار نہیں بلکہ دو بار یہ آئین تشکیل دیا گیا۔ پھر ہوا کچھ یوں کی اس آئین کو بار بار توڑا گیا۔ یہ جرم تھا اور رہے گا مگر حیرت ہے کہ اس جرم پر سزا کیوں نا دی گئی۔

قارئین کرام اس پر حیران ہونے سے پہلے اس کی وجہ جان لیجئیے جو انتہائی سادہ ہے۔ اور وہ یہ کہ آئین شکن کوئی اور نا تھا یہ آئین شکن خود آئین ساز تھے۔ جب بھی کسی ایک سول حکومت کو گرایا گیا۔ تو بجائے اس کے کہ حکومت گرانے والوں کو محاسبہ کیا جاتا کسی دوسری سیاسی پارٹی نے اس آئین شکن کو خوشامدید کہتے ہوئے اپنی بانہیں پھیلا دیں۔ وہ چاہے زوالفقار بھٹو اور پھر بے نظیر بھٹو کے خلاف بننے والا سیاسی اتحاد ہو یا پھر نواز شریف کے خلاف بننے والے مہروں کا سیاسی لبادہ اوڑھے گٹھ جوڑ۔

یہ سب کہیں اقتدار کے حصول کے لیے ہوتا رہا کہیں اقتدار کو طویل بخشوانے کے لیے اور کبھی محض سیاسی حریف کو چت کرنے کے لیے ۔

ان سب اعمال کو ایک عوامی مقبولیت کا ٹھپہ چاہیے ہوتا ہے اور بد قسمتی سے وہ ٹھپہ ہمیں بار بار حب الوطنی کی اس شدت سے دستیاب ہوا جس حب الوطنی کی تعریف اور معنی تک ہم جاننے سے قاصر۔

ان تمام وارداتوں کے خلاف اٹھنے والی زبانوں کو تالا صرف یہ کہہ کر لگایا کہ یہ سب غدار ہیں۔ ہمیں روز اول سے حب الوطنی کی مثال دینے کے لیے ایک ادارے کو مختص کر لیا گیا۔ یقیناً ہر پاکستانی اس ادارے سے محبت کرتا ہے ان کی حب الوطنی بھی مشکوک نہیں۔ مگر یہ ساری باتیں بطور ادارہ ہمیں منظور اور وہ بھی تب جب اس ادارے سے منسلک لوگ خود اس ادارے کے حلف کی پاسداری کریں گے۔

معزز قارئین ہمیں حب الوطنی کو طے کرنے کا معیار بدلنا ہوگا۔ یہ ناگزیر ہو چکا ورنہ کچھ سال بعد ہمیں اس ملک کا ہر باشندہ غدار نظر آئے گا۔ اور میں یہ سب اس بنا پر عرض کر رہا ہوں کہ ”بھوک آداب کے تقاضے بھلا دیتی ہے“

آج ہماری معیشت ہمارا عدالتی نظام اور انصاف کے تمام ادارے جس طرح مفلوج ہیں آخر یہ قوم سوال پوچھنے پہ بضد ہو گی جو کہ آپ کی چڑ ہے۔

اس سے پہلے کہ یہ سرزمین غداروں کی سرخیل بنے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھئیے کہ یہ اپنے حقوق کا تقاضا کر رہے۔ یہ ذمہ داری ان تمام حلقوں کی ہے جو اس کھیل میں شریک ہیں۔ سب سے پہلے سیاسی پارٹیز کا یہ فرض ہے کہ وہ محض اقتدار کی دوڑ میں غیر جمہوری قوتوں کا آلہ کار نا بنے۔ اس نظام کی درستگی کی پہلی کوشش بھی انہی کا فرض مگر یہ سب کسی مسلسل لڑائی سے نہیں ہو گا کم از کم آپس کی لڑائی سے تو ہرگز نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ پی ڈی ایم کا اتحاد اس جہت اور جہد میں ایک بہترین قدم مگر اس کا مقصد نیک نیتی سے اصل اور مکمل آئین کی حکومت کا قیام ہی ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •