جاوید احمد غامدی: نصف صدی کی رفاقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پوری نصف صدی قبل کی بات ہے جب 2 نومبر 1970 کو جاوید احمد (غامدی) صاحب نے لنک میکلوڈ روڈ کی ایک عمارت کی دوسری منزل کے ایک کمرے میں دائرۃ الفکر کی باقاعدہ بنیاد رکھی تھی اور میں ان کا اولین ساتھی تھا۔ اس تاریخ کو جاوید صاحب کو اس کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس سے پہلے تقریباً دو ہفتوں تک مختلف احباب اس پر صلاح مشورہ کرتے رہے تھے۔

دائرۃ الفکر کی تاسیس کے بعد جاوید صاحب نے سورہ فاتحہ کی تفسیر اور ابن عربی کی کتاب “شجرۃ الکون” پر لیکچرز کا سلسلہ شروع کیا۔ دو تین ہفتوں کے بعد ملکی انتخابات کی وجہ سے اس میں تعطل آ گیا۔ جنوری 1971 میں ہم کچھ دوست دوبارہ مل بیٹھے۔ اس اثنا میں جاوید صاحب میکلوڈ روڈ والا دفتر چھوڑ چکے تھے۔ چند روز سلطان پورہ میں ان کے گھر میں میٹنگز کرتے رہے۔ انھی دنوں دائرۃ الفکر کا دستور تشکیل دیا گیا۔ چند دنوں بعد جاوید صاحب کے گھر سے دو تین گلیاں چھوڑ کر ایک مکان کا ایک کمرہ کرائے پر لے کر اس میں دفتر قائم کیا گیا۔ میں اور اقبال مرزا دونوں نیو ہوسٹل سے شام کے وقت وہاں جاتے۔ یکم فروری سے سلطان پورہ سے متصل ایک آبادی جناح پارک میں ایک مکان کرائے پر لیا گیا۔ میں ہوسٹل چھوڑ کر وہاں منتقل ہو گیا۔ایک ڈیڑھ ماہ کی تگ و دو کے بعد ہم دونوں کے علاوہ یہ لوگ ہمارے ساتھ شامل ہوئے: سید منظور گیلانی، رفیق طاہر، غالب رضوی، مولانا سعدی۔ یہ سب مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ تھے۔

سید منظور گیلانی پاکپتن کے سکول میں جاوید صاحب کے کلاس فیلو رہے تھے۔ وہ چند ماہ ہمارے ساتھ رہے، بعد میں وکیل بن گئے، سیاست میں کافی نام پیدا کیا اورابھی تک سیاست میں متحرک ہیں۔ تحریک استقلال میں ایر مارشل اصغر خان صاحب کے ساتھی رہے، پھر شاید اپنا دھڑا بھی بنا لیا تھا۔ باقی لوگوں سے پھر کبھی کوئی رابطہ نہیں رہا۔

فروری کے اواخر یا مارچ کے مہینے میں ہم نے ادارے کا ایک تعارفی کتابچہ “الحمرا” کے نام سے شائع کیا۔ جاوید صاحب کی نام بدلنے کی عادت کی وجہ سے سید منظور گیلانی ابن عارف ہو گئے اور میں ساجد جبران ہو گیا۔ کالج میں ایک دو برس اس نام سے لکھتا بھی رہا۔ اس زمانے کے بعض احباب آج بھی مجھے اسی نام سے جانتے ہیں۔

جاوید صاحب نے “مقامات” میں لکھا ہے کہ ہماری ناتجربہ کاری کی وجہ سے “الحمرا” میں طباعت کی بہت غلطیاں رہ گئی تھیں، اس لیے اسے ضائع کرنا پڑا۔ یہ بات درست نہیں، مجھے لگتا ہے کہ جاوید صاحب کے حافظے نے خطا کی ہے۔ کالج کے ہفت روزہ گزٹ کی ادارت کی وجہ سے مجھے پروف ریڈنگ کا کچھ تجربہ ہو چکا تھا۔ گزٹ بھی اسی پریس میں چھپتا تھا جہاں سے ہم نے “الحمرا” چھپوایا تھا۔ میری پریس والوں سے اچھی خاصی دوستی ہو چکی تھی، اس لیے اس میں کسی قسم کے بے احتیاطی کا کوئی مقام نہیں تھا۔ اس کی اشاعت کے بعد ہم نے جناح پارک میں اس کی تقریب اجرا کا بھی انعقاد کیا تھا جس میں بیس پچیس لوگ شریک ہوئے تھے جو زیادہ تر گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج کے طالب علم تھے۔ گورنمنٹ کالج کے میرے دوست وحید رضا بھٹی اور عباس بیگ (ایڈووکیٹ) بھی اس تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ (ہمارے مشترکہ دوست، انیس مفتی، کی عنایت سے مجھے “الحمرا” کی کاپی دستیاب ہو گئی ہے، اس دور کے ساتھیوں کے نام اس کو پڑھ کر ہی یاد آئے ہیں۔)

اس زمانے کی دو باتیں مجھے بطور خاص یاد آ رہی ہیں۔ ان دنوں جس بات پر ہم دونوں میں اختلاف رونما ہوا کرتا تھا وہ دوستی کے تعلق بارے تھا۔ اس وقت جاوید صاحب کا کہنا ہوتا تھا کہ اصل دوست صرف تحریکی ساتھی ہی ہوسکتا ہے جو آپ کا ہر معاملے میں ہم خیال ہوتا ہے۔ میرا نقطہ نظر یہ تھا کہ انسان کا دوستوں کا حلقہ متنوع ہونا چاہیے۔ ہوسٹل میں تقریباً چار برس گزار کر میں مختلف الخیال لوگوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی اہمیت سے آشنا ہو چکا تھا اور اسے ذہنی صحت کے لیے ازحد ضروری سمجھتا تھا۔ ہر وقت ہم خیال لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا برین واشنگ کا ایک آزمودہ طریقہ ہے۔

 مجھے نہیں معلوم ابتدا میں جاوید صاحب میری بات کے کبھی قایل ہوئے یا نہیں لیکن بعد کے برسوں میں ان کا طریق عمل بھی وہی بن گیا جو میرا شروع سے تھا۔ نوے کی دہائی کی بات ہے۔ ایک دن میں ملنے گیا تو دوران گفتگو ایک مذہبی شخصیت کا ذکر آ گیا جس کے کچھ بہت قریبی ساتھی ان دنوں الگ ہو گئے تھے۔ وہ جاوید صاحب سے ملنے بھی آئے اور اپنی ان حرکتوں پر شرمندگی کا اظہار کرتے رہے جو وہ دین کی خدمت سمجھ کر سرانجام دیتے رہے تھے۔ جاوید صاحب نے اس پر بہت بلیغ تبصرہ کیا کہ ان لوگوں کی حالت ایسی نظر آتی ہے جیسے کوئی بندہ چودہ سال کی قید کاٹنے کے بعد جیل سے رہا ہو کر عجیب عجیب نظروں سے باہر کی دنیا کو دیکھ رہا ہو۔

میرا دوسرا اختلاف لفظ مبعوث کے استعمال پر ہوتا تھا۔ جاوید صاحب اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی کی تحریروں کے زیر اثر اس بات کے قائل تھے کہ وہ لوگ جو اصلاح امت کی دعوت لے کر کھڑے ہوتے ہیں وہ اسی مشن کی انجام دہی کے لیے پیدا کیے گئے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ کہا کرتے تھے کہ فلاں صاحب اس کام کے لیے مبعوث کیے گئے۔ میرا کہنا ہوتا تھا کہ یہ لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کے کچھ مذہبی تلازمات ہیں جن کی وجہ سے غلط فہمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے کوئی شخص اگر سمجھتا ہے کہ اسے اصلاح امت کا کام کرنا ہے تو اسے یہ دعویٰ کرنے کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس کام کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے، جس کے عذاب و ثواب کی ذمہ داری اسی پر عاید ہوتی ہے۔

جناح پارک میں قیام کے زمانہ میں جاوید صاحب اکثر کسی نہ کسی تعلیمی ادارے میں جاکر طالب علموں سے گفتگو کرتے اور ان تک اپنا پیغام پہنچانے کی سعی کرتے۔ کوئی طالب علم متاثر ہو کر ساتھ دینے کی ہامی بھرتا، چند دن آتا، پھر ساتھ چھوڑ جاتا۔ بعد میں جن لوگوں نے طویل عرصہ تک ساتھ دیا ان میں زیادہ تر میرے کالج کے دوست تھے۔ ابتدائی دور کے ساتھیوں میں دو کے علاوہ ہم سبھی راوین تھے۔ الیاس، اقبال مرزا میرے کلاس فیلو اور شیخ افضال احمد ایک سال جونیر تھے اور ہم سب ہوسٹل فیلو بھی تھے۔ مستنصر میر صاحب اگرچہ ہم سے سینئر تھے لیکن وہ بھی اولڈ راوین تھے۔ ڈاکٹر منصور الحمید بھی کلاس فیلو تھے۔ ایف ایس سی انھوں نے گورنمنٹ کالج سے کی تھی۔ صرف رفیق چودھری اور ملک اشرف بلا کسی پیشگی تعلق اور تعارف کے ادارے میں شامل ہوئے تھے۔

جون یا جولائی 1971 میں جب ہم ماڈل ٹاون منتقل ہوئے تو جناح پارک کے ساتھیوں میں صرف مولانا سعدی دو تین ماہ تک ہمارے ساتھ رہے تھے۔ ماڈل ٹاون منتقل ہونے کے بعد ہمیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کا ذکر میں پہلے شائع ہونے والی دو قسطوں میں کر چکا ہوں۔ (جاوید احمد غامدی: یاد یار مہرباں۔ ہم سب، 25 اور31 اکتوبر 2017 )

ایک دن جاوید صاحب باہر سے آئے تو بہت پرجوش تھے۔ بتانے لگے کہ آج گڑھی شاہو کے کچھ بہت اچھے لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے۔ (اس کی تفصیل جاوید صاحب کی کتاب “مقامات” میں موجود ہے۔) ان لوگوں نے اتوار کو مدعو کیا ہے درس قرآن کے لیے اور اپنا پروگرام بتانے کے لیے۔ اتوار کے روز جب ماڈل ٹاون سے گڑھی شاہو کے لیے روانہ ہونے لگے تو جیب میں بس کے یک طرفہ کرائے کے پیسے تھے۔ میں نے الحمرا کی کچھ کاپیاں اس امید پر پکڑ لیں کہ اگر کچھ لوگوں نے دو تین کاپیاں خرید لیں تو واپسی کا کرایہ بن جائے گا، بصورت دیگر وہاں سے پیدل واپس آنا پڑتا۔ لیکن پروگرام ختم ہونے پر چودھری رشید صاحب، جو واپڈا میں افسر تھے، نے اپنی کار میں ہمیں واپس ماڈل ٹاون چھوڑ دیا۔

انھی دنوں گلبرگ کے بی بلاک کی ایک چھوٹی سی مسجد میں بھی درس قرآن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اتوار کی صبح پہلے گڑھی شاہو میں درس ہوتا اس کے بعد چودھری رشید صاحب ہمیں گلبرگ کی مسجد چھوڑ دیتے۔ اس مسجد کے امام مولوی شاہ محمد انیس صاحب تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے اچھرہ میں قائم نیا مدرسہ میں عربی کے استاد بھی تھے۔ دیسی لہجے میں قرآن حکیم کی اتنی عمدہ تلاوت میں نے کسی اور شخص کو کرتے نہیں سنا۔ وہ گلبرگ کی ایف سی کالج گراونڈ میں نماز عید بھی پڑھایا کرتے تھے۔ انھوں نے عید کی نماز پر بھی جاوید صاحب کو خطبہ دینے کے لیے مدعو کرنا شروع کر دیا۔ شاید دو عیدوں کا خطبہ جاوید صاحب نے دیا لیکن پھر جماعت اسلامی کے لوگوں کو اعتراض ہوا جس کی بنا پر اگلی عید پر مولوی صاحب نے جاوید صاحب کو دعوت نہ دی۔ جن صاحب کی جاوید صاحب کو لانے کی ڈیوٹی لگی ہوئی تھی ان کو پتہ نہیں تھا۔ چنانچہ وہ جاوید صاحب کو لے کر عید گاہ پہنچ گئے۔ اب وہاں عجیب صورت حال پیدا ہو گئی۔ مولوی شاہ محمد انیس صاحب جاوید صاحب کی تقریر کروانا نہیں چاہتے تھے لیکن ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب نے کہا جاوید صاحب آ چکے ہیں تو آپ ان کو تقریر کرنے کے لیے کیوں نہیں کہہ رہے۔ اس پر بادل نخواستہ مولانا انیس صاحب کو جاوید صاحب کو تقریر کی دعوت دینا پڑی لیکن وہ جاوید صاحب کی وہاں آخری تقریر تھی۔ البتہ مسجد میں درس جاری رہا۔

دسمبر 1971 میں پاکستان اور ہندوستان کے مابین باقاعدہ جنگ چھڑ گئی۔ جنگ کے زمانے میں ہم دونوں ہی رہ گئے تھے۔ رات کے وقت بلیک آؤٹ ہوتا تھا۔ بھارت کے جہاز روزانہ کی بنیاد پر لاہور پر حملہ کرنے آتے تھے۔ پاکستان کے جہاز کہیں دکھائی نہیں دیتے تھے۔ بس راوی پل پر اینٹی ائر کرافٹ توپیں چلتی تھیں۔ پندرہ دسمبر کو مجھے گاوں جانا پڑا اور سولہ دسمبر کو سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ پیش آ گیا۔ چند دنوں بعد جب میں واپس آیا تو جاوید صاحب نے اس سانحہ پر ایک طویل نظم ‘لالہ’ لکھی ہوئی تھی۔ کوئی ستر اشعار کی نظم تھی۔ اس نظم میں پوری اسلامی تاریخ کے بڑے بڑے سانحات کو بیان کیا گیا تھا۔ اس وقت مجھے وہ نظم زبانی یاد ہوتی تھی۔ بعد ازاں سن 1973 میں جب ہم نے “اشراق” شائع کیا تو اس میں بھی یہ نظم شائع کی گئی تھی۔ (جاوید صاحب کے مجموعہ کلام، خیال و خامہ، میں بھی ایک نظم اس عنوان سے ہے، لیکن یہ نظم اور ہے۔) انھی دنوں کچھ عرصہ کے لیے جاوید صاحب نے شاعری میں حضرت احسان دانش کی شاگردی بھی اختیار کی تھی۔

 سن 1972 کا آغاز ہوا تو میں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے فلسفہ میں داخلہ لیا۔ جاوید صاحب کا داخلہ ایم اے انگریزی میں ہوا تھا لیکن انھوں نے تعلیم جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انھی دنوں کالج میں تعمیر ہونے والی مسجد کی تکمیل ہو گئی اور وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی کا اہتمام ہوا۔ استاد محترم پروفیسر صوفی ضیاء الحق صاحب نے جمعہ کا خطبہ شروع کیا۔ صوفی صاحب شعبہ عربی کے صدر رہے تھے اور عربی زبان کے بہت جید عالم تھے۔ اس سے پہلے وہ نیو ہوسٹل کی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیا کرتے تھے۔ خیر چند مہینوں بعد ایک واقعہ کی بنا پر صوفی صاحب سے معذرت کر لی گئی۔ یہ واقعہ کافی دلچسپ ہے لیکن کسی اور وقت لکھوں گا۔ اب میں نے کوشش کرکے جاوید صاحب کا خطبہ شروع کرا دیا۔ نماز جمعہ کے بعد مسجد کے ہال سے متصل ایک کمرے میں جاوید صاحب کے ساتھ ایک نشست بھی ہوتی تھی جس میں کوئی پندرہ بیس کے قریب طالب علم شریک ہوتے تھے۔ شاید تیسرا یا چوتھا جمعہ ہو گا کہ معمول کے مطابق اس کمرے میں ہم لوگ جمع ہوئے۔ اسلامیات کے استاد پروفیسر امتیاز احمد سعید صاحب بھی تشریف لے آئے۔ دوران گفتگو انھوں نے جاوید صاحب کو مخاطب کرکے کسی بزرگ کا ایک واقعہ سنایا جنھوں نے اپنے استاد کی زندگی میں کبھی مسند ارشاد پر بیٹھنا گوارا نہیں کیا تھا۔ پیغام بہت واضح تھا۔ چنانچہ جاوید صاحب نے آئندہ کے لیے خطبہ جمعہ سے معذرت کر لی۔

سن 1973 کے اوائل میں جاوید صاحب نے ایک رسالہ شائع کرنے کا پروگرام بنایا۔ وہ اشراق کے نام پر غور کر رہے تھے کہ ہمارے رفیق کار رفیق چودھری صاحب نے یہ نام سنتے ہی قرآن کی یہ آیت پڑھ دی: و اشرقت الارض بنور ربھا۔ لیجیے اس طرح “اشراق” کا نام فائنل ہو گیا۔ مارچ کے مہینے میں رسالہ شائع ہو گیا۔ اس کے ساتھ وابستہ دو واقعات مجھے آج بھی یاد ہیں۔

اپنی طرف سے ہم نے رسالے کی اشاعت پر بہت محنت کی تھی۔ گورنمنٹ کالج گزٹ کی ادارت سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنا پر میں خود کو ماہر پروف ریڈر بھی خیال کرتا تھا۔ چنانچہ اسی اعتماد کی بنا پر میں نے یہ جسارت کی کہ وہ رسالہ استاد محترم محترم پروفیسر سعید شیخ صاحب، جو اس وقت صدر شعبہ فلسفہ تھے، کی خدمت میں پیش کر دیا۔ استاد محترم بہت باکمال ایڈیٹر تھے۔ ان کا سب سے شاندار کارنامہ علامہ اقبال کے لیکچرز کا تحقیقی ایڈیشن مرتب کرنا ہے۔ وہ بزم اقبال کے مجلہ “اقبال” کے کئی برس تک مدیر رہے تھے۔ اس کے علاوہ پروفیسر ایم ایم شریف کی مرتب کردہ “مسلم فلاسفی” کی پروف ریڈنگ کے علاوہ ادارتی کام بھی زیادہ تر شیخ صاحب نے کیا تھا۔

 ایک دو دن بعد شیخ صاحب نے مجھے طلب کیا اور رسالہ میرے سامنے رکھ دیا۔ اس کا ہر صفحہ سرخ سیاہی سے اس قدر رنگین تھا کہ عید قرباں والے دن کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس میں املا کی، پروف کی، اوقاف کی اتنی غلطیاں نکالی ہوئی تھیں کہ میں فی الواقع رونے والا ہو گیا تھا۔

ان دنوں مشہور اہل حدیث عالم دین اور رسالہ “محدث” کے مدیر حافظ عبد الرحمان مدنی صاحب بھی ہمارے ادارے کے رکن تھے۔ حافظ صاحب سے میری مختلف موضوعات پر کافی بحث ہوا کرتی تھی۔ حافظ صاحب کو لفظ اشراق پر تحفظات تھے۔ ان کو شبہ تھا کہ کہیں ہم لوگ اشراقی فلسفہ کے احیا کی کوشش تو نہیں کر رہے۔ اس رسالے میں جاوید صاحب کی جو تحریر شائع ہوئی اس کے افتتاحی جملے میں ذات بحت کی ترکیب استعمال ہوئی تھی۔ اس پر حافظ صاحب کا شبہ مزید قوی ہو گیا۔ میں ان سے ملنے گیا تو انھوں نے اس اصطلاح کے استعمال پر سخت نکتہ چینی کی اور مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ اشراقیہ کا موقف ہے جو سراسر غلط ہے۔

جاوید صاحب کے علم و خطابت کی شہرت پھیلتی جا رہی تھی۔ چنانچہ کہیں تقریر کرنے، کہیں درس قرآن دینے کی دعوت ملتی رہتی تھی، لیکن مسئلہ وہی وسائل کی عدم دستیابی کا تھا۔ شاید اس میں ہماری عمروں کا بھی دخل تھا۔ اکیس بائیس برس کے نوجوان طالب علموں پر کون اتنا اعتبار کرتا کہ مالی وسائل ان کی نذر کر دیتا۔ چنانچہ اپریل 1973 میں ہمارے لیے ماڈل ٹاؤن میں قیام جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔ جاوید صاحب الیاس کے گاوں چلے گئے اور میں کالج کے ہوسٹل میں چلا گیا۔ یہاں سے میں کچھ فاسٹ فارورڈ کروں گا کیونکہ 73 سے لے کر جنوری 1977 میں مرید کے منتقل ہونے تک کے حالات گزشتہ دو اقساط میں تحریر کر چکا ہوں۔

مرید کے میں قیام کے سوا سال بعد اپریل کے مہینے میں ہمارا وہ گروپ منتشر ہو گیا، اس کی روداد جاوید صاحب “مقامات” میں تحریر کر چکے ہیں، اس لیے میں اس کا اعادہ نہیں کروں گا۔

 سن 1978 کے اواخر میں جاوید صاحب بھی مرید کے سے ماڈل ٹاؤن کے ڈی بلاک میں منتقل ہو گئے۔ ایک روز میں اور الیاس ملنے گئے۔ اس وقت میں نے جاوید صاحب سے کافی طویل بات کی۔ زیادہ تر میں ہی بولتا رہا اور وہ خاموشی سے سنتے رہے۔ جب ملاقات کے بعد باہر نکلے تو الیاس نے مجھے کہا تم نے زیادتی کی ہے، تمھیں یہ سب اس طرح نہیں کہنا چاہیے تھا۔ میرا جواب تھا کہ اتنے برسوں کے تجربات کے بعد میں نے جو نتائج اخذ کیے ہیں انھیں جاوید صاحب کے گوش گزار کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ میرا اصرار یہی تھا کہ کسی قسم کی تنظیم بنانا یا اس کی قیادت کرنا آپ کے بس کا کام نہیں۔ آپ صرف علمی کام پر اپنی توجہ مبذول کریں۔ مجھے یاد ہے کہ مولانا اصلاحی صاحب بھی ان سے یہی کہا کرتے تھے کہ اگر علمی کام کرنا ہے تو لیڈری کا خناس دماغ سے نکال دو۔ اب میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میری باتوں کا کچھ اثر ہوا تھا لیکن رفتہ رفتہ جاوید صاحب مولانا کی بات کے قائل ہوتے چلے گئے۔

اس کے بعد 1979 میں ہمارے رفیق مستنصر میر صاحب نے “اشراق” کے نام سے رسالے کا ڈیکلریشن حاصل کیا۔ یہ رسالہ دو ماہی اور دو لسانی تھا۔ اس کے کل تین شمارے شائع ہوئے، دو انگریزی میں اور ایک اردو میں۔ چوتھا شمارہ اردو میں شائع ہونا تھا۔ جاوید صاحب نے اس کا جو اداریہ لکھا وہ سیاسی نوعیت کا تھا۔ میر صاحب رسالے کو سیاست سے الگ رکھنا چاہتے تھے۔ میں بھی میر صاحب کا حامی تھا۔ اس اختلاف کی وجہ سے رسالہ شائع نہ ہو سکا۔ اس کے کچھ ہفتوں بعد میر صاحب امریکہ چلے گئے۔ جاوید صاحب کے بعض معترضین اس رسالے کے وجود پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اتفاق سے اس کا شمارہ نمبر تین میرے پاس موجود ہے۔

امریکہ جانے سے پہلے مستنصر میر صاحب سول سروسز اکیڈمی میں اسلامیات پڑھاتے تھے۔ وہ جاتے ہوئے جاوید صاحب کا نام دے گئے۔ اس طرح آئندہ کئی برسوں تک جاوید صاحب وہاں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے اور ان کے کچھ باقاعدہ روزگار کا بھی بندوبست ہو گیا۔

ماڈل ٹاون سے جاوید صاحب ایک بار پھر سلطان پورہ میں اپنے پرانے مکان میں شفٹ ہو گئے تھے۔ اس زمانے میں ہمارے بزرگ دوست ڈاکٹر فرخ ملک صاحب کی مالی معاونت سے ہم نے نومبر 1981 میں دو ماہی سلسلہ منشورات “الاعلام” کا آغاز کیا۔ اس کے کل نو شمارے شائع ہوئے اور یہ اگست 1983 تک جاری رہا۔ اس کے بعد جاوید صاحب کا حسب معمول ملک صاحب سے کچھ اختلاف ہو گیا، اور انھوں نے رسالے کی ادارت سے سے معذرت کر لی۔ ملک صاحب نے ابوشعیب صفدر علی صاحب اور مجھے کہا کہ ہم دونوں رسالے کی اشاعت جاری رکھیں لیکن ہم نے انکار کر دیا۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم دونوں کو رسالہ بند ہونے کا بہت ملال تھا۔ “الاعلام” میں میری بھی تین تحریریں شائع ہوئی تھیں، جن کا کافی چرچا بھی ہوا تھا اس زمانے میں۔ (اب وہ تحریریں بھی ہم سب پر شائع ہو چکی ہیں۔)

ایک روز صفدر صاحب اور میں رسالے کی بندش اور جاوید صاحب کی ناراضگی پر گفتگو کر رہے تھے کہ میں نے انھیں صابر ظفر کا یہ شعر سنایا:

ہمارا عشق ظفر رہ گیا دھرے کا دھرا

کرائے دار اچانک مکان چھوڑ گئے

صفدر صاحب کو یہ شعر بہت پسند آیا اور جاوید صاحب سے ملاقات ہونے پر انھیں یہ شعر سنا دیا۔ جاوید صاحب نے حیران ہو کر صفدر صاحب کو کہا یہ شعر آپ کے مزاج کا تو نہیں ہے، یہ ضرور ساجد صاحب نے آپ کو سنایا ہو گا۔

انھی دنوں کی ایک بات یاد آ رہی ہے۔ رسالے کے معاملات طے کرنے کے لیے چودھری صفدر صاحب اور میں اکثر سلطان پورہ جاتے تھے۔ ایک روز کام سے فراغت کے بعد جاوید صاحب نے صفدر صاحب کے ساتھ عربی نحو کے کسی عمیق اور دقیق مسئلے پر گفتگو شروع کر دی جو میرے علم اور فہم سے بہت بالا تھی۔ میں کافی دیر تک دونوں اصحاب کے مابین ہونے والی گفتگو سنتا رہا، پھر میں نے دخل اندازی کرتے ہوئے کہا، جاوید صاحب یہ بتائیے اس بحث کی زد قرآن کی کس آیت پر پڑتی ہے۔ میری یہ بات سن کر صفدر صاحب نے زوردار قہقہہ لگایا اور جاوید صاحب نے کسی قدر خفیف ہو کر کہا، آپ کو ہر وقت کوئی الٹی بات کیوں سوجھتی رہتی ہے۔ میں نے کہا، میں یہ مان ہی نہیں سکتا کہ یہ ساری بحث خالی از علت ہے۔

اس کے بعد گارڈن ٹاؤن اور ماڈل ٹاون میں ان کے قیام کے دوران میں میل ملاقات اور ان سے تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رہا۔ جب جاوید صاحب 51 ای ماڈل ٹاون میں مقیم تھے، اس وقت ان سے ملاقات زیادہ تواتر سے ہوتی رہی کیونکہ اسی سٹریٹ میں چند مکان چھوڑ کر میرے والدین اور بھائیوں کا گھر تھا۔ اسی زمانے کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں، جس پر جاوید صاحب کچھ خفا بھی ہوئے تھے۔

پرانے ساتھیوں اور دوستوں کا جاوید صاحب سے اگرچہ اب کوئی تنظیمی تعلق تو باقی نہیں رہا تھا لیکن خلوص و محبت کا رشتہ قائم تھا۔ سبھی میں ایک ان کہا سا اتفاق ہو گیا تھا کہ جاوید صاحب کو کسی قسم کی تنظیم سازی سے باز رکھنا ہے۔

نوے کی دہائی میں ایک روز مجھے ڈاکٹر فرخ ملک صاحب کا فون آیا کہ میں مغرب کے وقت ریلوے سٹیشن کے پاس ایک مسجد میں پہنچ جاوں۔ میں وہاں گیا تو ملک صاحب کے علاوہ الیاس اور ایک دو اور پرانے ساتھی بھی موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ اس مسجد کے مولوی صاحب کے ساتھ مل کر جاوید صاحب کوئی تنظیم بنانا چاہ رہے ہیں۔ جاوید صاحب بھی ہمیں وہاں دیکھ کر حیران و پریشان ہوئے کیونکہ ہمیں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ ہم لوگوں نے وہاں کچھ شورشرابہ بھی کیا جو جاوید صاحب کو سخت ناگوار گزرا۔ خیر اس کے بعد انصار المسلمین نام کی ایک تنظیم معرض وجود میں آ گئی۔ ایک روز چودھری صفدر صاحب ملاقات کی غرض سے جاوید صاحب کے پاس گئے تو ان کو تنظیم میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ چودھری صاحب نے جواب دیا، مجھے پاولیان المسلمین میں شامل ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ جواب سن کر جاوید صاحب چونکے، پھر چودھری صاحب سے کہا، یہ آپ کی بات نہیں ہو سکتی، یہ ضرور ساجد صاحب کی شرارت ہے، انھیں اس طرح کی سوجھتی رہتی ہیں۔ بہر حال کچھ عرصے بعد وہ تنظیم بھی اپنے انجام کو پہنچی۔ انھی دنوں جاوید صاحب کا ایک اور مولوی صاحب سے دوستانہ ہو گیا۔ اس نے بھی جاوید صاحب کو خوب چکر دیے، اچھا خاصا مالی نقصان بھی پہنچایا۔

اس نصف صدی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے یہ بات لائق ستائش نظر آتی ہے کہ جاوید صاحب نے تمام تر مشکلات کے باوجود استقامت اور یکسوئی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا ہے۔ ان کی یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ انھیں محنتی اور باصلاحیت شاگردوں کا ایک حلقہ بھی میسر آ گیا ہے۔ مزاج کی حدت اور شدت سے تحمل، حلم، بردباری اور رواداری کی طرف ان کی شخصیت کا جس طرح ارتقا ہوا، میں اس تمام سفر کا ایک عینی شاہد ہوں۔ اس طویل سفر کی حکایت کو فی الحال اس بات پر ختم کرتا ہوں کہ ہمارے مابین فکری بعد کے باوصف خلوص، محبت اور باہمی احترام کا رشتہ قائم رہا ہے اور مجھے یقین ہے آئندہ بھی قائم رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •