مہنگائی کا طوفان گورننس کا بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ٹی آئی کی حکومت کرپشن کے خلاف اعلان جنگ کا نعرہ بلند کر کے بر سر اقتدار آئی۔ لوگوں کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ کرپشن ہے لہذا بقول ایم این اے مراد سعید تحریک انصاف آئے گی لوٹا ہوا مال واپس لائے گی۔ قرضے واپس ورلڈ بنک کے منہ پر مارے گی اور ہر طرف خوشحالی کے نظارے ہوں گے۔ مراد سعید کی قومی اسمبلی میں کی گئی اس تقریر کو اب پی ٹی آئی کی پاکستان کو درپیش مسائل کو نہ سمجھنے اور لمبی لمبی چھوڑنے کی ایک کلاسیکل مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت حالات یہ ہیں کہ عوام ”کرپشن ختم کریں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے“ کی گردان سن سن کر اکتا چکے ہیں۔ اس اکتاہٹ کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے مسائل اور مصائب میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت عوامی آوازوں پر کان دھرنے کی بجائے بیوروکریٹس، اور ٹیکنو کریٹس پر انحصار کر رہی ہے۔ پاکستان کا اکثریتی غریب طبقہ اب غریب ترین بنتا جا رہا ہے۔ لوگوں کی جیبوں پر مختلف مافیاز کامیابی سے ڈاکے ڈال رہے ہیں اور حکومتی مشینری کی نا اہلی کہ وہ سانپ کی لکیر پیٹتے رہ جاتے ہیں اور مافیا اپنی واردات ڈال کر یہ جا وہ جا۔

اس وقت دیہات میں رہنے والے بری طرح استحصال کا شکار ہیں۔ کسانوں کے مسائل سننے اور ان کو حل کرنے کی بجائے ان کے پرامن دھرنوں پر پولیس کے ذریعے ظالمانہ تشدد کیا جاتا ہے اور کسان اپنے حقوق لینے کی امید لے کر شہر اقتدار کی طرف جاتا ہے مگر اقتدار کے ایوانوں تک ان کی آواز نہیں پہنچ پاتی۔ گندم کی امدادی قیمت مقرر کرتے وقت ندیم افضل چن اور فخر امام کی کسانوں کے مفاد میں پرزور سفارش کو نظر انداز کرتے ہوئے نان الیکٹڈ مشیروں رزاق داؤد اور ندیم بابر کی رائے کو قبول کیا گیا۔

مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو مہنگائی کو کنٹرول کیا جا رہا کہ شہر میں رہنے والوں کو فائدہ ہو اور نہ ہی اجناس کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں اور نہ ہی زراعت کے لئے بجلی سستی کی جا رہی۔ شہر اور دیہات میں رہنے والا غریب اور مڈل کلاس سفید پوش طبقہ سخت مشکل میں ہے۔ انڈسٹریل لابی اور ایلیٹ کاروباری طبقہ اپنے لئے اسی طرح مراعات حاصل کر رہا جیسے سابقہ حکومتوں کے دور میں لیتا رہا ہے۔ مراد سعید کی یہ انقلابی حکومت پکڑ دھکڑ کے ذریعے اپنی نا اہلی اور روایتی طرز حکومت کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی آئی ہے تاہم وہ مہنگائی کنٹرول کرنے پر ناکامی پر بیوروکریسی کی سرزنش بھی نہیں کر پا رہی۔

بلیک مارکیٹنگ دھڑلے سے جاری ہے مول تول کو جانچنے کا کوئی نظام کام نہیں کر رہا۔ پیٹرول پمپس پر لوگوں کو کم مقدار میں پیٹرول دیا جاتا ہے۔ کسانوں کی جعلی کھاد اور بیج مافیا سے جان چھڑانا انتظامیہ اور پولیس کی ترجیحات میں شامل نہیں نظر آتا۔ ورنہ یہ مہنگائی کرنے والے زمینداروں کو لوٹنے والے اور بلیک مارکیٹنگ کرنے والے کوئی جن نہیں ہیں جو پکڑ میں نہیں آتے۔ پرائس کنٹرول کرنے والے اپنے جرمانے کر کے نکل جاتے ہیں اور پیچھے سے زیادہ مہنگائی شروع ہو جاتی ہے۔

انتظامیہ کا رعب دبدبہ یا جوش ولولہ کہیں نظر نہیں آتے۔ صوبائی اور وفاقی محکموں کے ہر ضلع میں دفاتر موجود ہیں قومی خزانے سے کثیر رقم ملازموں کی تنخواہوں رہائش گھروں اور سفری اخراجات کی مد میں خرچ کی جاتی ہے تاکہ وہ لوگوں کو آسانیاں مہیا کریں۔ لیکن لوگوں کی مشکلات ہیں کہ کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہیں۔ کسانوں کو کھاد پر سبسڈی کا لالی پاپ دیا گیا مگر ٹوکن سسٹم کے نام پر یہ ایک فراڈ ثابت ہوا اس کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ کون یہ سسٹم لے کر آیا اس کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے اور یہ سبسڈی کی رقم کہاں غائب ہوئی۔

سیاستدان نہیں دیکھتے کے ان کی انتظامی مشینری کی نا اہلی کی وجہ سے پی ٹی آئی کا پولیٹیکل سرمایہ تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے اپوزیشن دن بدن تگڑی ہو رہی ہے۔ یہی حالات رہے تو اگلے الیکشن میں حکومتی پارٹی کو دن میں تارے دکھائی دیں گے۔ دیہاتوں سے اپنے مسائل لے کر شہر اقتدار آنے والے جب پولیس کی مار کھا کر واپس جائیں گے جب انڈسٹری کے لئے بجلی سستی ہوگی اور اس انڈسٹری کے لئے خون پسینہ بہا کر خام مال پیدا کرنے والے کسان کو بجلی پر ناروا ٹیکس ادا کرنے پڑیں گے تو دیہاتوں میں بھی اپوزیشن کی پوزیشن مضبوط ہو گی۔

صوبائی چیف ایگزیکٹو صاحب کو ان معاملات پر جزا سزا کا کوئی فارمولہ بنانا چاہیے۔ صوبائی محکموں کے سیکریٹریز آئے دن تبدیل ہوتے رہتے ہیں تو پالیسیوں میں تسلسل کہاں سے آئے گا۔ حکومتی مشینری عام آدمی کے کیے کب حرکت میں آئے گی۔ سردیوں کے شروع ہوتے ہی نہ صرف کرونا کے وار تیز ہو چکے ہیں گھروں کو مہیا کی جانے والی گیس مہنگی اور نایاب ہونے کی پیشین گوئی بھی ہے تاہم افسران ان مسائل پر سر جوڑنے کی بجائے اپنے لئے اچھی پوسٹنگ لینے اور اس پر اپنے آپ کو قائم رکھنے کے لئے مروجہ پالیسی پر گامزن ہیں۔

اس دفعہ کاٹن کی پانچ لاکھ بیل پیداوار ہوئی ہے جبکہ ڈیمانڈ پندرہ لاکھ بیلز کی ہے اب دس لاکھ بیلز قیمتی زرمبادلہ خرچ کر کے باہر سے منگوایا جائے گا لیکن ہم اپنے کسان کے پرسان حال بننے کو تیا ر نہیں۔ اس کے لئے سستی بجلی خالص بیج دوائی کے لئے بھی کمر بستہ نہیں۔ پھر مہنگائی کے ایک اور طوفان کے لئے تیار ہو جائیں۔ حکومت جب تک مہنگائی کنٹرول نہیں کرتی اپوزیشن کی تحریک کے لئے یہ ایندھن مہیا کرنے کے مترادف ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •