صدارتی انتخاب میں ووٹنگ فراڈ یا سسٹم کی خرابی کے کوئی شواہد نہیں ملے: امریکی حکام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

امریکہ کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ صدارتی انتخابات 2020 میں ووٹنگ سسٹم میں خرابی یا بیلٹس کو چھپائے جانے سے متعلق الیکشن سیکیورٹی حکام کو کوئی شواہد نہیں ملے۔

سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کامیاب قرار پائے ہیں جب کہ انتخابات میں دھاندلی، ووٹ غائب ہونے یا تبدیل ہونے سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق انتخابات کے دو منتظم گروپس الیکشن انفرااسٹرکچر گورنمنٹ کوآرڈینیٹنگ کونسل ایگزیکٹو کمیٹی (جی سی سی) اور الیکشن انفرااسٹرکچر سیکٹر کورآرڈینیٹر کونسل (ایس سی سی) کا کہنا ہے کہ رواں برس ہونے والے صدارتی انتخابات امریکہ کی تاریخ کے محفوظ ترین انتخابات تھے۔

یاد رہے کہ ری پبلکن صدارتی امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ شواہد فراہم کیے بغیر مسلسل انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کر رہے ہیں اور انہوں نے اب تک شکست تسلیم نہیں کی ہے۔

الیکشن ابھی ختم نہیں ہوا، فتح حق دار کو ہی ملنی چاہیے: صدر ٹرمپ

دوسری جانب جو بائیڈن نے آئندہ صدارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور کئی عالمی رہنماؤں نے اُنہیں امریکہ کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد بھی دی ہے۔

امریکہ کے محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سائبر سیکیورٹی اینڈ انفرااسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخابات سے متعلق بہت سے دعوے اور گمراہ کن معلومات موجود ہیں تاہم انتخابات کی خودمختاری اور اس کے درست ہونے سے متعلق ہم مطمئن ہیں۔

سی آئی ایس اے کے سربراہ کرسٹوفر کربس امریکہ کے مایہ ناز سائبر سیکیورٹی افسر ہیں اور وہ صدارتی انتخابات سے متعلق گمراہ کن معلومات کی بیخ کنی کے لیے ایک ویب سائٹ بھی چلا رہے ہیں۔

انتخابات سے متعلق سیکیورٹی گروپس کا کہنا ہے جن ریاستوں میں کانٹے کا مقابلہ ہوا ہے اُن تمام ریاستوں کے پاس پیپر ریکارڈ موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر ووٹوں کی گنتی کی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے کئی ریاستوں میں انتخابی نتائج کو چیلنج کر رکھا ہے جب کہ اٹارنی جنرل ولیم بار نے وفاقی پراسیکیوٹرز کو اختیار دیا ہے کہ وہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کر سکتے ہیں۔

الیکشن میں غیر ملکی مداخلت کے شواہد نہیں ملے: امریکی حکام

یاد رہے کہ امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج اب تک تمام ریاستوں سے موصول نہیں ہوئے ہیں۔ امریکہ کی 50 میں سے 47 ریاستوں کے نتائج آ چکے ہیں اور ریاست ایریزونا، نارتھ کیرولائنا اور جارجیا سے نتائج تاحال آنا باقی ہیں۔

غیرحتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق جو بائیڈن 279 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے امریکہ کے 46ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں جب کہ صدر ٹرمپ نے 217 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں۔

امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں برس ہونے والے امریکی انتخابات اس لیے بھی اہم تھے کہ کرونا وبا کے باعث لگ بھگ 10 کروڑ ووٹرز نے تین نومبر سے قبل ہی ارلی ووٹنگ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کر لیا تھا۔

انتخابی مہم کے دوران جوبائیڈن اپنے حامیوں کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے پر زور دے رہے تھے جب کہ صدر ٹرمپ اپنے حامیوں کو الیکشن کے روز ووٹ ڈالنے کی تلقین کر رہے تھے۔ تاہم انہوں نے متعدد بار ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 453 posts and counting.See all posts by voa