جمہوری تحریک کی اخلاقی بنیاد پر مریم نواز کا حملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریکارڈ درست رکھنا ضروری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو واضح کرنا پڑے گا کہ وہ سیاست میں مداخلت کے سوال پر فوج کے ساتھ لڑنا چاہتی ہے یا اس کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دوبارہ اقتدار تک پہنچنا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور ممکنہ طور پر مستقبل میں پارٹی قیادت کی مضبوط امید وار مریم نواز کے بی بی سی اردو کو انٹرویو نے اس بنیاد کو ہلا دیا ہے جس پر ’ووٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ استوار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گزشتہ برس کے آخر میں نواز شریف کے کوٹ لکھپت جیل سے لندن جانے کے بعد سے مریم نواز اور ان کے والد کی طرف سے سیاسی معاملات پر پراسرار خاموشی اختیار کی گئی تھی۔ پھر ستمبر میں آل پارٹیز کانفرنس کے اجلاس میں براہ راست ویڈیو لنک پر نواز شریف کی ’بے باک‘ گفتگو نے اس خاموشی کو توڑا اور واضح کیا کہ کم از کم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کسی ایسے سیاسی معاہدہ پر آمادہ نہیں ہیں جس میں فوج کو وسیلہ بنایا جائے۔ اس مؤقف کے مطابق مسلم لیگ (ن) موجودہ حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے دراصل اس انتظام کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتی ہے جس کے تحت ’حکومت کے اوپر حکومت‘ کا طریقہ متعارف کیا گیا ہے اور نواز شریف کے الفاظ میں ’پہلے سے یہ طے کرلیا جاتا ہے کہ کسے اقتدار سونپنا ہے اور کون وزیر اعظم بنایا جائے گا‘۔

گزشتہ ماہ کے وسط میں گوجرانوالہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے تمام حجابات سے پردہ اٹھا دیا اور جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لے کر انہیں اپنی حکومت کے خلاف سازش کرنے اور عمران خان کو اقتدار تک پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ اسی لئے نواز شریف کہتے ہیں کہ ان کی لڑائی عمران خان سے نہیں ہے بلکہ ان عناصر اور لوگوں سے ہے جو انہیں اقتدار میں لانے کا سبب بنے ہیں۔ اس مؤقف کو عام طور سے نواز شریف کا ملک میں جمہوریت کے احترام اور آئینی بالادستی کے لئے اختیار کیا گیا بیانیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اسے عام لفظوں یا سلوگن کے طور پر ’ووٹ کو عزت دو‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا سادہ سا مفہوم یہی ہے کہ ملک کا آئین عوام کو ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے چننے کا اختیار دیتا ہے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی اسمبلیوں کو کسی خوف و تحریص کے بغیر قائد ایوان یا وزیر اعظم/ وزرائے اعلیٰ چننے کا اختیار حاصل ہونا چاہئے جو مسلوب کیا گیا ہے۔

 تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کا بنیادی اور شاید واحد نکتہ ہی یہ ہے کہ موجودہ حکومتی انتظام میں اس اصول سے رو گردانی کی گئی ہے۔ یہ تحریک انتخابی دھاندلی سے زیادہ ایک مخصوص پارٹی کو مسلط کرنے کا سنگین مقدمہ پیش کرتی ہے۔ نواز شریف اس مقدمہ کے سب سے سرگرم اور طاقت ور مدعی ہیں۔ اس کے مطابق 2018 کے انتخابات میں صرف روایتی دھاندلی نہیں کی گئی تھی بلکہ ایک خاص منصوبہ اور پروگرام کے تحت عمران خان کو وزیر اعظم بنانے اور تحریک انصاف کو اقتدار دلانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اسی لئے کبھی عمران خان کو نامزد وزیر اعظم کہا جاتا ہے اور کبھی یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہمارا اصل مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ انہیں لانے والوں سے ہے۔ نواز شریف گوجرانوالہ جلسہ میں ان لوگوں کے نام بھی لے چکے ہیں جو ان کے خیال میں مسلم لیگ کو ہرانے اور تحریک انصاف کو اقتدار تک پہنچانے کا سبب بنے تھے۔ ان میں ایک اس وقت پاک فوج کے سربراہ ہیں اور دوسرے آئی ایس آئی کی قیادت کر رہے ہیں۔

فوج کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز دو افراد کے نام لینے کے حوالے سے ملک کے سیاسی ماحول میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس طرز گفتگو کی حمایت کررہے ہیں اور کچھ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے کسی حد تک اس طریقہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی ہے، پیپلز پارٹی اس پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی اس طرز سیاست کے بارے میں اختلافات کی آوازیں سامنے آئی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القادر بلوچ اور نواب ثنااللہ زہری نے اسی عذر پر پارٹی سے دست بردار ہونے اور نواز شریف کی قیادت سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

یہ بات بھی نوٹ کی جانی چاہئے کہ سیاسی انجیئنرنگ کے معاملہ میں فوجی لیڈروں کے نام لینے کے سوال پر مسلم لیگ (ن) میں یا دیگر سیاسی حلقوں میں کوئی رائے بھی موجود ہو لیکن پاکستان میں موجود کسی سیاسی لیڈر نے نواز شریف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آرمی و آئی ایس آئی چیف کا نام لے کر سیاسی مداخلت کا الزام لگانا ضروری نہیں سمجھا۔ پی ڈی ایم کے موجودہ سربراہ اور جمیعت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے اس حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’سب جانتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ سے کیا مراد ہے۔ اس لئے نام لینا کوئی جرم نہیں ہے۔ آخر مختلف معاملات میں سیاست دانوں کے نام بھی تو لئے جاتے ہیں‘۔ یا پھر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ڈان ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں یہ وضاحت کی ہے کہ ’اے پی سی میں کسی شخص کا نام لینے کا فیصلہ تو نہیں کیا گیا تھا لیکن کسی کا نام لینے پر پابندی بھی نہیں لگائی تھی‘۔ اس بیان کے ذریعے بلاول بھٹو زرداری نے بی بی سی کو گزشتہ ہفتہ کے دوران دیے گئے انٹرویو سے پیدا ہونے والا ابہام دور کرنے کی کوشش کی تھی۔ یعنی نواز شریف کی طرف سے سرونگ جنرلز کے نام لینے پر ملکی سیاسی قیادت کا مؤقف یہ ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں تو ایسا کرسکتے ہیں لیکن ہر پارٹی اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پی ڈی ایم البتہ سیاست میں کسی غیر آئینی مداخلت کی مخالفت کے اصول پر قائم کی گئی ہے۔

کراچی واقعہ پر آئی ایس پی آر کے بیان اور اس پر سامنے آنے والے ردعمل سے بھی دو باتیں واضح ہوئی ہیں۔ اول: ملکی سیاسی ماحول میں نواز شریف کے دو ٹوک اور کسی حد تک جارحانہ مؤقف کی تائید تو موجود ہے لیکن کوئی بھی لیڈر خود اسی لب و لہجہ میں بات کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ دوئم: کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسہ کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری اور اس حوالے سے سندھ پولیس کے سربراہ پر دباؤ کے بارے میں فوج کی کورٹ آف انکوائری کے فیصلہ کو نواز شریف نے مسترد کیا ہے اور اسے ’بڑوں کو بچانے کے لئے چھوٹے افسروں کو نشانہ بنانے‘ کا طریقہ قرار دیا ہے لیکن پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم فوج کے اس اقدام سے مطمئن ہیں اور اداروں کے وقار کے لئے اسے ایک اہم اقدام سمجھتی ہیں۔ یہ بات فراموش نہیں ہونی چاہئے کہ اس معاملہ میں مسلم لیگ (ن) کی بجائے پیپلز پارٹی شکایت کنندہ تھی، اسی کی سیاسی ساکھ داؤ پر لگی تھی اور اسی کی حکومت کے تحت کام کرنے والے انسپکٹر جنرل پولیس کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔ لیکن پیپلز پارٹی فوج کی طرف سے غیر واضح ’اعتراف‘ کو بھی کافی سمجھتی ہے ۔ البتہ نواز شریف نے اسے مسترد کیا ہے۔

کراچی انکوائری پر نواز شریف کا ٹوئٹ دراصل اسی سیاسی حکمت عملی کا تسلسل ہے جو انہوں نے ستمبر کے آخر میں آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختیار کیا تھا۔ یہ مؤقف جمہوری اقدار کی سربلندی اور آئینی بالادستی کا اصول منوانے کے لئے ’سر پر کفن باندھنے‘ کا اعلان ہے ۔ اس لئے سیاسی رائے سے قطع نظر پاکستان کے تمام جمہوریت و قانون پسند عناصر نے اس مؤقف کی حمایت کی ہے۔ گو کہ ملک میں یہ رائے بھی سامنے لائی گئی ہے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا سیاسی ماضی داغدار ہے۔ انہوں نے جنرل ضیا کی آمریت کے دوران سیاست میں قدم رکھا اور ان کی انگلی پکڑ کر سیاسی مخالفین کو ختم کرتے ہوئے خود ایک پارٹی کے لیڈر بن کر اقتدار کے مراحل طے کرنے میں کامیاب رہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد اختیارات کی تقسیم کے سوال پر ان کا فوج سے اختلاف سامنے آتا رہا ہے جس کے نتیجے میں 1999 میں پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی حکومت بھی قائم کی تھی اور شریف خاندان کو طویل جلاوطنی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

اس کے باوجود 2008 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف اور میمو گیٹ اسکنڈل میں نواز شریف ’مقتدرہ ‘ کا ہی آلہ کار بنے تھے۔ اسی طرح جون 2015 میں آصف علی زرداری نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے خلاف تند و تیز تقریر کی تھی تو بھی وزیر اعظم کے طور پر نواز شریف نے فوجی سربراہ کا ہی ساتھ دیا تھا۔ اگرچہ اب مریم نواز یہ الزام عائد کررہی ہیں کہ راحیل شریف نے اپنے عہدہ میں توسیع نہ ملنے پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف ڈان لیکس کا قضیہ شروع کیا تھا۔

اس پس منظر کے باوجود ملک کے تمام جمہوریت پسند عناصر ملک میں عوامی بالادستی کے لئے نواز شریف کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے بیانیہ کو ان کے ماضی سے متصادم قرار دے کر مسترد نہیں کرتے۔ بلکہ یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ غلطیاں کرنے کے باوجود ایک اہم سیاسی لیڈر اگر درست سیاسی مؤقف کے لئے جد و جہد کرتا ہے تو اس کی غیر مشروط حمایت ہونی چاہئے۔ ایسے میں مریم نواز نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے فوج سے مذاکرات کا عندیہ دیا ہے لیکن تحریک انصاف کو سیاسی اکائی ماننے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج سے مذاکرات ہو سکتے ہیں کیوں کہ یہ ’میری فوج‘ ہے لیکن شرط ہے کہ پہلے عمران خان کی حکومت ختم کی جائے۔ حیرت ہے کہ اس مؤقف کو کن آئینی شقات کی بنیاد پر جائز و درست کہا جا سکتا ہے؟ آئین کی کس شق یا اصول میں فوج سے سیاسی مذاکرات کا اصول متعین کیا گیا ہے؟ اور کون سی سیاست میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کے ووٹ لے کر حکومت بنانے والے لیڈر ’غیر سیاسی‘ قرار دے کر ماننے سے انکار کیا جا سکتا ہے؟ اس حوالے سے سب سے دلچسپ سوال تو یہی ہوگا کہ کیا مریم نواز انہی جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں فوج سے مذاکرات کریں گی جن پر ان کے والد اپنے خلاف سازش کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں؟

یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ مریم نواز مذاکرات کے لئے موجودہ حکومت ختم کرنے کا مطالبہ کس سے کر رہی ہیں؟ کیا وہ چاہتی ہیں کہ فوج، عمران خان کو اقتدار سے علیحدہ کرے پھر سیاسی انتظام کے لئے مسلم لیگ (ن) بلکہ نواز شریف کی ’ہدایت‘ کے مطابق اقدام کرے؟ اس بیان میں جمہوریت اور آئین سے محبت کہاں ہے؟ بہتر ہوگا کہ مریم نواز اپنے سیاسی مؤقف سے رجوع کریں اور ’ووٹ کو عزت دو‘ کے بیانیہ کو خود ہی تباہ کرنے کا سبب نہ بنیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1680 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali